خوشبوؤں کی شاعرہ پروین شاکر کی67ویں سالگرہ

محبت اور خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کی آج 67ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

اُردو کی معروف شاعرہ پروین شاکر کی سالگرہ کے سلسلے میں آج ادبی حلقوں میں اُن کے مداح کیک کاٹیں گے اور مختلف تقریبات کا اہتمام بھی کیا جائے گا، جن میں پروین شاکر کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

اُردو ادب کے منفرد لہجے کی حامل پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری لینے کے بعد وہ سول سروس آف پاکستان میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہیں
انہوں نےکچھ عرصہ جامعہ کراچی میں تدریس کے فرائض بھی سر انجام دیے۔ پروین شاکر کو اردو ادب کی منفرد لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت کم عرصے میں اندرون اور بیرون ملک میں بے پناہ شہرت حاصل ہوئی، انہیں پرائڈ آف پرفارمنس اور آدم جی ایوارڈز سے بھی نوازا جا چُکا ہے۔

پروین شاکر کی شاعری اُردو ادب میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا تھا، اُن کی منفرد شاعری کا موضوع عورت اور محبت ہے، ان کے مجموعہ کلام میں خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہ تمام قابلِ ذکر ہیں۔

دسمبر 1994 کو اُردو ادب کو مہکانے اور ادبی محفلوں میں شعر کی خوشبو بکھیرنے والی پروین شاکر اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے میں موت کی وادی میں چلی گئیں مگر اپنے خوبصورت اشعار کے ذریعے وہ چمن اردو میں ہمیشہ مہکتی رہیں گی۔