ڈیم کا پہرے دار کہاں ہے؟

”پتہ نہیں میرے بعد پاکستان کا کیا ہوگا ؟ ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیم کنارے جھونپڑی لگاکر پہرہ دوں گا۔“ یہ وہ باتیں ہیں جو سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کہا کرتے تھے ۔سابق چیف جسٹس کو اپنے منصب سے سبکدوش ہوئے ایک سال ہونے کو ہے۔ اس عرصے میں الحمداللہ ملک بھی قائم و دائم ہے اور ڈیم کنارے جھونپڑی بھی نہیں لگائی گئی تاہم میاں ثاقب نثار کے خلاف مواخذے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور سایے کی طرح اُن کا پیچھا کر رہا ہے۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
سابق چیف جسٹس کیخلاف دائر کردہ آئینی درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکیخلاف ریٹائرمنٹ کے باوجود مس کنڈکٹ کی کارروائی کی جائے ۔وطن عزیز کے 98 شہریوں کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں سپریم جوڈیشل کونسل کے آٹھ مارچ 2019کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا بھی کی گئی ہے ۔
میاں ثاقب نثار کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی کی خواہش کا اظہار 10اکتوبر 2018کے دن ایک ریفرنس کے ذریعے کیا گیا ۔میاں ثاقب نثارسترہ جنوری دو ہزار انیس کو ریٹائر ہوتے ہیں اور دو ماہ بعد 8مارچ کو شکایت درج کرنے والے 98شہریوں کو کونسل کی طرف سے یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے سبب ریفرنس زائد المعیاد ہوچکا ہے اس لیے خارج کیا جاتا ہے ۔
ریفرنس کو زائد ا لمیعاد کی بنیاد پر خارج کرنے کے جوڈیشل کونسل کے فیصلے کو آئینی درخواست کے ذریعے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا آئین پاکستان اور جوڈیشل کونسل کا قانون کسی جج کی ریٹائرمنٹ کے سبب اُس کیخلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی روکنے پر قدغن نہیں لگاتا،اعلیٰ عدلیہ کے جج کی ریٹائرمنٹ کے سبب کسی کو احتساب سے استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا ۔
سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کیخلاف آئینی درخواست میں مزید کہاگیا کسی جج کے ریٹائر ہونے یا استعفیٰ دینے پر ریفرنس کو غیر موثر قرار نہیں دیا جاسکتا ،جوڈیشل کونسل مس کنڈکٹ کے الزامات کا جواب دینے کی پابند ہے ۔
سابق چیف جسٹس کیخلاف مس کنڈکٹ کے الزامات میں کہا گیا ہے ملک ریاض حسین کیس میں تاثر دیا گیا ڈیمز فنڈز میں پیسے جمع کرانے سے ریلیف حاصل کیا جاسکتا ہے ،سابق چیف جسٹس نے انتخابات سے تین ہفتے قبل شیخ رشید احمد کیساتھ اُنکے حلقے کا دورہ کیا ،گیارہ مئی دو ہزار اٹھارہ کو بنچ میں شامل جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نکالا گیا۔   مس کنڈکٹ کے الزامات میں مزید کہا گیا سابق چیف جسٹس نے ٹی وی چینلز کے کیمرہ مینوں کو ساتھ لے جاکر لاڑکانہ سیشن کورٹ کا اُس وقت دورہ کیا جب ایک مقدمہ زیر سماعت تھا ،عوامی سطح پر جج سیشن کورٹ ضمیر سولنگی کی تضحیک کی گئی جس کے سبب وہ استعفیٰ دے گئے ، سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے زیر علاج شرجیل میمن ،انور مجید ،عبدالغنی مجید ،حسین لوائی کے ہسپتالوں پر چھاپے مارے لیکن راﺅ انوار کے گھر کو پرائیویٹ جیل قرار دیا گیا وہاں چھاپہ نہیں مارا گیا ، کسی چیف جسٹس کا ٹی وی چینلز کی براہ راست نشریات میں شرکت کرکے ڈیمز فنڈز لینے کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ۔
آئینی درخواست میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس ایک ماہ کے اندر سنا گیا لیکن سابق چیف جسٹس کیخلاف ریفرنس چھ ماہ سے زیادہ عرصہ گذرنے کے باجود نہ سنا گیا ،ریفرنس کو ریٹائرمنٹ کے بعد غیر موثر قرار دیکر خارج کردیا گیا ۔
سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کیخلاف آئینی درخواست پر رجسٹرارآفس نے اعتراضات لگاکر واپس کردی ۔رجسٹرار آفس کے اعتراضات میں کہا گیا آرٹیکل دو سو گیارہ کے تحت کونسل کی کارروائی پر کسی عدالت میں سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیخلاف اپیل میں موقف اختیار کیا گیا رجسٹرار آفس کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ آرٹیکل دو سو گیارہ کے حوالے سے اعتراض اٹھائے ۔
رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیخلاف جسٹس عمر عطا بندیال کے پاس ان چیمبر اپیل زیر سماعت ہے ۔ دو مرتبہ ان چیمبر اپیل کی سماعت وکیل صفائی کی خرابی صحت کے سبب ملتوی ہو چکی ہے ۔ واضح رہے گذشتہ ایک سال سے سپریم جوڈیشل کونسل کافی متحرک ہے ۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ریاستی اداروں کیخلاف بیان دینے پر عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی جاچکی ہے ،شوکت عزیز صدیقی نے گذشتہ سال اکیس جولائی کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں خطاب سے کہا تھا خفیہ ادارے کے اہلکار عدالتوں میں مداخلت کرتے ہیں اور اپنی مرضی کے بنچ بنوا کر فیصلے لیتے ہیں ،شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کیخلاف اپیل دائر کی گئی لیکن تاحال اُس پر سماعت کیلئے بنچ نہ بنایا جاسکا۔ سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور خان کانسی کیخلاف مس کنڈکٹ کے تحت ریفرنس خارج ہونے کی مثال بھی موجود ہے ۔سابق چیف جسٹس انور کانسی کیخلاف غیر قانونی بھرتیاں کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا، ستمبر دو ہزار سولہ میں سپریم کورٹ نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کی بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دیا ،اس عدالتی فیصلے کے تناظر میں جسٹس اقبال حمید الرحمان اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ، لیکن بعد ازاں جسٹس کانسی کو تمام الزامات سے بری کردیا گیا ۔ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی صدارتی ریفرنس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جس پر عدالت عظمیٰ کا دس رکنی فل کورٹ سماعت کر رہا ہے ۔ Pakistan24.tv report





اپنا تبصرہ بھیجیں