حکومت کے ساتھ ڈیل کرنی ہوتی تو گرفتاریوں سمیت دیگر تکالیف کیوں برداشت کرتے : وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ اگرہمیں حکومت کے ساتھ ڈیل کرنی ہوتی تو گرفتاریوں سمیت دیگر تکالیف کیوں برداشت کرتے، ایک بات میں کافی عرصے سے کرتا تھا اب وہ بات چیف جسٹس کھوسہ صاحب نے کر دی ہے انہوں نے خود کہا ہے کہ عدالتوں کا کام آئینی دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنا ہے۔ یہ کس آئین اور قانون میں ہے کہ جرم کراچی میں ہوں اور تحقیقات راولپنڈی میں ہو رہی ہو۔آصف علی زرداری اور فریال ٹالپور جیل میں ہیں ریمانڈ ختم ہوگیا نیب نے جو تحقیقات کرنی تھی وہ کرلیں پھر بھی ان کو ناحق جیل میں رکھا ہوا ہے آصف علی زرداری حکومتی بنائے ہوئے میڈیکل بورڈ کی سفارش پر اسپتال میں ہیں ان کے وہ ڈاکٹر جو ان کو سالوں سے چیک کرتے ہیں ان تک رسائی دی جائے ہم حکومت سے کوئی احسان نہیں اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سابق صوبائی وزیر و پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری جاوید ناگوری اور نائب صدر سردار خان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پا ر ٹی کی قیا دت کو پچھلے کئی دنوں سے میڈیا کے ذریعے عجیب صورتحال پیدا کی جارہی ہے اوریہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پیپلزپارٹی کوئی ڈیل کر رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ اگرہمیں حکومت کے ساتھ ڈیل کرنی ہوتی تو گرفتاریوں سمیت دیگر تکالیف کیوں برداشت کرتے۔سعید غنی نے کہا کہ انصاف کے انوکھے پیمانے پیپلز پارٹی کے لئے کیوں چنے جاتے ہیں،حکومتی اراکین کے کیسز ان کی مرضی سے چلائے جاتے ہیں ان کے ججز ان کی مرضی سے تعینات کیے جاتے ہیں۔ حکومت اپنی نااہلی اور نالائقی کو دبانے کے لئے پیپلزپارٹی کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے لوگوں کے جو آئینی حقوق ہیں ان کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ سعید غنی نے کہا کہ ایک بات میں کافی عرصے سے کرتا تھا اب وہ بات چیف جسٹس کھوسہ صاحب نے کر دی ہے۔ انہوں نے خود کہا ہے کہ عدالتوں کا کام آئینی دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنا ہے بتایا جائے کہ یہ کس آئین اور قانون میں ہے کہ جرم کراچی میں ہوں اور تحقیقات راولپنڈی میں ہو رہی ہو۔ سعید غنی نے کہا کہ چھ مہینے ہونے والے ہیں آصف علی زرداری اور فریال ٹالپور جیل میں ہیں، ریمانڈ ختم ہوگیا نیب نے جو تحقیقات کرنی تھی وہ کرلیں پھر بھی ان کو ناحق جیل میں رکھا ہوا ہے۔ آصف علی زرداری حکومتی بنائے ہوئے میڈیکل بورڈ کی سفارش پر اسپتال میں ہیں ان کے وہ ڈاکٹر جو ان کو سالوں سے چیک کرتے ہیں ان تک رسائی دی جائے۔ ہم حکومت سے کوئی احسان نہیں اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کرکے پنڈی کی جیلوں میں رکھا گیا ہے کراچی سے جانے والی ان کی فیملی و کا کتنا خرچہ ہوتا ہوگاکئی لوگوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ آصف علی زرداری کے خلاف گواہی دیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مزید غلط مثالیں قائم نہ کی جائیں کسی صوبے کو یہ پیغام دیا جائے کہ میں آپ کی عدالت اور جیلوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی ایما پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے صرف ان کی اناکو تسکین پہنچانے کے لیے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو تکلیف دی جارہی ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت ہے تو ان کو خدشہ تھا، جس کے لیے انکوائریاں اور جیلیں پنڈی منتقل کی گئیں اگر یہ خدشات ہیں تو کے پی اور پنجاب میں حکومت رکھنے والوں کے مقدمے سندھ منتقل کئے جانے چاہئیں اگر یہ پیمانہ ہوتا تو ہم شاید مطمئن ہوجاتے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم نے عدالتوں کا سامنا کیاپہلے بھی کیا اب بھی کررہے ہیں پہلے بھی لوگوں نے پیر پکڑ کر معافی مانگی اب بھی وہ معافیاں مانگیں گے۔ ایک سوال پر وزیر اطلاعات ومحنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ میرے گھر پر چھاپے اور اربوں ڈالر ملنے کی خبر مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے ملی اس کے ذریعے میری کردار کشی کی گئی، جس پر ایف آئی اے کو شکایت کی ہے شبہ تو ہے مگر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے سوچا شاید میں پریشان ہوگا مگر میں نے انجوائے کیا۔وزیر اعلیٰ سندھ کے خلاف ٹھیلے والے کے بیان کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ٹھیلے والے کے بیان پر رپورٹ آگئی ہے مگر میری نظر سے نہیں گزری۔ اس معاملے میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہیئے۔سعید غنی نے کہا کہ تھر میں بچوں کی ہلاکت واقع ہوئی ہیں مگر اتنی نہیں ہیں تھر دور دراز کے علاقوں پر مشتمل ہے اسپتال کی رسد سے قبل موت ہوجاتی ہے۔ اب وہاں اسپتالوں کی حالت بہتر ہوئی ہے پھر بھی اس پر دیکھا جائے گا۔اپوزیشن لیڈر فردوس نقوی کی پریس کانفرنس میں این آئی سی وی ڈی پر اٹھائے گئے سوالات پر سعید غنی نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی سے سندھ کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے عوام کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سندھ کے ہر اس منصوبے کو متنازعہ بنانے کی سازش کررہی ہے، جس سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہو۔