سینئر صحافی و کالم نویس اور پاکستانیز ہیروز ویلفیئر آرگنائزیشن اور احمد رشدی سنگر آرٹ اکیڈمی کے سربراہ ایس ایم سبطین نقوی نے برِ صغیر کے عظیم چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی 36ویں برسی کے موقع پر گزشتہ شب نوبہار فیملی ہال صدر کراچی میں پاکستانی فلمز لورز اور وحید مراد فین کلب کے اشتراک سے بعنوان ”بیاد وحید مراد“ کا انعقاد کیا

اداکار وحید مراد بعد از مرگ سبطین نقوی جیسے عقیدت مند مداحوں میں زندہ ہیں۔ڈاکٹر محفوظ یار خان
حکومت وحید مراد اور ان جیسے فنکاروں کی NGO’sچلانے والوں کی بھرپور پزیرائی کرے گی۔ سید ابن حسن نقوی
وحید مراد جیسا انسان و ورسٹائل فنکار 36سال گزر جانے کے بعد بھی فلم انڈسٹری کو نہیں ملا۔ شہزاد اختر
وحید مراد پاکستانی فلم انڈسٹری کا تعلیم یافتہ و چاکلیٹی ہیرو تھا۔ عبدالسلام، وحید مراد اور احمد رشدی ایک دوسرے کے لیئے لازم و ملزوم تھے۔سبطین نقوی
آرگنائزیشن و احمد رشدی آرٹ اکیڈمی کے زیرِ اہتمام اداکار وحید مراد کی 36ویں برسی سے نعیم الدین عباسی، اکرام ربانی، دیگر نامور شخصیات کا خطاب۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سینئر صحافی و کالم نویس اور پاکستانیز ہیروز ویلفیئر آرگنائزیشن اور احمد رشدی سنگر آرٹ اکیڈمی کے سربراہ ایس ایم سبطین نقوی نے برِ صغیر کے عظیم چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی 36ویں برسی کے موقع پر گزشتہ شب نوبہار فیملی ہال صدر کراچی میں پاکستانی فلمز لورز اور وحید مراد فین کلب کے اشتراک سے بعنوان ”بیاد وحید مراد“ کا انعقاد کیا۔ جس میں معروف قانون دان و ایمنیٹی انٹرنیشنل کے سربراہ مہمان خصوصی ڈاکٹر محفوظ یار خان ایڈوکیٹ جبکہ صدارت نیشنل بینک کے وائس پریزیڈنٹ و آرگنائزیشن کے صدر سید ابن حسن نقوی، پیک پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر سید شہزاد اختر، معروف شہرت یافتہ کمپیئر و گلوکار حامد خان غوری، معروف سماجی شخصیت نعیم الدین عباسی، شیخ لیاقت، عبدالسلام، اکرام ربانی، عابد بشیر، علی مراد، شیخ احسن علی، معروف نعت خوان معراج ظہیر تاجی، چیئرمین اسد رفیق، روشاد علی، یاسین میمن، عبدالصمد تاجی، چیئرپرسن اسما ناز،صدر سید کاشف احمد، نعیم الدین عباسی، کراچی کے ٹی وی چینلز کے نمائندگان اور صحافی حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر محفوظ یار خان نے کہااداکار وحید مراد بعد از مرگ سبطین نقوی جیسے عقیدت مند مداحوں میں زندہ ہیں، جو مسلسل 36سالوں سے وحید مراد اور احمد رشدی کی تقریبات کے ذریعے خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ میں ان کو قومی ہیروز کی شاندار کار کردگی پر گولڈ میڈل پیش کرتا ہوں جو ان کی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ سید ابن حسن نقوی نے وحید مراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت وحید مراد اور ان جیسے فنکاروں کی NGO’sچلانے والوں کی بھرپور پزیرائی کرے گی کیوں کہ وحید مراد اور دیگر فنکار ہمارے ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں جنہوں نے دنیائے فلم انڈسٹری میں اپنی بہترین فلموں کے ذریعے دنیا میں ملک کا نام روشن کیا یہ فنکار ہمارے ملک کے سفیر کی حیثیت سے اپنے ملک کی پہچان کرانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سید شہزاد اختر نے وحید مراد کی حالاتِ زندگی پر بھر پور انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وحید مراد جیسا انسان و ورسٹائل فنکار 36سال گزر جانے کے بعد بھی آج تک فلم انڈسٹری کو نہیں ملا۔ انہوں نے کئی کامیاب فلموں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہیرا اور پتھر، ارمان، اندلیپ، دل میرا دھڑکن تیری، انسانیت، سالگرہ، انجمن، جب جب پھول کھلے تم سلامت رہو، پھول میرا گلشن کا اور آواز جیسے سپر ہٹ فلموں نے فلم انڈسٹری کو اپنے پیرو پر کھڑا کیا۔ ان کی یادگار فلمیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتی رہیں گی۔ عبدالسلام نے کہا وحید مراد پاکستانی فلم انڈسٹری کا تعلیم یافتہ و چاکلیٹی ہیرو تھااور ان کے فن کو زندہ رکھنے کے لیئے مسلسل 36سالوں سے سبطین نقوی اور دیگر ان کی ٹیم کا بڑا کردار ہے جو نہ مسائد حالات کے باوجود اپنے قومی ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیئے وقتاََ فا وقتاََتقریبات کا انعقاد کرتے رہتے ہیں۔ ان کی کاوشوں پر میں خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔سبطین نقوی نے کہا کہ آج کی تقریب میں شریک ہو کر حیران ہوگیا کہ یہ تقریب جو وحید مراد کے لیئے سجائی ہے اس سے پہلے تو میں تعلیمی اور دیگر شعبوں کی تقریبات میں شریک ہوتا رہا ہوں لیکن آج قومی ہیروز کے حوالے سے جو میں اجتماع دیکھ رہا ہوں اس میں فنکاروں کا خاص طور پر وحید مراد کی برسی کا اجتماع جس کا میں خود ایک بہت بڑا مداح ہوں میں یہ کہہ بغیر نہیں رہ سکتاکہ یہ ملک کے واحد قومی ہیرو کے حوالے سے عقیدت مند نظر آتے ہیں اور ان کی کاوشوں کا یہ عالم ہے کہ یہ کسی بھی پروگرام کے بارے میں سوچتے ہیں اور وہ پروگرام ہوجاتا ہے۔جب کہ وحید مراد پر فلائے گئے گانے یاسین میمن، شیخ لیاقت علی، علی مراد اور دیگر گلوکاروں نے خوبصورت گانے گا کار خوب وصول کی۔آخر میں وحید مراد کی روح کو ایثالِ ثواب پہچانے کے لیئے فاتح خوانی کی گئی۔
جاری کردہ
شعبہ نشرواشاعت