دل کی جراحی کے شعبے میں جدت لانے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر آصف

دل کی جراحی کے شعبے میں جدت لانے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر آصفاب شارٹ سرجری اور چھوٹے کٹ کا دور ہے، ڈاؤ یونیورسٹی میں خطاب  امریکا سے آئے ہوئے ہارٹ سرجری کے ماہر پروفیسر آصف ریاض قدیر نے کہا ہے کہ پچاس کی دہائی میں پاکستان امریکا اور برطانیہ میں دل کی جراحی کا معیارایک جیسا ہی تھا، مگر اب پاکستان میں وہ معیار  واپس لانے کے لیے ہمیں بہت محنت کرنا ہوگی، اہم تکنیکی اقدامات کرنے ہونگے، جدید خطوط پر ڈاکٹر کی تربیت کرنا ہوگی، تاکہ ہماری آنے والی نسل میں ڈاکٹر ادیب رضوی جیسے نکل سکیں جو گردے کی پیوندکاری کے چھ ہزار آپریشن کرچکے ہیں اور روزانہ ان کے ادارے میں ایک ہزار ڈائیلاسس ہوتے ہیں، وہ جمعہ کی صبح ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پروفیشنل ڈیولمپنٹ سینٹر میں ہارٹ سرجری عنوان سے منعقدہ پروگرام سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر ڈاؤ میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر امجد سراج میمن، وائس پرنسپل ڈاکٹر شمائلہ خالد، ہیڈ آف  فارنسک میڈیسن پروفیسر سید مکرم علی، ڈاکٹر آمنہ سمیت دیگر موجود تھے، انہو ں نے کہا کہ نئے لوگوں کو  اپنے تازہ اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ذہن کے ساتھ ہارٹ سرجری کے شعبے میں آنا چاہیے، کیونکہ وقت آچکا ہے کہ آپ جیسے جدید تربیت یافتہ لوگ اس طرف آئیں، اس سرجری میں مزید جدت لائیں، کمبائینڈ سرجیکل انڈو سیکولر ٹیکنک کی نئی راہیں تلاش کریں، ہم جیسے لوگ اب بڑھے ہوچکے ہیں، ہمارے دور کے سارے طریقے طویل اور تکیف دہ ہیں، اب شارٹ سرجری اور چھوٹے کٹ کا دور ہے، اس میں مزید تبدیلی اور جدت کی ضرورت ہے، جو آپ جیسے نوجوان لاسکتے ہیں، پروفیسر آصف ریاض قدیر نے بتایا کہ انہو ں نے لاہور کے میو اسپتال میں پہلی اوپن ہارٹ سرجری کی ، جس کے بعد یہ سرجری عام ہوگئی، مگر اب دل کی سرجری میں کمی آئی ہے، کیونکہ اسٹنٹ ڈالنے اور آئیوٹک انڈو اسکوپی  سے سرجری کے بغیر علاج ہورہا ہے، انہو ں نے کہا کہ ان کے والد ریاض قدیر کنگ ایڈورمیڈیکل کالج کے پرنسپل رہے ہیں،وہ اس دور میں امتحان لینے ڈاؤ میڈیکل کالج آتے رہے ہیں، انہو ں نے کہا کہ طبی دنیا میں آنے والے نوجوانوں کو ہارٹ سرجری کے شعبے میں دلچسپی لینا چاہیے، کیونکہ پاکستان میں اس شعبے میں بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے، قبل ازیں پرنسپل ڈاؤ میڈیکل کالج پروفیسر امجد سراج میمن نے پروفیسر آصف ریاض قدیر کو ڈاؤ یونیورسٹی کی جانب سے اعزاری شیلڈ دی، جبکہ پروفیسر سید مکرم علی نے سندھ کی روایتی سوغات اجرک اور ٹوپی پیش کی، انہو ں نے بتایا کہ امریکا میں پاکستان کے ڈاکٹر ز کی تنظیم “اپنا”یہاں کے نئے ڈاکٹرز کی وہاں تربیت اور مدد کے لیے بے تاب رہتی ہے، کیونکہ پاکستانی ڈاکٹرز کی جدید تربیت سے پاکستان میں طب کے شعبے کا بھلا ہے، انہو ں نے پروگرام میں شریک طلبا پر زور دیا کہ وہ محنت سے تعلیم حاصل کرکے عمل کی دنیا میں آئیں اور دکھی انسانیت کی خدمت کریں۔

کیٹاگری میں : صحت