امریکی فوج کو سیکیورٹی خدشات، ٹک ٹاک کا جائزہ شروع

امریکا کی فوج نے سیکیورٹی خدشات سامنے آنے کے بعد فن ایپ ٹک ٹاک کی سیکیورٹی کا جائزہ لینا شروع کردیا۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی تھنک ٹینک امریکن انٹرپرائز انسٹیٹیوٹ کے ایک ایونٹ کے دوران امریکی فوج کے سیکریٹری ریان میک کارتھی کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹ کے قانون ساز کی ہدایت پر یہ تحقیقات کی جارہی ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹر چک شومر کا مطالبہ تھا کہ فوج میں بھرتی ہونے والے نوجوانوں میں اس ایپ کے استعمال سے متعلق پیدا ہونے والے ممکنہ خطرے کا جائزہ لیا جائے۔

میک کارتھی کو لکھے گئے اپنے ایک خط میں چک شومر کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے ماہرین نے ٹک ٹاک کی جانب سے جمع کیے گئے ڈیٹا پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں ایک صارف کے ویڈیو مواد، بات چیت، اس کا آئی پی ایڈریس اور اس کی لوکیشن سے متعلق ڈیٹا شامل ہے۔

چک شومر نے اس بات پر بھی خدشہ ظاہر کیا کہ چینی قانون اب نجی کمپنیوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ خفیہ معلومات سے متعلق حکومت کی مدد کریں۔

علاوہ ازیں امریکا کی کمیٹی برائے بیرونی سرمایہ کاری (سی ایف آئی یو ایس) نے امریکی میوزیکل ایپ کو خریدنے پر ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بیٹ ڈانس ٹیکنالوجی کے ایک ارب ڈالر کا قومی سلامتی جائزہ شروع کیا ہے
اس حوالے سے جب ٹک ٹاک سے رابطہ کیا گیا تو اس نے اس خبر پر رد عمل نہیں دیا۔

کمپنی کی جانب سے متعدد مرتبہ یہ باور کروایا جاچکا ہے کہ وہ ایک آزاد ادارہ ہے اور اس کا چینی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے تاہم اس کے باوجود اور امریکی گانگریس کو اس کے شہریوں کے ڈیٹا کی سیکیورٹی کے حوالے سے مطمئن کرنے میں ناکام رہی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں ٹاک ٹاک جنرل مینیجر برائے امریکا وینیسا پپاز کا کہنا تھا کہ کمپنی کے ڈیٹا سینٹر چین سے باہر ہیں، امریکی صارفین کا ڈیٹا امریکا میں ہی محفوظ کیا جاتا ہے