قومی ٹیم کی شکست پر سلمان بٹ کی تنقید، محمد وسیم کا دفاع

قومی کرکٹ ٹیم کی آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست پر جہاں سلمان بٹ نے ٹیم کی سلیکشن پر تنقید کے تیر برسا دیے وہیں محمد وسیم کھلاڑیوں کے دفاع میں سامنے آگئے۔

یاد رہے کہ آسٹریلیا نے 2 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کے پہلے میچ میں قومی ٹیم کو اننگز اور 5 رنز سے شکست دے دی تھی
کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں سابق کپتان سلمان بٹ نے آسٹریلیا میں تجربہ کار کھلاڑیوں کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ ایسی جگہ نہیں جہاں آپ تجربات کریں اور آنے والے سالوں کی پلاننگ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں بہترین ٹیم اتارنی چاہیے نہ کہ وہ جن کو 10 سال بعد پاکستان کے لیے مستقل کھیلنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کنڈیشنز کو مد نظر رکھتے ہوئے بہترین کھلاڑیوں ٹیم میں منتخب کرنا چاہیے کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ میں اگر مگر نہیں چلتا، یہاں اسپیشلسٹ کھلاڑی چاہئیں
ایک سوال کے جواب میں سابق کپتان نے کہا کہ کرکٹ ان کا جنون ہے اور یہی جنون ہمیشہ بہتر سے بہتر کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

آسٹریلوی کنڈیشنز پر گفتگو کرتے ہوئے سلمان بٹ نے کہا کہ یہاں کی پچز بیٹنگ کے لیے ساز گار ہوتی ہیں، یہاں یہ معلوم ہوناچاہیے کہ باؤنس سے کس طرح نبرد آزما ہونا ہے؟ کیونکہ اگر کھلاڑی کو یہ معلوم ہوجائے کہ کس گیند کو کیسے کھیلنا ہے تو وہ آسٹریلیا میں کامیاب ہوگا۔

دوسری جانب سابق ٹیسٹ کرکٹر اور سلیکشن کمیٹی کے رکن محمد وسیم آسٹریلیا سے شکست کے بعد بھی نوجوان ٹیم کا دفاع کیا اور ان سے مستقبل میں اچھے نتائج کی امید لگالی۔

ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑی نوجوان اور ناتجربہ کار ہیں، تھوڑا تحمل کا مظاہرہ کریں، یہی کھلاڑی مستقبل میں اچھے نتائج دیں گے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں محمد وسیم نے کہا کہ کینگروز کے خلاف نوجوان کرکٹرز نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، نسیم شاہ اور شاہین آفریدی کی سب ہی نے تعریف کی
یک سوال پر رکن سلیکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ برسبین ٹیسٹ میں محمد رضوان اور بابر اعظم کی کارکردگی پاکستان کے لیے مثبت باتیں ہیں، امید ہے یہ کھلاڑی اور بہتر کھیل پیش کریں گے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ آسٹریلیا کو اس کے ہوم گراؤنڈ میں شکست دینا پہلے ہی مشکل تھا جبکہ پاکستان ٹیم میں بھی تجربے کی کمی ہے، تاہم آئندہ بہتر کرکٹ کی امید ہے۔

یاسر شاہ کے دفاع میں وسیم کا کہنا تھا کہ وہ اس لیے ناکام ہو رہے ہیں کیوں کہ فاسٹ بولر شروع میں نئے گیند سے وکٹ نہیں لے رہے، اسپنرز کا رول اس وقت شروع ہوتا ہے جب اوپر سے فاسٹ بولر 3 سے 4 وکٹیں حاصل کرلیتے ہیں لیکن پاکستانی بولرز نئے گیند سے وکٹ حاصل نہیں کرپا رہے
انہوں نے کہا کہ محمد عباس پاکستان کا بہترین بولر ہے، اس کو نہ کھلانے کا فیصلہ یقینی طور پر ٹیم مینجمنٹ نے سوچ سمجھ کر کیا ہوگا، ان کو لگا ہوگا کہ عمران بہتر فارم میں ہے، اس لیے عمران کو موقع دیا گیا۔

سلمان بٹ پہلے 05-2004 اور پھر 10-2009 میں قومی ٹیم کے ہمراہ آسٹریلیا کا دورہ کر چکے ہیں۔

آسٹریلوی سرزمین پر سلمان بٹ نے 6 میچز کھیلے اور مجموعی طور پر 42.08 کی اوسط سے 505 رنز بنائے جن میں 2 سنچریاں بھی شامل ہیں۔

محمد وسیم نے وسیم اکرم کی قیادت میں 1999 میں قومی ٹیم کے ہمراہ آسٹریلیا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے 2 میچز کھیلے جن میں مجموعی طور پر 32.25 کی اوسط کے ساتھ 129 رنز بنائے جہاں ان کا سب سے بڑا اسکور 91 رنز تھا۔