عالمی یوم اطفال پر پاکستان پیس کلب کے زیر اہتمام ینگ ایکٹیو سٹیزن ایوارڈ

عالمی یوم اطفال پر پاکستان پیس کلب کے زیر اہتمام ینگ ایکٹیو سیٹیزن ایوارڈ کا انعقاد

عالمی یوم اطفال پر پاکستان پیس کلب کے زیر اہتمام ینگ ایکٹیو سیٹیزن ایوارڈ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کا مقصد اسکول و کاجز کے طلبہ و طالبات کو معاشرے کا ذمہ دار فرد بنانا ہے، اس تقریب میں مختلف اسکول کے طلبہ و طالبات نے سوک رسپانسبیلیٹی کے عنوان پر ٹیبلو اور ڈرامہ کامیٹیشن میں بھی حصہ لیا گیا۔ پیس کلب کی جانب سے مختلف اسکولوں میں فعال ذمےدار شہری بننے کے لیے ٹرینگ ورک شاپس کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کے تحت تین ماہ میں 994 چینچ ایمبیسیڈر بنائے گئے جنھوں نے اپنے اسکول،گلی ،محلوں اور ارددگرد صفائی ستھرائی، پلاٹیشن، پلاسٹک بیگ کے استعمال کو ترک کرنے اور وسائل کی بچت سمیت دیگر مضوعات پر عملی پراجیکٹس کیے ۔ اس تقریب میں انھی بچوں کوسراہا گیا۔ عالمی یوم اطفال پر بچوں کی تعلیم و تربیت اور معاشرتی ذمےداریوں پر گفتگو کرتے ہوئے پریس کلب کے صدر و معروف صحافی طاہر حسن خان کا کہنا تھا کے بچوں کے لیے پاکستان میں سہولیات کا فقدان ہے انہوں نے بچوں کو منفی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے صحت مند معاشرتی سرگرمیوں کے فروغ پر زور دیا ان کا کہنا تھا ایسی تقاریب کا تسلسل جاری رہنا چاہیے ۔

 

جبکہ معروف قانوں دان اور انسانی حقوق کے رہنما جناب خالد نواز مروت نے کہا کہ ریاست آیئنی اور قانونی طور پر ہر بچے کو تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے تاہم وہ اس فرض کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے آج بھی کروڑوں بچے پاکستان میں اسکولوں سے باہر ہیں۔ پاکستانی بچے اپنی ذہانت میں دنیا کی قوموں سے کسی طور پر بھی کم نہیں ۔ انگریزی زبان بولنا ذہانت کی نشانی نہیں ہے اپنی مادری اور قومی زبان بولنے اور لکھنے میں فخر کریں، میٹرک بورڈ کراچی کے چئیر مین ڈاکٹر سعید الدین نے نصاب کی بروقت تجدید کو ہر معاشرہ کی ضرورت قرار دیا انہوں نے کہا بچوں کی معاشرتی اور ذ ہنی نشونما میں متوازن نصاب اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ چئیر پرسن پیس کلب و صحافی آصفہ زہرہ نے پاکستان میں بڑھتے ہوے معاشرے میں عدم برداشت اور احساس غیر زمہ داری کو پاکستان امن کلب کی وجہ تشکیل قرار دیا۔ اور انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایک پر امن اور پر مسرت معاشرے کی تشکیل میں نوجوانوں کو زمہ دار شہری کی مہارتیں سکھانے کے لیے ہماری سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ معروف تربیت کار اور ماہر تعلیم پروفیسر انوار احمد نے کہا کہ ہماری نسل ان بچوں کی مجرم ہے جس نے ایک بدحال اور بد اخلاق معاشرہ بچوں کو دیا جس میں برداشت اور رواداری نہیں ہے۔

انھوں نے والدین اور اسا تذہ پر زور دیا کہ وہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے وہ طریقے استعمال کریں جو بچوں کی دور حاضر کی دلچسپیوں کے مطابق ہوں، ٹیکنالوجی کی مخالفت کے بجاۓ بچوں کی ذہن سازی کریں کہ اس سے فائدہ کیسے اٹھایا جاسکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑوں کو بچوں کا نکتہ نظر سپمجھنے کے لیے ان کی بات سننا چاہیے ۔ کتابی علم اور امتحانی مواد پڑھانے سے زیادہ زندگی کا علم اور مہارتیں سکھانے کی ضرورت ہے جو کہ ہم نصابی سرگرمیوں کے ذریعے آتا ہے ۔ نئی نسل سے امید ہے کہ وہ پاکستان کو بہتر اور خوشحال بناۓ گی ۔۔۔ یہ بات سابق سینیٹر محترمہ نسرین جلیل نے پاکستان امن کلب کے زیر اہتمام ینگ ایکٹیو سٹیزن ایوارڈ کی شاندار تقریب سے خطاب کرتے ہو ۓ کہی۔ انہوں نے آپنی صدارتی تقریر میں پاکستان امن کلب کی بچوں میں زمہ دار شہری کی مہارتوں کو سکھانے کی مہم کو سراہا اور زور دیا کہ بچے اپنی صلاحیتوں کے اظہار میں نہیں شرمایئں بلکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت مند مشاغل کو اپنی زندگی کا لازمہ بنایئں۔ تقریب کے آخر میں کلب کے جنرل سیکریٹری اور نوجوان رہنما جناب علی رضا خان نے مہمانوں کو شکریہ ادا کرتے ہوۓ کہا کہ بہت جلد ادارہ کے دائرہ کارکو سندھ کے کئی شہروں تک پھیلایا جائے گا۔

تقریب سے شیما صدیقی،عتیق الرحمان، اختر میر، چیئرمین میٹرک بورڈ سعید الدین، وجیہہ وارثی، فرزانہ روحی، حمیرا اطہر، ارسلان فاروق ، طارق شاہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
تقریب مین مختلف اسکولوں کے بچوں نے زمہ دار شہری کے عنوان سے کئی ٹیبلوز بھی پیش کیے بعد ازاں نمایاں کارکردگی دکھانے والے اسکولوں کو نشان سپاس اور مہمانوں کو تحائف سے نوازا گیا۔