ڈاؤ یونیورسٹی کے نئے انسٹی ٹیوٹ، جدید سہولتوں سے آراستہ ایڈمیشن سیل، پانچویں منزل ایڈمن بلاک اور ڈے کیئر سینٹر کے افتتاح

وزیرِصحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچو ہو نے ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے لیے جاری مہم میں توسیع کا عندیہ دے دیاہے، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں نئے انسٹی ٹیوٹ، جدید سہولتوں سے آراستہ ایڈمیشن سیل، پانچویں منزل ایڈمن بلاک اور ڈے کیئر سینٹر کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات چیت اورر سمی افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، ان کا کہنا تھا کہ ٹائیفائیڈ مہم میں اسکول کے بچوں اور اسکول کے باہر بچوں تک ویکسینیشن کی فراہمی ممکن بنائی جارہی ہے، ابھی پانچ دن باقی ہیں، مثبت نتائج برآمد کرنے کیلئے مہم کے دن بڑھائے جاسکتے ہیں، پاکستان میڈیکل کمیشن کا قیام غیر جمہوری اقدام ہے، جمہوریت میں سب کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے، اقربا پروری نہیں کی جاتی، کمیشن میں صرف پنجاب سے ممبرز لیے گیے ہیں، قبل ازیں افتتاحی تقریب سے ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی، پرو وائس چانسلر پروفیسر زرناز واحد، ڈاؤ میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر امجد سراج میمن  نے خطاب کیا، چیف انفارمیشن آفیسر صہیب شمس نے ڈاؤ آن لائن ایجوکیشن سسٹم DOES))کے متعلق پریزینٹیشن پیش کی، اس موقع پر پرو وائس چانسلر پروفیسر کرتار ڈوانی، رجسٹرار ڈاؤ یونیورسٹی پروفیسر امان اللٰہ عباسی،وائس پرنسپل ڈاؤ میڈیکل کالج ڈاکٹر شمائلہ خالد، پروفیسر نصرت شاہ، پروفیسر نواز لاشاری، پروفیسر رخسانہ روبین اور پروجیکٹ ڈائریکٹر عبدالرحیم خانزادہ سمیت دیگر موجود تھے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو ہونے کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی نے آن لائن ایجوکیشن سسٹم کے ذریعے طبی تعلیم کے شعبے میں بڑا کام کردیا ہے، اس سے نہ صرف فریش طلبا کو آن لائن لیکچرز سمیت دیگر سہولتیں دستیاب ہونگی بلکہ دوسری جانب صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک بیماریوں کے بارے میں آگہی اور تازہ طبی معلومات پہنچ سکیں گی، ڈینگی جیسے امراض سے نمٹنے اور ان کے بارے میں آگہی دی جاسکے گی، انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ہیپا ٹائٹس کے مرض کے بارے میں دور دراز تک طبی معلومات نہیں تھیں، جس سے مریضوں کا دباؤ کراچی کیطرف منتقل ہوتا تھا، انہو ں نے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی کو طبی تعلیم کے شعبے میں انقلاب برپا کرنے پر مبارک باد دی اور کہا کہ وہ طبی تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کر تے رہیں گے، پروفیسر محمد سعید قریشی نے اس موقع پر خطاب میں کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی کا ماڈرن اور ڈائنامک یونیورسٹی بننے کا سفر درست سمت میں جاری ہے، آج نئے پروفیشنل ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ اور دیگر اداروں کا قیام اس کے سلسلے میں  اہم سنگِ میل ہیں، ڈاؤ یونیورسٹی کو دنیا کی بہترین یونیورسٹیز کی صفوں میں لانے کا عزم رکھتے ہیں، ڈاؤ میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر امجد سراج میمن نے کہا کہ 2030تک ریجن کی دس بہترین میڈیکل یونیورسٹیز میں شامل ہونے کاہدف حاصل کرلیں گے،بعد ازاں میڈیا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ وہ سابق صدر آصف علی زرداری کی صحت کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کر سکتیں، ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان جمہوری نظام کو نامزدگیوں کے ذریعے چلانا چاہتے ہیں، جمہوریت میں اقربا پروری چلتی ہے نہ نامزدگی، پاکستان میڈیکل کمیشن پر ہمارا اہم اعتراض یہ ہے کہ ہمارے صوبے کے طلبا تذبذب کا شکار ہیں، یہاں کی نجی طبی تعلیمی جامعات اور میڈیکل کالجز کو آزادانہ داخلوں کی اجازت ہوگی، تو دوسرے صوبوں سے لوگ یہاں آکر تعلیم حاصل کریں گے اور طبی خدمات کا فریضہ انجام دینے اپنے علاقوں اور صوبوں کو واپس چلے جائیں گے، ہمارے یہا ں پہلے ہی ڈاکٹرز کی کمی ہے جو بعد ازاں قلت میں تبدیل ہوجائے گی، حکومت کے فیصلوں کے خلاف جو جمہوری آوازیں سنائی دے رہی ہیں، ہم ان کی حمایت کرتے ہیں، ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ پولیوکے جراثیم صرف سندھ کے سیوریج کے پانی میں نہیں پورے پاکستان کے سیوریج کے پانی میں موجود ہیں، انہو ں نے کہا کہ کتوں کی نس بند ی اور اینٹی ریبیز ویکسین کرنے کی مہم جاری ہے اور اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈز کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں، تاہم یہ ضرور کہنا ہے عوام سے کہ وہ کتوں کے حوالے سے بھی احتیاط کریں اور ڈینگی سے بھی بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کریں، اینٹی موسکیٹو لوشن جسم پر لگائیں، حکومت بڑے پیمانے پر اقدامات کرے، انہوں نے کہا کہ صوبے میں دواؤں کی خریداری کے لیے قائم پروکیورمنٹ کمیٹی بہتر کام کر رہی ہے، اسے مزید بہتر بنایا جارہا ہے، انہو ں نے کہا کہ خواتین کو ہر شعبے میں آگے آنا چاہیے، ڈاؤ نے ڈے کئیر سینٹر قائم کرکے مثال قائم کردی ہے کہ طبی شعبے میں خدمات انجام دینے والی خواتین کے بچوں بہترین ماحول میں پرورش ہوسکتی ہے، اس سے پہلے ڈاکٹر عذرا فضل پیچو ہو کی ڈاؤ یونیورسٹی آمد پر وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی اور دیگر فیکلٹی ممبرز نے ان کا استقبال کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں