عسکری پارک کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنے کیخلاف درخواست کی سماعت

عسکری پارک کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنے کیخلاف درخواست کی سماعت

مئیر کراچی اور عسکری پارک انتظامیہ نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت مانگ لی

عدالت کا فریقین کو 17 دسمبر تک جواب جمع کرانے کا حکم

درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں اس لیے درخواست کی سماعت نہ کی جائے، سندھ حکومت

متاثرہ فریق نہیں ہے تو کیا شہری کے حیثیت سے درخواست دائر نہیں کرسکتا؟ عدالت

ڈپٹی کمشنر کراچی اور پولیس نے رپورٹ پیش کرچکے ہیں

ڈی سی شرقی کی سربراہی میں اعلی سطحی تحقیقاتی کمیٹی نے چیف سیکریٹری کو سیِل رپورٹ پیش کردی ہے، ڈپٹی کمشنر شرقی

واقعہ میں ایک لڑکی جواب بحق اور پندرہ افراد زخمی ہوے ، رپورٹ

عسکری پارک میں بغیر مینٹین کیے جھولوں سے شہریوں کی جان کو خطرہ ہے درخواست

عسکری پارک سے گرین بیلٹ ختم کرکے بغیر این او سی کے کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنا غیر قانونی ہے، درخواست

عسکری پارک کی انتظامیہ سے ہائی رائز جھولوں کے متعلق تفصیلی جواب طلب کیا جائے، درخواست

شہر کے کئی پارک پر قبضہ اور جو پارک عوام کے لئے بچا اسے کمرشل بنیادوں پر استعمال کیا جارہا ہے، درخواست

وسیع تر اور جدید جھولوں کے اطراف 300 گز کی خالی جگہ ہونا ضروری ہے، درخواست

گزشتہ ہفتہ خطرناک جھولو سے متعدد افراد زخمی اور بارہ سالہ بچی موقع پر جابحق ہوئی، درخواست

انتظامیہ کے پاس جھولوں سے زخمی ہونے والوں کے فوری علاج معالجے کے لئے بھی کوئی سہولیات دستیاب نہیں، درخواست

عسکری پارک کو کمرشل بنیادوں پر استعمال نہ کیا جائے، درخواست میں استدعا

عسکری پارک سے غیر قانونی لگائے جھولوں کو فوری ختم کیا جائے، درخواست

پارک کی سیل کھولنے کی اجازت نہ دی جائے، درخواست میں استدعا

پارک میں درخت اور گرین بیلٹ لگاکر عوام کے لئے فری آف کاسٹ کھولا جائے، درخواست

درخواست میں عسکری پارک انتظامیہ، مئیر کراچی، حکومت سندھ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا یے