میں ایک صحافی اور شاعر ہوں…..

میں ایک صحافی اور شاعر ہوں….. لیکن اب میرے حوالے سے کچھ خبریں سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں۔…..میرے چند ”مہربانوں” نے میرے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ معروف شاعر اور صحافی عمیر علی انجم نے بیروزگاری سے تنگ آکر شہر کے پوش علاقے میں لیڈیز ٹیلرنگ کی دکان کھول لی ہے …..میرے ایک سینئر صحافی دوست نے جب مجھے یہ پیغام دکھایا تو بے ساختہ میرا قہقہ نکل گیا …..ہائے رے رقابت …..اورہائے رے خوف …..مجھے بخوبی علم ہے کہ میرے حوالے سے یہ خبریں کون پھیلا رہا ہے اور ان کے مقاصد کیا ہیں …..ویسے آج میں برملا اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے واقعی لوگوں کو شناخت کرنے میں غلطی ہوگئی ہے…..جن کو میں بہت زیادہ غلط سمجھتا تھا وہ لوگ باغیرت نکلے اور عزت کے ساتھ استعفیٰ دے کر ہم بیروزگاروں کی صف میں آکھڑےہوئے ۔…..اور جن کو میں نادان صحافیوں کو ہمدرد سمجھتا رہا ان کے بارے میں یہ انکشاف ہوا کہ ان کا مطمع نظر سوائے سیاست کے کچھ اور نہیں ہے…..کچھ لوگوں کی پیشانی پر میری تحریروں کی وجہ سے بل پڑے تھے …..

پہلے تو وہ خاموش رہے…..لیکن اب انہوں نے اپنے ظرف کے مطابق کام کرنا شروع کردیا ہے…..مجھے زنانہ کپڑے سلنے والا درزی بنانے والے نجانے مجھ سے کیوں خوفزدہ ہیں…..شاید انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے …..ابھی تو ان کی جانب سے آغاز ہوا ہے …..آگے آگے دیکھئے میرے حوالے سے کیا کیا انکشافات ہونے ہیں …..میں اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوں …..لیکن میرا پیغام بالکل واضح ہے کہ میں نے ایک راستہ چن لیا ہے اور ثابت قدمی کے ساتھ اس پر کھڑا ہوا ہوں…..موج بڑھے یا آندھی آئے اس دیے کو اب جلتے ہی رہنا ہے …..اب کل بے شک یہ پیغام چلوائیں کہ عمیر علی انجم نے بھیک مانگنا شروع کردی ہے….. مجھے اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا ہے ۔میں اپنے خیر خواہوں کو بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عمیر علی انجم ہاتھ بھی پھیلالے گا …..پاؤں بھی پکڑے گا …..ماتھا بھی ٹیکے گا …..ہاتھ بھی جوڑے گا …..لیکن صرف اور صرف اپنے صحافی بھائیوں کے حقوق کے لیے …..اور اس کے لیے مجھے کوئی شرم ہے نا نہ کوئی عار…..