ملک میں معاشی ، سماجی اورسیاسی صورت حال عجیب دوراہے پر ہے

ط م صدیقی

ملک میں معاشی ، سماجی اورسیاسی صورت حال عجیب دوراہے پر ہے جس کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑنا شروع ہوگیا ہے۔۔۔بے یقینی کی صورت حال نے جہاں تجارت ، کاروبار اور صنعتوں کے پہیے کی رفتار انتہائی سست کردی ہے وہاں اداروں کی نااہلی، غفلت اور کرپشن جیسے عناصر نے عوام کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کیا ہوا ہے۔۔ حیرت انگیز طور پر آئینی طور پر جن اداروں کو براہ راست عوامی امور میں مداخلت کی اجازت نہیں وہ ان کاموں میں بلادریغ مداخلت پر تلے ہوئے ہیں جو عوام میں ان کے لئے منفی جذبات کو جنم دے رہی ہے۔۔۔ایسے میں جب پاکستان انتہائی نازک دور سے گزررہا ہو اور ریاست کے مضبوط ترین فعال اداروں کے خلاف عوام جذبات ابھرنے لگیں یا ابھارنے کی کوشش کی جانے لگے تو یقینا انتہائی تشویش کی بات ہے۔۔۔ معاشرے میں پھیلی برائیوں کو ختم کرنے کے لئے ایک مضبوط پالیسی ، نظام اور باکردار افراد کی ضرورت ہوتی ہے جن پر عام آدمی کا اعتماد ہو اور وہ ان کے اقدامات کو دل و جان سے قبول کرتے ہیں لیکن بدقسمتی کہ عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے والے یہ ادارے کرپشن اور سیاسی مفادات کے لئے کام کرنے لگے جس میں یقینا حکومتوں میں آنے والی سیاسی جماعتوں کا کردار رہا ہے۔۔۔سندھ جیسے صوبے میں بھی فعال سیاسی جماعت کی فعال حکومت کی کارکردگی عوام کے لئے درد سر بنتی جارہی ہے۔۔۔ وجہ یہ بتائی جارہی ہے غیر متعلقہ اداروں کی مداخلت بڑھ رہی ہے اور نیب ، ایف آئی اے اور دیگر اداروں نے صوبائی محکموں کے افسران کو ڈرا دیا ہے اور وہ کوئی کام سرانجام دینے سے معذور ہیں ۔۔۔سوال یہ ہے کہ کیا مفاد عامہ کےلئے کئےجانے والے کام کی وضاحت نہیں کی جاسکتی ۔۔اگر ایمانداری سے ان کاموں کےلئے جاری فنڈز کو استعمال کرکے عوام کو سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں تو ان افسران کو خوفزدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے لیکن یہاں بھی معاملہ نیت اور عزم کا نظر آتا ہے ۔۔اشیائے ضرورت کی قیمتوں کا تعین بھی غیر سنجیدگی سے کیا جارہاہے اور ان قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا کوئی میکنزم نظر ہی نہیں آتا۔۔صورت حال تشویشناک حد کو چھورہی ہے کہ عوام سے سول انتظامیہ ا ور اداروں کے حکام و ملازمین کا رابطہ ختم ہوتا جارہا ہے یا لوگ اتنا تنگ آگئے ہیں کہ وہ ان اداروں کا رخ ہی نہیں کررہے اور ان کے دانست میں اب احتجاج کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔۔احتجاج کی صورت میں متعلقہ ادارے اور سول انتظامیہ اس میں سامنے نہیں آتی اور سیکیورٹی اداروں کو براہ راست سامنے ڈیل کرانے کی کوشش سے نیا تاثر جنم لے رہا ہے۔۔وہاں سیکیورٹی کے ادارے چاہے پولیس ہو یا رینجرز وہ بھی اسی معاشرے میں رہنے والے لوگ ہیں ان کو یہ محسوس ہورہا ہے کہ ہرکام ان سے ہی کرایا جارہا ہے متعلقہ ادارے تو کچھ کرہی نہیں رہے تو وہ جو اختیارات ان کے پاس نہیں وہ اسے بھی استعمال کرجاتے ہیں اور یہی وہ عمل ہے جو یہ تاثر پیدا کررہا ہے کہ سول امور میں مداخلت کی جارہی ہے ۔۔جرائم کی صورت حال کا جائزہ لیں تو حفاظت پر مامور اداروں کے اہلکار بھی قتل ، ڈکیتی، قبضہ اور بھتہ خوری جیسے جرائم میں ملوث ہونے لگے ہیں ۔۔۔گزشتہ کئی ماہ میں پولیس اہلکار ڈکیتیوں اور اسٹریٹ کرائمز میں ملوث پائے گئے اسی طرح عدالتوں میں قبضہ، بھتہ، اغوا برائے تاوان سمیت مختلف جرائم میں ملوث پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کے خلاف مقدمات زیر سماعت ہیں ۔۔۔فضاء کچھ اس طرح کی بن رہی ہے کہیں ہم کسی سنگین صورت حال میں تو نہیں پھنس رہے جہاں عوام اور اداروں کو آمنے سامنے لانے کی کوئی سا زش کی جارہی ہے ۔۔۔۔ملک کےبااختیار حلقوں سنجیدہ طبقے اور باشعور افراد کو یہ غورو فکر کرنا ہوگا کہ موجودہ صورت حال اور خطے میں موجود معاملات میں ملک کی بہتری کے لئے کن ا ندرونی معاملات کو بہتر بنانے کےلئے فور ی طور پر کن اقدمات کی ضرورت ہے۔۔۔