جامعہ حبیب کی جانب سے ’صریرِ خامہ‘پہلے ادبی میلے کا انعقاد

 جامعہ حبیب کے ’آرایش ای خیال کلب ‘کی جانب سے پہلے ایک روزہ ادبی میلے کا انعقاد (۲۲نومبر،۲۰۱۹) کیاگیا۔ جس کا نام صریرِ خامہ رکھا گیا جس کے لفظی معنی قلم کی آواز ہے اور یہ لفظ مرزا غالب کی شاعری سے ماخوذ ہے:

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

غالب صریرِ خامہ نوائے سروش ہے

 ادبی میلے کے انعقاد کا مقصد اردو ادب کے فروغ اور مختلف زبانوں میں تیار کردہ ادب کو شامل کرنا تاکہ تمام ادبی شائقین کے مفادات کو یکجا کیا جاسکے اور مزید یہ کے اس کی مدد سے طلبا اور اساتذہ کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جاسکے جس کی مدد سے ادبی ورثہ اور ثقافتی جڑوں کو ممتاز مصنفین، فنکاروں اور ساتھی تخلیق کاروں کے ساتھ ملکر فروغ دیا جاسکے۔ پروگرام کے لئے اجتماعات جامعہ کے کیمپس میں کئی مقامات پر منعقد ہوئے جس میں لیکچر ہال، کلاس رومز اور ایچ ایم حبیب آڈیٹوریم شامل تھے۔

 میلے کے انعقاد کی مدد سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی تخلیقات کو جامعہ حبیب اور باہر سے آئے افراد کے درمیان مزید روابط قائم کرنے کا موقع ملا۔ جامعہ کے طلبا اور جامعہ حبیب کے المنائی نے بھی مباحثے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ افتتاحی تقریب میں ’آرایش ای خیال ‘کی صدر سارہ خان اور کلب کے سرپرست اعلی جناب آصف فرخی اور مہمان خصوصی ڈاکٹر نعمان نقوی نے خطاب کیا۔ تقریب میں شامل کچھ اہم شخصیات میں وکیل اور سیاسی کارکن جبران ناصر بھی شامل تھے جبکہ اردو ناول نگار زاہدہ حنا اور ڈرامہ نگار حسینہ معین بھی میلے میں شریک ہوئیں۔

 میلے میں مختلف فنکاروں اور مصنفین پر مشتمل نو مختلف مصنفین شامل تھے۔ پینل میں شامل اردو کے ادیب، مصنفین اور دیگر نے اردو کی شاعری کے بدلتے رجحانات اور قلم واقعہ زیادہ طاقتور کے عنوان سمیت دیگر پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جبکہ دیگر پینلز نے سائنس فکشن، مثالی دنیا، بااختیار خواتین ، ڈرامہ، مشاعرہ، ماحولیات، توانائی، معیشت اور دیگر موضوعات پر بھی سحر حاصل بحث کی گئی۔

 پینلز کی بحث کے اختتام کے بعد جناب فواد خان اور ان کی ٹیم نے قدیم فن قصہ بیانی ’دستان گوئی‘ کو پیش کیاجس کے بعد ایک مشاعرہ منعقد ہوا جس میں جناب افضال احمد سید نے صدارت کے فرائض انجام دیے جبکہ نظامت جناب انعام اللہ ندیم نے کی۔

 ادبی اقدار اور ثقافت کے فروغ کے لئے ایک روزہ میلہ جامعہ حبیب کی بنیادی اقدار کی ایک حقیقی مثال تھی جس نے جامعہ کے فلسفے یوشن (خود سوچی سمجھی سوچ) کے جوہر کو اجاگر کیا۔ جبکہ صریر کامہ کی مدد سے کارکنوں، فن کاروں اور تخلیق کاروں کو ایک ایسا پلیت فارم مہیا کیا گیا جہاں سب نے اپنا اظہار خیال کیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پروگرام ادب کی خوبصورتی کو منانے کے لئے منعقد کیا گیا تھا