عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، مگر ہمارا نظام عدل و انصاف کی ناکامی بری طرح سے سامنے آرہی ہے

انسداد دہشت گردی کی عدالت

فاروق ستار کی میڈیا سے گفتگو

عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، مگر ہمارا نظام عدل و انصاف کی ناکامی بری طرح سے سامنے آرہی ہے،

جب تک محکمہ پولیس میں اصلاحات نہیں کرینگے تب تک کچھ بھی بہتری ممکن نہیں،

پولیس اہلکاروں کا جب تک احتساب نہیں ہوگا تو لاقانونیت میں اضافہ ہوگا،

یہ معاشرہ اب جنگل کے قانون کی جانب بڑھ رہا ہے،

گزشتہ روز اعلی تعلیم یافتہ نوجوان نبیل کو پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا،

پاکستان میں یہ انسانی جان کی قدر اور قانون ہے،

پولیس کے حکم پر گاڑی نہ روکنے کے الزام کی سزا ،سزا موت نہیں ہے،

پولیس اہلکاروں کی گرفتاری ضرور ہوئی، مگر ماضی میں رونما ہونے والے واقعات کے پیش نظر انصاف نہیں ملنے والا،

سانحہ ساہیوال میں۔وزیر اعظم نے کہا تھا کہ انصاف دلوائے گے،

سانحہ ساہیوال کے تمام ملزم باعزت بری کردئیے گئے،

اسمبلی میں پولیس اصلاحات کے بل پاس کر رہے ہیں مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوا،

پولیس ٹھیلے والوں کو گرفتار کر کے، بیانات لے رہی ہے،

گرفتاری 2017 میں کی گئی اور بیانات میں مجھ پر اور وزیر اعلی سندھ پر الزامات لگائے جارہے ہیں،

وزیر اعلی سندھ کے نام پر کمیٹی تشکیل دے دی گئی، میرے نام پر تو کبھی بھی کمیٹی تشکیل نہ دیتی،

ڈاکو اور پولیس کے جنگل کے قانون میں شہری پس رہے ہیں،

اسٹریٹ کرائمز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، شہر مسائل کا جنگل بن گیا ہے،

وزیراعظم کا رویہ صحیح نہیں۔انکا غصہ کم نہیں ہو رہا ،

عدالت کے فیصلے کے بعد نواز شریف ملک سے باہر چلے گئے،

وزیراعظم کا یہ رویہ غیر سیاسی ہے، یہ رویہ انکے منصب کو یہ رویہ زیب نہیں دیتا

اپوزیشن بھی کہیں نظر نہیں آرہی،

مولانا نے تھوڑی بہت مزاحمت کہ،دھرنا دیا اور ختم کردیا،

ایک عام آدمی کے لیے کون آواز اٹھائے گا ؟ مہنگاِی کو کون قابو کرے گا؟

یہ تمام زمہ داری وفاق کی ہے،

وفاق بتائے کہ ٹیکس کے نظام کو کتنا بہتر کیا؟ وفاق اپنی کارکردگی بتائے ؟