رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد بنی نوع انسان کے لیے رشد و ہدایات کا ذریعہ بنی : محترمہ سعدیہ راشد

”صلہ رحمی“ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دل موہ لینے والا اسوہ حسنہ ہے (نوشابہ خلیل)
12 ۔ ربیع الاول کے حوالے سے منعقدہ ہمدرد نونہال سیرت کانفرنس میں نثری اور منظوم گلہائے عقیدت بخصور سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیش کیے گئے
ہمدرد فاﺅنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے کہا ہے کہ حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں آمد بنی نوع انسان کے لیے رشد و ہدایات کا باعث بنی، اگر آپ کی تعلیمات ہم تک نہ پہنچتیں تو ہم بے راہ روی اور جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہوتے، ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں مسلمان پیدا کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنایا۔ وہ گزشتہ روز ہمدرد نونہال اسمبلی کے زیر اہتمام ”نونہال سیرت کانفرنس“ سے بیت الحکمہ آڈیٹوریم، مدینتہ الحکمہ ، کراچی میں خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ربیع الاول کے ماہ مقدس کی عظمت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم ہستی کی نسبت سے ہے کہ آپ اس ماہِ مبارک میں اس جہان میں تشریف لائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان ایک اللہ کا مانتے ہیں، کسی کو اس کا شریک نہیں ٹہراتے، ایک دین کی پیروی کرتے ہیں، جو دین فطرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ ہم اللہ کی مخلوق کے ساتھ اچھا سلوک کریں، اپنے اندر اچھے اخلاق پیدا کریں ، لوگوں کے کام آئیں، برے کاموں سے بچیں اور اللہ واحد¾، لاشریک کی عبادت کریں، اسی میں ہماری دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نونہال سیرت کانفرنس جیسی بابرکت محافل سے اگر ہم اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو اپنے دلوں میں لے کر اٹھیں تو سمجھ لیجئے کہ ان محافل میں ہماری شرکت بارآور ہوگئی۔ مہمان خصوصی، معروف سماجی کارکن اور شوریٰ ہمدرد کراچی کی اہم رکن نوشابہ خلیل نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ میں سب سے دل موہ لینے والی بات ”صلہ رحمی“ ہے جس کا لغوی معنیٰ معاف کردینا ہے لیکن اس کے وسیع تر معنیٰ میں عزیزوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور عام لوگوں سے ہمدرد انہ اور اچھا سلوک کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذرا سوچیے کہ اگر ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور اسوہ کے صرف اس ایک پہلو پر عمل پیرا ہو جائیں تو ہمارا معاشرہ کتنا اچھا اور پُرامن ہو جائے گا۔ قرآن پاک کی سورہ عمران میں اللہ تعالیٰ مومنین کی پہچان بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ”جو غصے کو پی جاتے اور دوسروں کو معاف کر دیتے ہیں“۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے یہ رویہ اور یہ طریقہ اپنایا ہوتا تو ہم بحیثیت قوم اس حال پر نہ ہوتے کہ جس پر آج ہم پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے آئندہ منعقد ہونے والی نونہال سیرت کانفرنس کے بارے میں تجویز دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہر نونہال سیرت نبوی اور اسوہ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک پہلو کو علیحدہ علیحدہ اپنی تقریر میں اجاگر کرے اس طرح رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کے بہت سے پہلو بیک وقت نمایاں ہوکر سامنے آ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمدرد کا نام بچپن سے سنتی آرہی ہیں لیکن جب انہوں نے شہید حکیم محمد سعید(وہ صبح ٹینس کھیل کر ان کے گھر آتے تھے) کو اور ان کے کاموں کو قریب سے دیکھا تو ہمدرد کا مطلب سمجھ میں آنے لگا جو ہمدردی انسانیت سے عبارت ہے۔ اس سے قبل ہمدرد فاﺅنڈیشن کے ڈائریکٹر پروگرامز و پبلی کیشنز سلیم مغل نے مہمان خصوصی کا تفصیلی تعارف کرایا ۔نونہال مقررین محمد عکا شہ الدین، سفینہ ریاض، محمد اسماعیل ملک، آمنہ رضوان اور ارباب حسین نے نثر میں اور نعت خواں فرحانہ رحیم، مصباح آصف، مسرت افضل، علشبہ عمران، حبیبہ شعیب اور ماہ رخ اختر نے منظوم گلہائے عقیدت بحضور سرور کائینات حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم پیش کیے۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت نونہال طاہر حمزہ، حمد باری تعالیٰ عطبہ عزیز اور نظامت کے فرائض زاراوسیم نے انجام دیئے۔ مولانا کاشف کی دعائے خیر پر سیرت کانفرنس کا اختتام ہوا جس میں مہمانان گرامی، والدین، اساتذہ اور بچوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ہمدرد نونہال اسمبلی کے زیر اہتمام منعقدہ نونہال سیرت کانفرنس سے معروف سوشل ورکر اور شوریٰ ہمدرد کراچی کی ممبر نوشابہ خلیل نونہالوں سے خطاب کر رہی ہیں۔ اس موقع پر ہمدرد فاﺅنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد بھی موجود ہیں۔ ہمدرد نونہال اسمبلی کے زیر اہتمام منعقدہ نونہال سیرت کانفرنس سے ہمدرد فاﺅنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد ، شوریٰ ہمدرد کی ممبر نوشابہ خلیل اور نونہال مقررین خطاب کر رہے ہیں۔