پاکستان میں سیاحت کا فروغ،ویزہ پالیسی کافی نہیں۔انفراسٹرکچر کے قیام پر توجہ دینی ہوگی

یاسمین طہٰ 
پاکستان میں سیاحت کا فروغ،ویزہ پالیسی کافی نہیں۔انفراسٹرکچر کے قیام پر توجہ دینی ہوگی۔ گلگت بلتستان کے خطرناک پہاڑی علاقوں کی سڑکوں کی بہتری کے لئے اقدامات ناگزیر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سیاحت کے فروغ کے لیے سرگرم ہے اور اس سلسلے میں متعدد بڑے اقدامات کیے جاچکے ہیں۔سیاحت کے فروغ کے لئے  حکومت نے نئی اور آسان ویزا پالیسی کا اعلان  بھی کیا ہے جس کے تحت 50 ممالک کے سیاحوں کو آن ارائیول ویزا  اور 175 کو ای ویزا  کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ لیکن حکومت کو اس حوالے سے سب سے پہلے انفراسٹرکچر کے قیام پر توجہ دینی ہوگی اور ترجیحی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا کیوں کہ  کسی بھی ملک میں سیاحت کے فروغ کے لئے انفراسٹرکچر اہم کردار ادا کرتا ہے،سری لنکا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کے بعض علاقے ایسے ہیں، جہاں پہنچ کر سیاح دنگ رہ جاتے ہیں۔ اتنے  دلکش اور حسین نظارے کہ خواب کا گمان ہوتاہے۔ یہی حالت ہماری  بھی ہوئی، جب  ہم نے ہنزہ کے دلکش مقامات کو دیکھا۔  اْس سفر میں ہم  نے سڑک کے طویل سفر کے بجائے پنڈی سے گلگت کے ہوائی سفر کا ارادہ کیا تھا،لیکن قومی ائیر لائنز نے صبح  پانچ بجے سے بارہ بجے تک ایئر پورٹ پر بٹھا کر اعلان کیا کہ فلائیٹ کینسل کردی گئی ہے۔ اور ہمارے ساتھ بہت سے غیر ملکی بھی سفر کررہے تھے جو اس صورت حال سے پریشان تھے۔ہمیں بتایا گیا کہ گلگت ائیر پورٹ بہت چھوٹا ہے اس لئے وہاں اے ٹی آر طیارے ہی جاتے ہیں جو اکثر موسم کی خرابی کے باعث آپریٹ نہیں ہو پاتے ہیں۔،حکومت کو اس اہم ترین مسئلے پر توجہ دینی ہوگی کہ کیا اقدامات کئے جائیں کہ گلگت ائر پورٹ کو فعال ترین ایر پورٹ بنا  یا جائے۔ہمیں مجبورا ً بذریعہ روڈ   اسلام آباد سے  ہنزہ کے سفر کا ارادہ کیا۔ہمارا پہلا پڑاؤ وادی ناران تھا۔ اسلام وآباد سے بذریعہ ایبٹ آباد۔  مانسہرہ سے بالاکوٹ اور بابوسر پاس سے ناران پہونچے۔بابو سر ٹاپ کو جانے وا لے خطرناک راستے پر سب کو  اللہ یاد آجاتا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہین کہ حکومت اس راستے کو بہتر بنانے پر کیوں توجہ نہیں دے رہی ہے اس طرح کی سڑکیں سیاحت کے فروغ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ناران پہونچ کر جھیل سیف لاملوک نہ دیکھنا کیسے ممکن تھا۔ایک جیپ کرائے پر لیکر سیف الملوک کی طرف روانہ ہوئے اتنے خراب راستے  کا تصور بھی نہیں کیا تھا،ورنہ کبھی یہاں کا رخ نہ کرتے۔سڑک انھیں پتھروں پے چل کر اگر آسکو تو آؤ کی بہترین مثال تھی۔انتہائی ٹوٹے پھوٹے پہاڑی  راستوں سے جھیل پر پہویچے  تو یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ  جھیل کے اطراف بنی ہوئی دکانوں نے جھیل کے حسن کو گہنا دیا ہے۔اور افسوس تو یہ ہے کہ حکومت کی سرپرستی میں یہ سب ہو رہا ہے۔ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس جھیل کی طرف جانے والی سڑک کو پختہ کیوں نہیں کیا جاتا تو بتایا گیا کہ جیپ ایسوی ایشن  کی اس سڑک پر مکمل اجارہ داری ہے اس لئے وہ یہ سڑک محض اس لئے نہیں بننے دیتے کہ اس طرح ان کا کاروبار ٹھپ ہوجائے گا اور حکومت بجائے یہ کہ ان کومتبادل کاروبار دے ان کی بلیک میلینگ میں آجاتی ہے جو وہ بار بار ہڑتال کی صورت میں کرتے ہیں۔  جھیل سیف الملوک کے بارے قارئین  کچھ نہ کچھ جانتے ہوں گے، یہ وہی جھیل ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ چودھویں کے چاند کی روشنی میں رات کو یہاں پریاں آتی ہیں اور اس جھیل کے حسن میں کھو جاتی ہیں۔ ناران سے تقریبا 9 کلومیٹر کے فاصلے پر جھیل سیف الملوک واقع ہے راستہ انتہائی دشوار اور خطرناک ہے جس پر مخصوص جیپوں کے ذریعے ہی جایا جائے تو بہتر ہے، 9 کلومیٹر کا یہ سفر تقریبا ڈیڑھ سے دو گھنٹے کا ہوتا ہے جس کے بعد آپ جھیل سیف الملوک پہنچ جاتے ہیں۔ وادی ہنزہ سات ہزار نو سو مربع کلومیٹر کے رقبے میں پھیلی ہوئی ہے اور گلگت بلتستان کا ایک ضلع ہے۔ جہاں کی زبان بروشسکی ہے۔ اسے دنیا کی مشکل ترین زبانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جب کہ واخی اور شینا زبان بھی بولی جاتی ہے۔ عام طور پر ہنزہ کو ایک شہر کا نام سمجھا جاتا ہے جبکہ یہ ایک وادی کا نام ہے جس میں بہت سی چھوٹی چھوٹی وادیاں اور قصبے شامل ہیں۔آغاخان کی بھرپور توجہ کی وجہ سے یہاں کا لٹریسی ریٹ سو فیصد اور کرائم ریٹ صفر ہے۔جی ہاں یہ بھی پاکستان ہے ’التت اور بلتت قلعے کے علاوہ ہنزہ کے اردگرد موجود چوٹیوں میں راکا پوشی، دیران پیک، گولڈن پیک، التر پیک، لیڈی فنگر پیک مشہور ہیں۔ کریم آباد کا بازار ہنزہ کی ثقافتی اشیاء سے بھرا پڑا ہوتا ہے۔اور یہاں ایک خاتون لال شہزادی  بازار کے مصالحوں کی بجائے گھر میں اگائے گئے مصالحوں اور سبزیوں سے یہاں کے مشہور کھانے بناتی ہیں ایک چھوٹے سے کھوکے میں قائم لال شہزادی کا کچن  صبح چھے بجے سے رات بارہ بجے تک کھلا ہوتا ہے اور یہ خاتون اپنی ایک اسسٹینٹ کے ساتھ آپ کے سامنے تازہ کھانا بنا کر انتہائی مناسب ریٹ میں فروخت کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اتنی محنت صرف اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے لئے کررہی ہے لال شہزادی کریم آباد کے قلعہ بلتت سے چند قدم کے فاصلے پر قائم ’ہنزہ فوڈ پویلین‘ کی باصلاحیت شیف ہیں۔ اْن کی مشہور زمانہ ڈش ’چھپ شورو‘ اور دیگر لذیذ کھانوں کے لئے سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔لال شہزادی نے اپنے ہنزہ فوڈ پویلین کے بارے میں بتایا کہ اْن کا یہ ایک چھوٹا سا سیٹ اپ ہے جہاں وہ آرڈر کے مطابق تازے کھانے بناتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہنزہ سیر کے لیے آنے والے سیاح اْن کی کھانوں سے بے حد خوش ہوتے ہیں۔لال شہزادی نے کہا کہ اْن کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس کچن نما ہوٹل میں  لوکل ڈشز لوگوں کو پیش کریں تاکہ یہاں آنے والے سیاحوں کو بازار کی چیزوں سے منفرد کچھ کھانے کو ملے اور وہ یہاں کی لوکل ڈشز سے لطف اندوز ہوسکیں۔لال شہزادی نے اپنے اس کچن کی آمدن سے اپنے بچوں کے اسکول کا خرچہ اٹھا رہی ہیں۔لال شہزادی تازہ سبزیوں کی مدد سے مزیدار کھانے تیار کرتی ہیں،لال شہزادی کا  تیار کردہ چھپ شورو نا صرف پاکستان بلکہ دنیا کے کئی ملکوں میں بہت مشہور ہے۔ پوری دنیا سے آئے سیاح ان کے ہاتھ سے بنا چھپ شورو کھائے بغیر واپس نہیں جاتے۔لال شہزادی نے بتایا کہ چھپ کا مطلب گوشت اور شورو کا مطلب روٹی ہے۔ اْن کے بچپن میں اْن کی والدہ یا دادی کسی خاص تقریب یا تہوار کے موقعے پرچھپ شورو بناتی تھیں۔ بنیادی طور یہ قیمے کے پراٹھے کی ایک قسم ہے  جسے  زعفران، گوشت، پیاز، مرچ، نمک سمیت دیگر لوکل مصالحوں اور دیسی آٹے کا استعمال  سے  تیار کرتی ہیں۔اسی علاقے کی ایک مشہور سوغات اخروٹ سے بنا ہوا کیک ہے۔سیاح اس کیک کو کھائے بنا بھی ہنزہ کی ٹرپ کو نامکمل سمجھتے ہیں ۔اسی ظرح ہنزہ کا مشہور پھل خوبانی  کا کیک بھی یہاں کی مشہور ساغات میں شمار کیا جاتا ہے۔جو ایک مخصوص ریسٹورینٹ میں ہی بنایا جاتا ہے،یہ ریسٹورینٹ انتہائی بلندی پر واقع ہے اور تقریبا150سیڑھیاں چھڑنے کے بعد ؤپ اس ریسٹورینٹ میں داخل ہوتے ہیں۔ہمیں نبھی اس کیک کی شہرت نے وہاں جانے پر مجبور کیا۔ہانپتے ہوئے جب بلندی پر قائم اس جگہ پہونچے تو ہمارا پہلا سوال تھا کہ یہاں تک آنے کے لئے کوئی ایسی سڑک نہیں جہاں گاڑی مین آیا جاسکے تو بتایا گیا کہ پیچھے سے ایک راستہ ہے جو سیاحوں کے علم میں نہیں ہے ہونا تو یہ چاہئے کہ سڑک پر کوئی واضع ہدایت اس حوالے سے دی جائے تاکہ لوگ سیڑھیاں چھڑنے کی مشقت سے بچ جائیں ٍ کریم آباد کا بلتت قلعہ  تقریباً 700 سال پرانا ہے اور  دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ قریب ہی ایک اور پرانا قصبہ التت ہے جو وادی ہنزہ کا سب سے پرانا علاقہ تصور کیا جاتا ہے جس میں موجودا لتت قلعہ نو سو سال قدیم ہے۔ ہنزہ کے گردو نواح میں سیاحتی مقامات میں سب سے مشہور  ایگل نیسٹ ہے جہاں پیدل یا جیپ کے ذریعے جاسکتے ہیں۔ یہ جگہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت برف پوش چوٹیوں پر پڑنے والی سورج کی کرنوں کی وجہ سے مشہور ہے۔جیپ پر دریا کے دوسرے کنارے پر واقع وادی نگر  پر گلیشئیرز کا نظارہ دیدہ زیب ہوتا ہے۔لیکن یہاں تک جانے کے لئے بھی خطرناک پہاڑی علاقوں سے گزرنا ہوتا ہے اور ان سڑکوں کی بہتری کے لئے اقدامات کیوں نہیں کئے جارہے ہیں یہ بات غور طلب ہے۔قدرتی آفت کے نتیجے میں دریائے ہنزہ پر بن جانے والی جھیل عطا آباد اب ایک تفریحی مقام کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔۔پاکستان میں حالات کی بہتری کے بعد شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے لیے آنے والے افراد کی تعداد میں ہر برس اضافہ ہوتا جا رہا ہے لیکن ان سیاحتی مقامات پر انفراسٹرکچر میں اس تیزی سے بہتری نہیں لائی جا رہی۔اسلام آباد سے  ایبٹ آباد، مانسہرہ اور  ناران، کاغان اور ہنزہ جانے کے برسوں پہلے  بنائی گئی یک رویہ سڑکوں سے ہی گزرنا پڑتا ہے اور نتیجہ گھنٹوں ٹریفک جام کی شکل میں نکلتا ہے۔انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی ہی ایک بڑی وجہ ہے کہ سیاحوں کی بڑی تعداد چند مخصوص مقامات کا رخ کرتی ہے۔شوگران  کے خطرناک  پہاڑی راستوں سے گزر کر پہاڑی کی اونچائی پر پائن پارک ہوٹل سیاحوں کا پسندیدہ ریسورٹ ہے،جس کے بارے مین معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک ممبر قومی اسمبلی کا ہے اور موصوف سڑک کی تعمیر کے لئے کئی بار فنڈز حاصل کرچکے ہین جو سڑ ک کی تعمیر پر نہیں لگایا گیا۔اسی وجہ سے یہاں لوگ جیپ میں جانے کو ترجیح دیتے ہیں سیاحت ایک ایسا شعبہ ہے جس میں اگر حکومت صرف اچھا انفراسٹرکچر ہی فراہم کر دیے تو باقی شعبوں میں نجی شعبہ خود بخود سرمایہ کاری کر کے سہولتیں فراہم کر دیتا ہے۔’ وادی کاغان میں صرف ناران اور شوگران ہی خوبصورت وادیاں  نہیں ہیں۔ یہ علاقہ ناران اور شوگران جیسی وادیوں سے بھرا ہوا ہے مگر وہاں تک انفراسٹرکچر نہ ہونے کی بنا پر سیاحوں کی رسائی انتہائی کم ہے۔ اگر وہاں پر مناسب انفراسٹرکچر تعمیر کر دیا جائے تو اس سے سیاحت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔’دنیا بھر کے سیاح  پاکستان میں ہمارے شمالی علاقہ جات کو دیکھنا چاہتے ہیں، مگر ہم انہیں سہولیات نہیں دے سکے۔   برف باری یا موسم خراب ہونے کی صورت میں شاہراہ قراقرم بند ہو جاتی ہے۔ ناران کاغان جیسے سیاحتی مقامات سردیوں کے 5 ماہ تک بند رہتے ہیں۔ سوات، کالام، بحرین جیسے خوبصورت مقامات سے زمینی راستہ منقطع ہو جاتا ہے۔ جبکہ آپ یورپی ملکوں میں دیکھ لیں جہاں سب سے زیادہ برف باری ہوتی ہے لیکن وہ اس موسم کو بھی کیش کرواتے ہیں،موجودہ حکومت سیاحت کے فروغ کے حوالے سے ماضی کی حکومتوں سے زیادہ پْرجوش نظر آرہی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ضمن میں یہ کوئی عملی اقدامات کرتی ہے یا پھر بات ماضی کی طرح اعلانات اور زبانی کلامی منصوبہ بندیوں تک ہی محدود رہتی ہے۔
                                                                                                                                                                                                                         گلگت کے لئے  طیارے  اکثر موسم کی خرابی کے باعث آپریٹ نہیں ہو پاتے ہیں۔
،حکومت کو اس اہم ترین مسئلے پر توجہ دینی ہوگی کہ کیا اقدامات کئے جائیں کہ گلگت ائر پورٹ کو فعال ترین ایر پورٹ بنا  یا جائے،اسلام آباد  ایر پورٹ  کے عملے نے ہمیں یہ بتایا کہ گلگت ائرپورٹ بہت چھوٹا ہے اس وجہ سے بڑے جہاز  لینڈ نہیں کرسکتے۔اسی لئے چھوٹے جہاز چلائے جاتے ہیں جو موسم کی خرابی کی باعث اکثر آپریٹ نہیں ہوپاتے ہیں۔اور غیر ملکی سیاحوں کے سامنے ملک کا ایک منفی تاثر اجاگر ہوتا ہے ۔انھیں پتھروں پے چل کر اگر آسکو تو آؤ بابو سر ٹاپ کو جانے وا لے خطرناک راستے پر سب کو  اللہ یاد آجاتا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہین کہ حکومت اس راستے کو بہتر بنانے پر کیوں توجہ نہیں دے رہی ہے اس طرح کی ٹوٹی ہوئی  سڑکیں سیاحت کے فروغ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے سیف الملوک کی طرف روانہ ہوئے اتنے خراب راستے  کا تصور بھی نہیں کیا تھا،ورنہ کبھی یہاں کا رخ نہ کرتے ۔انتہائی ٹوٹے پھوٹے پہاڑی  راستوں سے جھیل پر پہویچے  تو یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ  جھیل کے اطراف بنی ہوئی دکانوں نے جھیل کے حسن کو گہنا دیا ہے۔اور افسوس تو یہ ہے کہ حکومت کی سرپرستی میں یہ سب ہو رہا ہے  جیپ ایسوی ایشن  کی پہاڑی مقامات پر  مکمل اجارہ داری،پختہ سڑکوں کے قیام میں رکاوٹ  ۔ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ جھیل  سیف الملوک کی طرف جانے والی سڑک کو پختہ کیوں نہیں کیا جاتا تو بتایا گیا کہ جیپ ایسوی ایشن  کی اس سڑک پر مکمل اجارہ داری ہے اس لئے وہ یہ سڑک محض اس لئے نہیں بننے دیتے کہ اس طرح ان کا کاروبار ٹھپ ہوجائے گا اور حکومت بجائے یہ کہ ان کومتبادل کاروبار دے ان کی بلیک میلینگ میں آجاتی ہے جو وہ بار بار ہڑتال کی صورت میں کرتے ہیں۔شوگران  کے خطرناک  پہاڑی راستوں سے گزر کر پہاڑی کی اونچائی پر پائن پارک ہوٹل سیاحوں کا پسندیدہ ریسورٹ ہے،جس کے بارے مین معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک ممبر قومی اسمبلی کا ہے اور موصوف سڑک کی تعمیر کے لئے کئی بار فنڈز حاصل کرچکے ہین جو سڑ ک کی تعمیر پر نہیں لگایا گیا۔ہنزہ فوڈ پویلین کی  شیف لال شہزادی کا مشہور پکوانچھپ شورو  لال شہزادی  بازار کے مصالحوں کی بجائے گھر میں اگائے گئے مصالحوں اور سبزیوں سے یہاں کے مشہور کھانے بناتی ہیں ایک چھوٹے سے کھوکے میں قائم لال شہزادی کا کچن  صبح چھے بجے سے رات بارہ بجے تک کھلا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اتنی محنت صرف اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے لئے کررہی ہے۔لال شہزادی کا  تیار کردہ چھپ شورو نا صرف پاکستان بلکہ دنیا کے کئی ملکوں میں بہت مشہور ہے۔ پوری دنیا سے آئے سیاح ان کے ہاتھ سے بنا چھپ شورو کھائے بغیر واپس نہیں جاتے

DAILY- AUSAF- Karachi














اپنا تبصرہ بھیجیں