عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی تھنک ٹینک کا اجلاس

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی تھنک ٹینک کا اجلاس صوبائی صدر شاہی سید کی زیر صدارت مردان ہاؤس میں منعقد ہوا، اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور مشترکہ اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک پر تفصیلی بحث ہوئی اور ملک کی موجودہ معاشی صورتحال جس میں مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر غریب آدمی پر ہونے والے اثرات سمیت مختلف مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے اختتام کے بعد صوبائی صدر شاہی سید نے پریس کانفرس کی شاہی سید نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ تبدیلی سرکار نے پانچ سالوں میں ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دینے کا وعدہ کیا، آج موجودہ حکومت کو ڈیڑھ سال کا عرصہ ہوچکا ہے روزگاراور گھر تو دینا دور کی بات موجودہ حکومت نے عوام کو بے روزگار اور غریبوں کو بے گھر کردیا ہے، مہنگائی کے اس ہوشربا اضافے کے پیش نظربے روزگار اور تعلیم یافتہ نوجوان بدترین حالات کا شکار ہیں،جو لوگ عرصہ دراز سے ریڑھیوں اور دکانوں پر کاروبار کررہے تھے ان پر ناجائز قابضین کا الزام لگا کر انھیں بے روزگار کردیا گیاہے،پاکستان میں اس وقت مہنگائی نے وہ ظلم ڈھائے ہیں کہ اس کے اثرات نسل در نسل دیکھے جائیں گے،روزانہ کی بنیاد پر کمانے والے مزدوراور کسان بھائی فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے ہیں، شاہی سید نے مزید کہا کہ نئے پاکستان بنانے کا دعویٰ کرنے والی تبدیلی سرکار ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے، عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے دبا دیا گیا ہے، ملک کی معیشت تباہ کردی گئی ہے، قرض لینے پر موت کو ترجیح دینے والے سلیکٹڈ حکمران نئے قرضے حاصل کررہے ہیں جس سے عوام مزید مہنگائی کے بوجھ تلے دب رہے ہیں،نئے پاکستان کا عویٰ کرنے والوں نے سہانے خواب دکھا کر غریب اور سفید پوش طبقے کی کمر توڑ دی ہے،موجودہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے مڈل کلاس طبقہ ختم ہورہا ہے، کرپشن کا خاتمہ اور تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے کرپشن کی انتہا کردی ہے جس کی زندہ مثال پشاور کا بی آر ٹی منصوبہ ہے،نیازی صاحب 2018 کے الیکشن سے پہلے فرماتے تھے کہ ملک میں روزانہ اربوں روپوں کی کرپشن ہورہی ہے ہمیں بتایا جائے کہ پچھلے ڈیڑھ سال میں اُن اربوں روپوں کا کیا ہوا؟۔سلیکٹڈ حکمران بتائیں کہ انھوں نے اپنے دور حکومت میں عوام کو کونسی سہولیات فراہم کیں؟۔ملک کی معیشت میں بڑا حصہ زراعت کا ہے نا اہل حکمرانوں کی ناکام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے کاشتکار پریشان ہیں،حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کی وجہ سے سبزیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے جبکہ ملک کا مشیر خزانہ ٹماٹر اور پیاز کی قیمتوں سے بھی لا علم ہے،ہر ماہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے صنعتیں بند ہورہی ہیں اور بیروزگاری میں اضافہ ہورہا ہے،وفاقی وزراء آئے دن بیانات دیتے ہیں کہ عوام کو روزگار فراہم کرنا حکومت کا کام نہیں ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ روزگار فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں،2018 کے انتخابات کیلئے جو RTS سسٹم بنایا گیا تھا عوام کو بتایا جائے کہ اس سسٹم پر قومی خزانے سے کتنی رقم ضائع ہوئی اور RTS سسٹم کی ناکامی کی وجوہات سامنے لائی جائیں۔سلیکٹڈ وزیر اعظم نے پچھلی حکومت کے منصوبوں پر نئی تختیاں لگانے کے علاوہ کیا کام کیا؟۔نیازی صاحب صرف یوٹرن لینے میں چیمپئن ہیں۔ وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان کی بدحواسیاں بتا رہی ہیں کہ ان کے قدموں کے نیچے سے زمین سرک رہی ہے، موجودہ حکمرانوں کی حرکتیں عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا سبب بن رہی ہیں،ملک چلانا سیاستدانوں کا کام ہے بدقسمتی سے ملک کو غیر سیاسی لوگوں کے حوالے کردیا گیا ہے، ملک میں جب تک جمہوریت اور جمہوری ادارے مضبوط نہیں ہونگے اس وقت تک یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا مضبوط جمہورت مضبوط معیشت کی ضمانت ہے، عوامی نیشنل پارٹی کی تاریخ گواہ ہے کہ اے این پی نے ہر دور میں آئین کی بالا دستی کیلئے جدوجہد کی ہے، ابھی بھی وقت ہے کہ تمام جمہوری قوتیں ملکر جمہوریت کی اصل روح کی بحالی کیلئے جدو جہد کریں اور تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں۔ اے این پی کے صوبائی صدر شاہی سید نے مزید کہا کہ 29نومبر بروز جمعہ،2018 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف صوبائی الیکشن کمیشن پر مظاہرہ ہوگا، سلیکٹڈ، ناکام اور نا تجربہ کار حکومت کو مزید مہلت دینے سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا، ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ا س حکومت سے ہماری جان نہ چھوٹ جائے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک میں فوری آزادانہ اور شفاف انتخابات آزاد الیکشن کمیشن کے زیر نگرانی کرائے جائیں۔جاری کردہشعبہ ئ نشرو اشاعت عوامی نیشنل پارٹی سندھ


اپنا تبصرہ بھیجیں