آنگن تیڑھا میں ایک جملہ 1958 میں چوہدری آگئے کا مطلب اس زمانے میں ہیڈ کوارٹر کوسمجھ میں آجاتا تو اسی وقت ڈرامے پر پابندی لگ جاتی

ٹی وی ڈرامے،یکسانیت کا شکار، ،جتنی بیہودگی ہوگی اتنی ہی ذیادہ ریٹنگ
آنگن تیڑھا میں ایک جملہ 1958 میں چوہدری آگئے کا مطلب اس زمانے میں
ہیڈ کوارٹر کوسمجھ میں آجاتا تو اسی وقت ڈرامے پر پابندی لگ جاتی۔
لیونگ لیجینڈ انور مقصود کی تلخ و شیریں باتیں
انٹرویو: یاسمین طہٰ

یہ نصف صدی کا قصہ ہے۔دو چار برس کی بات نہیں۔ لیونگ لیجینڈ انور مقصود کا تعارف کن لفظوں میں کیا جائے ان کا ہر کام ہی بہترین ہے۔مزاحیہ ڈراما نگاری ہو یا سنجیدہ تحریریں سب اپنی مثال آپ ہے۔انھوں نے مصوری میں بھی اعلیٰ مقام حاصل کیا ہے،ان کا پہلا شوق ہی مصوری ہے۔لیکن 1967میں جب انور مقصود نے پی ٹی وی کے لئے اپنا پہلا ڈراما مہمان لکھا تو ٹیلی ویژن ناظرین کو یہ اندازہ ہرگز نہ ہوگا کہ آج کا یہ نوجوان مصور مستقبل میں ڈراما نگاری میں پاکستاان کا کتنا بڑا اثاثہ ثابت ہوگا۔آج انور مقصود کا نام کامیاب ترین شستہ او بہترین مزاحیہ لکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔یقیناً وہ والدین کتنے خوش نصیب ہیں جن کا پورا گھرانہ ہی صلاحیتوں کے لحاظ ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔اور انور مقصود کے والدین کے لئے اعزاز کی بات ہے کہ ان کے گھر میں ایسے بچوں کا جنم ہوا جو سب اپنی اپنی فیلڈ میں لاجواب ہیں۔انور مقصود کے بھائی احمد مقصود حمیدی نامور بیوروکریٹ تھے۔ بہنیں فاطمہ ثریا المعروف بجیانے ڈراما نگاری میں نام کمایا،زبیدہ طارق مشہور کوکنگ ایکسپرٹ تھیں،ان کی ایک اور بھن صغریٰ کاظمی معروف ڈریس ڈیزائنر ہیں۔ زہرہ نگاہ کا شاعری میں جواب نہیں۔۔سارہ نقوی معروف سائنسدان اورصحافی ہیں۔ انور مقصود کی بیگم بطور ناول نگار شہرت رکھتی ہیں اور انور مقصود کی آپ بیتی الجھے سلجھے انور بھی تحریر کرچکی ہیں۔انور مقصود کے کامیاب ڈراموں کی فہرست طویل ہے۔جن میں شہرہ آفاق کامیڈی شوز ففٹی ففٹی،شو ٹائم،آنگن تیڑھا،ہاف پلیٹ، فنون لطیفے،شو شا،سلور جوبلی،اسٹوڈیو ڈھائی،اسٹوڈیو پونے تین،اسٹوڈیو چار بیس،تلاش،اس طرح تو ہوتا ہے،کالونی 52،ستارہ اور مہرنساء نادان نادیہ،لوز ٹاک، ماجو میاں  ،کوئی اور ہے،ہم پہ جو گزرتی ہے اور اسٹیج ڈرامے پونے 14 اگست سوا 14 اگست دھرنا،سیاچن اور کیوں نکالا شامل ہیں۔ آنگن تیڑھا میں اکبر کی چودھری صاحب کے گھر آمد کس طرح ہوئی۔اس حوالے سے کراچی میں ناچ نہ جانے اسٹیج کیا جائے گا۔اوصاف کو گذشتہ دنوں انور مقصود نے خصوصی انٹرویو دیا جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
سوال: کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ففٹی ففٹی سے آپ کی شہرت کا آغاز ہوا؟
انور مقصود:ضیاء معین الدین شو سے میں نے باقاعدہ آغاز کیا، 1967 ء میں پاکستان ٹیلی ویژن کا پہلا لانگ پلے لکھا، جس کا نام مہمان تھا، اس کے بعد ضیاء معین الدین کے ساتھ ایک پروگرام ضیاء کے ساتھ کیا، بنیادی طور پر یہ پروگرام ادیبوں کے حوالے سے تھا، اس کے بعد ففٹی ففٹی لکھا، ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ففٹی ففٹی نے مجھے شہرت بخشی۔
سوال: ففٹی ففٹی مزاحیہ پروگراموں میں ایک ٹرینڈ سیٹر ہے، مزاح اور پھکڑ پن میں بہت باریک لائن ہے، آج کل ٹیلی ویژن پر ففٹی ففٹی جیسے مزاحیہ پروگرام کیوں ناپید ہوگئے ہیں؟
انور مقصود:جو حال معاشرے کا ہوتا ہے اس کا اثر ہر ادارے پر پڑتا ہے، آج کل پھکڑ پن لوگوں کو پسند آتا ہے اور ایسے پروگرام ریٹنگ دے رہے ہیں،جن میں پھکڑ پن موجود ہو، جتنی بے ہودگی ہو اتنے زیادہ نمبر ملیں گے، اسی وجہ سے جتنے اچھے لکھنے والے تھے انہوں نے ٹیلی ویژن کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ لیکن میں موجودہ لکھنے والوں کو برا نہیں کہتا، کیوں کہ جس طرح کی کہانیاں آرہی ہیں اس میں اچھے لکھنے والوں کی جگہ نہیں ہے، اور جس طرح کے ڈرامے آرہے ہیں اس میں صورتحال یہ ہے کہ کوئی بھی چینل لگا لیں ڈرامے ایک سے لگتے ہیں، پانچ لڑکیاں، ساس بہو وغیر وغیرہ اور کاسٹ بھی ہر ڈرامے میں تقریبا وہی چل رہی ہوتی ہے۔
سوال: تو کیا اس کا ذمے دار معاشرہ ہے جس نے عوام کو بہتر اور شائشتہ مزاحیہ پروگراموں سے دور کردیا ہے؟
انور مقصود:چینل کے مالکان اس کے ذمے دار ہیں، یہ لوگ کوئی تعلیم یافتہ پروگرام دکھانا چاہتے ہی نہیں، کیونکہ ایسے پروگراموں کو اشتہار نہیں ملتے، پروگرام جتنا بیہودہ ہوتا ہے اشتہار اتنے ہی زیادہ ملتے ہیں، ٹیلی ویژن اشتہاروں پر چل رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ میں نے لوز ٹالک لکھنا چھوڑ دیا ہے، تین سو نوے قسطیں اس کی نشر ہوچکی ہیں،
سوال: پاکستانی سینما کے بارے میں بھی یہ بات کہی جاتی تھی کہ پبلک ڈیمانڈ کے حساب سے مخصوص ڈگر کی فلمیں بنائی جاتی رہیں لیکن اب سینما کا ریواؤل آیا ہے اور لوگ اچھی فلموں کو پسند کر رہے ہیں، یہ تبدیلی کیسے رونما ہوئی؟
انور مقصود:پاکستانی پرانی فلمیں بھی اچھی ہوتی تھی لیکن اس کے بعد سلطان راہی کا دور آیا اور انہوں نے فلم کو تبدیل کردیا، سلطان راہی کے بعد محمدعلی، درپن، وحید مراد کی جگہ فلموں میں نظر نہیں آئی، جیمز بانڈ کی طرح سلطان راہی کا کردار دکھایا جانے لگا جو ظلم کرنے والوں کو مارتا ہے اور یہ کردار پنجاب کے کسانوں میں بہت مقبول ہوا، اسی طرح جب امجد اسلام امجد نے وارث سیریل لکھا تو ٹیلی ویژن پر بھی وڈیروں اور زمینداروں پر ڈرامے شروع ہوگئے، حسینہ معین، بجیا، بانو قدسیہ، اشفاق احمد یہ لوگ اس طرح کے ڈرامے نہیں لکھ سکتے تھے، نورالہدی شاہ نے وڈیروں کے حوالے سے اچھے ڈرامے لکھے، پی ٹی وی اب اتنا نہیں دیکھا جا رہا ہے پاکستان میں 100 چینل ہیں لیکن اس کے باوجود پی ٹی وی کی ویور شپ 80 فیصد ہے۔
سوال: پی ٹی وی کے ڈراموں پر اگر نظر دوڑائیں تو ان ڈراموں کا بھی کوئی معیار نہیں؟
انور مقصود:وہ خود نہیں بنا رہے بلکہ ڈرامے خرید رہے ہیں،
سوال: حسینہ معین کا کہنا ہے کہ ڈائجسٹوں میں چھپنے والے افسانوں پر ڈرامہ بن رہے ہیں جبکہ ڈرامہ نگاری ایک مختلف میڈیم ہے؟آپ کا کیا خیال ہے۔
انور مقصود:جی ہاں ڈائجسٹوں کی کہانیاں اب ڈراموں میں آگئی ہیں کہانی میں یکسانیت ہے اور مکالموں میں بھی یکسانیت ہے وجہ یہ ہے کہ ایک ایک خاتون چھ چھ سیریل لکھ رہی ہیں،
سوال: آپ نے سنجیدہ ڈرامے بھی لکھے اور مزاحیہ ڈرامے بھی لکھے آپ کو اپنا کونسا کام پسند ہے؟
انور مقصود:سنجیدہ کہانی لکھنا آسان ہے مزاحیہ پروگرام لکھنا بہت مشکل ہے، میں نے دور جنون سے سنجیدہ ڈراموں کا آغاز کیا، ناقفس نہ آشیانہ، کالونی ففٹی ٹو، ستارہ اور مہرالنساء، ہاف پلیٹ، یہ کہاں کی دوستی

تھے، اب جو نئے لڑکے اس فیلڈ میں آئے ہیں وہ کام جانتے ہیں مشینیں بھی بہت اچھی ان کے پاس ہیں، ماضی میں ٹیلی ویژن کے ڈائریکٹر تین کیمروں سے شوٹ کرتے تھے اور آؤٹ ڈور بہت کم ہوتا تھا، اب نئے لڑکوں کے پاس جدید کیمرے ہیں جس سے آؤٹ ڈور ریکارڈنگ کی سہولت بہتر ہوگئی ہے،
اوصاف: ٹیلی ویژن پروگراموں کی موجودہ صورتحال کہاں جاکر ٹھہرے گی؟
انور مقصود: تباہی کی طرف جائے گی،
سوال: اسٹو ڈیو ڈھائی، پونے تین، چودہ اگست، سوا چودہ اگست اس طرح کے نام رکھنے کی کیا وجوہات تھیں؟
انور مقصود: ہمارے یہاں کوئی چیز مکمل نہیں ہوتی یہی سوچ کر یہ نام رکھے گئے،
سوال: آپ نے اپنے بہت سارے پروگراموں میں ایک علامتی کردار کو اجاگر کیا، شوشہ، اسٹوڈیو ڈھائی کے ذریعے ایسے کرداروں کی ابتداء کی یہ آئیڈیا ذہن میں کیسے آیا کیا توقع تھی کہ یہ کردار اتنی کامیابی سے ہمکنار ہوں گے؟
انور مقصود: میرے ذہن میں یہ تھا کہ ایسے روز مرہ مسائل جس کا عوام کو سامنا ہوتا ہے ان سے بات چیت کی جائے، اور اس حوالے سے ہر کردار بہت عجیب ہے چاہے بجلی ہو یا واپڈا ہو،
سوال: مصوری آپ کاایک اہم ترین شعبہ ہے آپ کی ڈرامہ نگاری کی وجہ سے لوگ عام طور پر اس سے واقف نہیں ہیں، تو کیا مصوری پہلے شروع کی یا ڈرامہ نگاری؟
انور مقصود: 1958 سے پینٹنگ کر رہا ہوں اور اس کے بعد ڈرامہ نگاری کی طرف آیا،
اوصاف: اللہ میاں نے آپ کے گھرانے کے ہر فرد کو صلاحیتوں سے مالا مال کیا ہے آپ کو کس کا کام زیادہ پسند ہے؟
انور مقصود: میری بہنوں میں بجیا میں ڈرامہ نگاری میں کام کمایا، زہرا نگاہ نے شاعری میں، صغری آپا نے فیشن ڈیزائننگ میں اور زبیدہ آپا نے کوکنگ، جبکہ ایک بھائی بیورو کریٹ تھا
سوال: اتنا تعلیم یافتہ گھرانا ہونا بہت اعزاز کی بات ہے، یہ سب کس کی تربیت کا عمل دخل ہے؟
انور مقصود: میرے نانا کی تربیت نے ہم سب کو اس مقام پر پہنچایا، نانا داغ دہلوی کے شاعر تھے، حیدرآباد دکن میں کمشنر تھے اور جگر مراد آبادی اور دیگر تمام نامور شاعروں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا، جب ہم پاکستان شفٹ ہوئے تو ہمارے سامان کا بیشتر حصہ کتابوں پر مشتمل تھا باقی سب کچھ ہم وہیں چھوڑ آئے تھے،
سوال: آپ نے مختلف اوقات میں حکومتوں کے خلاف بھی لکھا ہے آپ کو مسائل درپیش نہیں رہے؟
انور مقصود: مجھے ہر حکومت سے پرابلم ہے
سوال: ہر حکومت کو آپ سے پرابلم تھی یا آپ کو حکومت سے؟
انور مقصود: ہر حکومت مجھ سے ناراض رہی ہے،
سوال: اسٹیج ڈرامہ پونے چودہ اگست نواز حکومت میں اسٹیج کیا گیا اور اس کے مکالمے حکومت کے خلاف تھے تو کیا ڈرامہ بند نہیں کیا گیا؟
انور مقصود: کچھ عرصے کیلئے ڈرامہ بند کردیا گیا اس کے علاوہ میرا اسٹوڈیو ڈھائی بھی بند کردیا گیا تھا آنگن ٹیڑھا بھی روک دیا گیا تھا،
سوال: آنگن ٹیڑھا میں ایک جملہ تھا جس میں خاتون کردار کی تاریخ پیدائش کا ذکر تھا 1958 اور اس کے ساتھ ہی ارشد محمود کی آمد ہوتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ 1958 میں چوہدری آگئے جو ذومعنی جملہ تھا کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ اس زمانے میں ہیڈ کوارٹر کو اگر اس جملے کا مطلب سمجھ میں آجاتا تو اسی وقت ڈرامے پر پابندی لگ جاتی؟
انور مقصود: جی ہاں، یہ بالکل درست ہے ہیڈ کوارٹر کو وہ جملہ سمجھ نہیں آیا تھا ورنہ اسی وقت یہ ڈراما بند ہوجاتا،
سوال: آپ نے اسٹیج ڈراموں کو ایک نیا رجحان بخشا اور ایک مکمل نئی ٹیم کے ساتھ یہ ڈرامے کیئے گئے جو بے حد کامیاب رہے، آپ کو توقع تھی کہ آپ کے ڈرامے میں نئے بچے اتنی کامیابی سے کر سکیں گے؟
انور مقصود: میں نے اکبر کے کردار کیلئے خاص طور پر اداکار یاسر سے،جس نے یہ کردار ادا کیا تھا،کہا تھا کہ مجھے یہ کردار کرکے دکھاؤ اس نے تین مہینے تک اس کی پریکٹس کی اور مجھے یقین ہے کہ سلیم ناصر زندہ ہوتا تو اس کردار کو دیکھ کر بڑا خوش ہوتا،
سوال: سیا چن میں آپ نے ایم کیو ایم کیلئے بھی بہت کچھ کہا لیکن اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا کیوں کہ ایک تاثر آپ کا یہ قائم ہے کہ آپ ایم کیو ایم کیلئے ہمدردی رکھتے ہیں؟
انور مقصود: میں مہاجر ہوں لیکن ایم کیو ایم میں نہیں، ایم کیو ایم کے دوستوں نے کوشش ضرور کی کہ میں پارٹی میں شمولیت اختیار کروں اسی طرح دیگر جماعتوں کی طرف سے مجھے شمولیت کی دعوت دی گئی لیکن میں نے کوئی پارٹی جوائن نہیں کی، میں پچپن برس سے اس کام سے منسلک ہوں اور میں اپنے اس کام کو نہیں چھوڑ سکتا،ایم کیو ایم کی ابتداء بہت اچھی طرح ہوئی، تعلیم یافتہ لوگوں کو ملازمت فراہم کی گئی، لیکن جب کم تعلیم یافتہ لوگ پاور میں آجاتے ہیں تو وہ نمبر تین تک تو اچھے رہتے ہیں، نمبر دو تک بھی اچھے رہتے ہیں لیکن جب وہ نمبر ون ہوجاتے ہیں تو تباہ ہوجاتے ہیں،
سوال: آپ کا معین اختر کے ساتھ ایک طویل ساتھ رہا ہے اس کے بعد آپ نے لوز ٹالک بند کردیا۔ یہ آپ کی زندگی کا ایک بہت بڑا خلا ہے جو پر نہیں ہوسکتا لیکن کیا نئے لوگوں کے ساتھ یہ پروگرام شروع نہیں کیا جاسکتا؟
انور مقصود: میں نے چار پانچ نئے فنکاروں کے ساتھ یہ پروگرام کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کو لوز ٹالک سے ہٹ کر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور جنوری سے یہ پروگرام ٹیلی کاسٹ ہوگا،
سوال: آپ ایک ایسے چینل کے بورڈ میں شامل ہیں جس کے پروگرام کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتاہے کہ یہ موجودہ حکومت اور فوج کی حمایتی ہے، آپ کا موجودہ حکومت کے بارے میں کیا خیال ہے؟
انور مقصود: ایک آدمی تن تنہا بے ایمانی کے خلاف کھڑاہے عمران خان کا یہی سب سے بڑا پلس پوائنٹ ہے انہیں یہ نہیں کہنا چاہیئے کہ تھا کہ سو دن میں ہم سب ٹھیک کردیں گے کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے یہ بچپنے کی

سوال: آپ کے ڈراموں میں سے نادان نادیہ کو دیکھ کر ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ یہ آپ ہی کی تحریر تھی، یہ عوام کی توقعات پر بھی پوری نہیں اتر سکی؟
انور مقصود: دراصل پرائیویٹ چینل کے مالک اور ڈائریکٹر نے اسے بالکل ہی کمرشل کردیا ہے کیونکہ محسن علی جو ڈرامے کے ڈائریکٹر تھے وہ پی ٹی وی سے منسلک تھے اور ڈرامہ این ٹی ایم کیلئے تیار کیا گیا تھا، اس لیئے اس پر اتنی توجہ نہیں دے سکے جو ان دنوں پی ٹی وی کے ڈراموں پر دی جاتی تھی،
سوال: کچھ ڈرامے ابھی بھی ڈراموں کی فیلڈ میں اپنی جگہ بنارہے ہیں اس کا کریڈٹ کس کو دیں گے؟
انور مقصود: فنکاروں اور ڈائریکٹر کو کریڈٹ جاتا ہے،
سوال: ایک اچھے ڈرامے میں سب سے زیادہ نمبر آپ کو کس کو دیں گے، ڈائریکٹر کو، رائٹر کو یا فنکار ہو؟
انور مقصود: لکھنے والے کو سب سے زیادہ نمبر دوں گا اس کے بعد ڈائریکٹر کا کام ہے اس کو بہترین طریقے سے پیش کریں لیکن اصل کردار اسکرپٹ کا ہوتا ہے،
سوال: آپ ایک چینل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہیں۔ چینل کی مجموعی صورتحال کہاں پہنچے گی، اردو زبان کا بیڑا غرق کرنے میں ان کے کردار پر لوگوں کے تخفظات ہیں۔
انور مقصود: چینلوں میں بادشاہت قائم ہے اس لیئے جو مرضی آئے زبان استعمال ہوتی ہے، کرنٹ افیئرز میں شامل ہونے والے مہمان خود اپنی زبان پر قابو نہیں رکھتے۔ مارننگ شوز قیامت کی وہ نشانی ہے جو لکھی گئی ہے وہ اس ملک کو لے ڈوبے گی،
سوال: میڈیا کا جو بحران ہے اس کی ذمہ دار کیا حکومت ہے؟
انور مقصود: میڈیا بحران کے ذمہ دار چینل مالکان ہیں، چینل مالکان نے چالیس لاکھ اور پچاس لاکھ ماہانہ پر اینکر رکھے ہیں تو کیا انہیں اندازہ نہیں تھا کہ مستقبل میں معاشی صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے، لیکن افسوس یہ ہے کہ کم تنخواہ والوں کو نوکری سے نکالا جا رہا ہے، جبکہ جن کی تنخواہیں پچاس اور ساٹھ لاکھ ہیں انہوں نے تو بہت کمایا ہے تو انہیں چاہیئے کہ وہ آگے بڑھ کر خود ملازمت سے دستبردار ہوکر دس ملازمین کی نوکری بحال کرنے کا کام کریں،

published-in-daily-ausaf-

،