الطاف حسین نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے سیاسی پناہ کی درخواست کردی

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن کے بانی الطاف حسین نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے خلاف بات کرتے ہوئے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سے اپنی اور اپنی ساتھیوں کی سیاسی پناہ کی درخواست کردی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق لندن سے سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں انہیں بھارتی وزیراعظم سے درخواست کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر رواں ماہ کی 9 تاریخ کو جاری ہونے والے الطاف حسین کے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ ‘اگر بھارت اور وزیراعظم نریندر مودی مجھے اور میرے ساتھیوں کو بھارت آنے کی اجازت اور سیاسی پناہ فراہم کریں تو میں اپنے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں آنے کو تیار ہوں کیونکہ میرے دادا وہاں دفن ہیں، میری دادی وہاں دفن ہیں اور میرے ہزاروں رشتے دار بھارت میں مدفون ہیں، میں ان کی قبور پر جاکر فاتحہ کرنا چاہتا ہوں’۔
مزید پڑھیں: لندن: نفرت انگیز تقریر، الطاف حسین پر دہشت گردی کی دفعہ کے تحت فرد جرم عائد
اپنی تقریر میں الطاف حسین نے بھارتی حکومت کو یقین دہانی کروائی کہ ‘ (اگر انہیں سیاسی پناہ) دی جاتی تو وہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ کسی سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے’۔
واضح رہے کہ اس ویڈیو کے علاوہ سوشل میڈیا پر ان کا بھارتی میڈیا کو دیا گیا ایک انٹرویو بھی زیرگردش تھا، جس میں وہ نہ صرف سیاسی پناہ کی بات کر رہے تھے بلکہ پاکستان مخالف اور پاکستانی اداروں کے خلاف بھی بات کر رہے تھے۔
اگر الطاف حسین کی بات کی جائے تو وہ برطانوی شہری ہیں اور گزشتہ 27 سال سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔
تاہم وہ برطانیہ سے بیٹھ کر پاکستان میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کے کیس میں اس وقت ضمانت پر ہیں، یہی نہیں بلکہ وہ برطانیہ میں 2 مرتبہ گرفتار ہوچکے ہیں۔
ایک مرتبہ انہیں منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا اور دوسری مرتبہ انہیں موجودہ کیس میں حراست میں لیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ 10 اکتوبر کو برطانوی پولیس نے 2016 میں برطانیہ سے بیٹھ کر پاکستان میں نفرت انگیز تقریر کرنے سے متعلق تفتیش میں الطاف حسین پر دہشت گردی کی دفعہ کے تحت فرد جرم عائد کی تھی۔
فرد جرم عائد ہونے کے بعد بانی ایم کیو ایم کو حراست میں لے لیا گیا تھا، بعد ازاں ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں کراؤن پراسیکیوشن سروس (سی پی ایس) نے عدالت نے الطاف حسین کو مشروط ضمانت دی تھی۔

ان شرائط میں الطاف حسین پر برطانیہ یا بیرون ملک عوام کے لیے سوشل میڈیا، ریڈیو، ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعے کسی بھی قسم کا آڈیو یا ویڈیو پیغام نشر کرنا اور پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بات کرنے کی پابندی شامل تھی، بعد ازاں ان کی ضمانت میں پھر توسیع کردی گئی تھی۔
واضح رہے کہ ان کی جماعت ایم کیو ایم لندن کہلاتی ہے جو 22 اگست 2016 کی اس تقریر کے بعد سے پابندی کا سامنا کررہی ہے جس میں الطاف حسین نے اشتعال انگیز تقریر کی تھی اور مبینہ طور پر پاکستان مخالف نعرہ لگایا تھا۔
پاکستان میں موجود متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم پاکستان) ہے اور الطاف حسین کی اس تقریر کے بعد ان کی جماعت نے ان سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں