دو ٹکے کی عورت اور پچاس ملین


تحریر  …..
 ڈاکٹر فرح ناز راجہ

میں بھی آج کل سوشل میڈیا نیوز فیڈ میں بہت دن سے یہ جملہ اور اس پر ہونے والا شور و واویلہ اور ہلچل دیکھ رہی تھی مگر بیک گراونڈ کا بالکل کوئی اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔ خواہش ضرور تھی کہ معلوم ہو یہ ہے کیا ہے ؟ ؟؟ یہ خبر تو تھی کہ خلیل الرحمن قمر صاحب کا ایک ڈرامہ ” “تم میرے پاس” اے آر وائے ڈیجیٹل چینل سے آن ائر ہو رہا ہے ۔۔خاص طور پر اس کے ایک ڈائیلاگ ” دو ٹکے کی عورت ” اس ڈائیلاگ نے سوشل میڈیا پر بہت دھوم مچا دی ۔ ہمارا فیمنسٹ طبقہ آدھی بات سن کر پوری رائے دے دیتا ہے۔ اسی لیے اس جملے کے پس منظر اور حقائق کو سمجھے بغیر سوشل۔میڈیا پر بحث چھیڑ دی گئی کہ عورت کو دوٹکے کی کیوں کہا۔۔۔۔
یہ عورت کی تذلیل ہے۔ یعنئ جو عورت کررہی ہے اپنے ساتھ وہ قابل عزت ہے ؟؟؟ خیر میں ویسے ڈرامے اتنے شوق سے دیکھتی تو نہیں ہوں لیکن اس ڈرامے کے “دو ٹکے والی عورت ” والے ڈائیلاگ نے مجھے بھی مجبور کر دیا کہ میں ڈرامہ دیکھوں کیونکہ فیس بک پر ہی پہلے خلیل الرحمن صاحب کا عجیب و غریب انٹر ویو سنا بھی اور دیکھا بھی ۔۔ اس لئے تجسس اور بڑھ گیا کہ آخر ایسا ہے کیا ڈرامے میں ؟؟

خیر میں نے پورے دو دن ضائع کرکے یو ٹیوب پر ساری کی ساری قسطیں دیکھیں۔۔۔۔ کیونکہ میں اس جملے کی حقیقت تک پہنچنا چاہتی تھی۔-“دیکھنے سننے میں بڑے انٹیلیجنٹ بزنس مین لگتے ہیں آپ، لیکن یہاں بھائو کرتے ہوئے آپ نے مجھے حیران کر دیا۔ اس دو ٹکے کی لڑکی کے لیے آپ مجھے پچاس ملین دے رہے تھے” ؟؟؟؟
ڈرامے یا اس۔جملے پر کسی بھی قسم کا تبصرہ لکھنے سے پہلے ڈرامے کا پس منظر جاننا ضروری ہے اس لیئے تھوڑی یہاں تفصیل لکھنا ضروری سمجھتی ہوں – جبکہ اس ہفتے والی قسط دیکھنے کے بعد مجھے تو ڈرامے کا اینڈ بھی سمجھ آگیا ہے ۔۔۔
خیر ڈرامے میں اداکارہ “مہوش” کا کردار ایسی عورتوں کی نمائندگی کرتا ہے جو محبت کی شادی تو کر لیتی ہیں لیکن اپنی خواہشات کے منہ زور گھوڑے تلے اپنے گھر اور خصوصا” اپنے شوہر کا سکون تباہ کرتی ہیں۔ ایسی عورتیں جن کا پیسے کی ہوس کے علاوہ اور کوئی دین ایمان نہیں۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کے مہنگے زیورات، کپڑوں، بچے کے مہنگے سکول میں داخلے اور کار کے لیے اس کا شوہر بالائی آمدنی گھر لے کر آئے۔ اس بات کے لیے وہ اسے حد درجہ تک کوشش کرتی ہے۔ شوہر کا کردار اداکار “ہمائیوں سعید ” ادا کر رہا ہے ۔۔شوہر کو ایماندار دکھایا ہے، وہ ویسا نہیں کرنا چاہتا۔ بعد ازاں ایک امیر آدمی اسے حاصل کرنے کے لیے اس پر ڈورے ڈالتا ہے۔ اور آسانی سے کامیاب ہو جاتا ہے۔ عورت اس مرد کی سیکریٹری کی نوکری کر لیتی ہے، دل ہی دل میں دوسرے مرد کی زبان سے اپنے حسن کی تعریف سے مزہ لیتی ہے حالانکہ جانتی ہے کہ اس آدمی کی نیت درست نہیں۔۔۔۔ اور اسکے ساتھ ساتھ محلے کا ایک لڑکا بھی مسلسل اس کے پیچھے لگا ہوا ہے خیر آخر میں امیر آدمی اس کے شوہر کو پچاس ملین روپے آفر کرتا ہے بیوی کو آزاد کرنے کے لیے۔ شوہر کو اپنی اور مہوش کی تصویریں اور ریکارڈڈ فون گفتگو سناتا ہے۔ شوہر بیوی کی بے وفائی کے یقین اور اس کے طلاق کے مطالبے کے بعد اسے آزاد کرنے کے لیے مجبور ہو جاتا ہے لیکن پچاس ملین یعنی پانچ کروڑ ٹھکرا کر وہ جملہ کہتا ہے جو اس پوسٹ کے اوپر لکھا ہے۔

 


تکیہ کلام ۔۔دو ٹکے ۔۔!
دو ٹکے کا شور سنا تو ڈرامہ دیکھ لیا ۔ پہلی قسط میں دانش نے یہ ٹرم استعمال کی پھر گیارھویں قسط میں شہوار نے دانش کے فلیٹ کو دو ٹکے کا کہا اور بارھویں قسط میں دانش نے اپنی بےوفا دھوکے باز اور بدکردار بیوی کے لیے دو ٹکے کی عورت کی ٹرم استعمال کی ۔ ایسی خودپسند بیوی جو خواہشات کی دوڑ میں شوہر کو تو بھولی ہی بلکہ اپنی اولاد کو بھی فراموش کر بیٹھی۔
ڈرامے کی کہانی میں کئی جھول ہیں۔ بہت سی غیر حقیقی جذباتیت ہے لیکن میں سمجھتی ہوں کہ :”مہوش” کا کردار ایسا ہے کہ ترقی پسند عورتوں کو اس کی مذمت کے لیے سامنے آنا چاہیے “-
اب آتے ہیں اس ڈرامے کے کرداروں اور جملوں کی طرف –

اس سے قطہ نظر کہ خلیل الرحمن ایک بہت زبردست قلم نگار فلم نگار ،اور ڈرامہ نگار ہیں ان کو اپنے خیالات کو قلم کے زور سے لفظوں میں ڈھالنے کا مکمل ہنر جانتے ہیں ۔۔۔خلیل الرحمن قمر بحیثت انسان جو بھی ہو بحیثت رائٹر اس کی اہمیت سےانکار نہیں کیا جاسکتا-
میں ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہوں میں کیا اور۔میری اوقات کیا لیکن پھر بھی میں اتنا تو سمجھتی ہوں کہ ڈرامہ نگار خالق ہوتا ہے، کردار تخلیق کرتا ہے اور کرداروں کے ذریعے اپنی سوچ کو پروموٹ کرتا ہے۔ زیر گفتگو ڈرامہ نگار دولت کی پجاری خاتون تخلیق کر کے عورت کو “دو ٹکے کی جنس ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے کہ ڈسکشن کا تمام تر فوکس کردار پر ہے ڈرامہ نگار کی پست فکر عورت دشمنی پس منظر میں تحلیل ہو گئ ہے–
بات تو سچ ہے ، لیکن یہ کسی نے غور نہیں کیا کہ اس ڈرامے میں اس لڑکی پر ایک نہیں کئی مرد ایک ساتھ گہرا تنگ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے ایک محلے کا جو اسے گاڑی میں لفٹ دیتا ہے ایک وہ بزنس مین جس کا کردار سلمان ندیم ادا کر رہے ہیں جو ملینر دکھایا گیا ہے ، ایک کچے زہن کی عورت نے خراب تو ہونا ہی تھا ۔۔ میں سمجھتی ہوں اگر وہ تھوڑی پختہ زہن دکھائی جاتی اور اس کے شوہر کو تھوڑا سا سمجھدار دکھایا جاتا جو اس کو یہ احساس دلاتا کہ وہ مضبوط اور باصلاحیت ہے تو اس سب کے باوجود وہی لڑکی دولت کے لیے کسی دوسرے مرد کی بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتی، اگر وہ اپنے شوہر کو کسی دوسرے شوہر کی جاہ و حشمت سے اندھی ہو کر چھوڑنے کی بجائے اس لیے چھوڑتی کہ اس کے ساتھ اس کی ذہنی ہم آہنگی نہیں تھی،

 

اگر وہ محبت یا اپنی آزادی یا کسی اور اعلیٰ مقصد کی خاطر بہادری اور صداقت سے اپنے کمزور ہو چکے رشتے کو توڑتی، اگر وہ اپنے بچے کے باپ، ایک محبت کرنے والے شوہر کو دھوکے میں نہ رکھتی، اگر وہ اس آنے پائی کے نظام کے کھوکھلے پن کا ذرا سا بھی شعور رکھتی تو شاید ‘دو ٹکے کی’ نہ ہوتی۔۔۔ یہ تو میرا ایک تجزیہ ہے اس ڈرامے کے حوالے سے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ڈرامے کا ایک اور پہلو بھی ہے اور یہ لکھنے باوجود یہ نہ سمجھا جائے کہ میں نے خلیل الرحمٰن قمر کے مرد عورت کے بندھن، عورتوں کے سماجی مقام اور ان کی انسانی حیثیت کے بارے میں گھٹیا خیالات کی تائید کی ہے۔۔۔۔ لیکن اس کے باوجود یہ ہی کہوں گی کہ ڈرامے میں مہوش کا جو کردار تخلیق کیا گیا ہے، ایسی عورتیں دو ٹکے ہی کی ہی کہلاتی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ؟؟؟؟
اور میری پوری زندگی میں بمشکل دو واقعات ایسے گزر ے ہوں گے کہ جن میں عورت واقعی دو ٹکے کی نہیں بلکہ ایک ٹکے کی بھی نہیں تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسیے ہی دوٹکے کے مردوں کے واقعات بھی میں خود حقیقت میں دیکھ چکی ہوں جن کی تعداد عورتوان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے- اس لیئے ایسے مردوں کی نشاندہی بھی ہونی چاہیئے تھی اسی ڈرامے میں تو پھر بیلنس ہوتا کہانی میں ۔۔۔
غور طلب بات یہ ہے کہ ایسی عورتوں کی تخلیق کون کرتا ہے ؟؟

تو جواب یہ ہے کہ وہ سماجی اقدار کرتی ہیں جنھوں نے عورت کے ہاتھ میں کشکول تھما کر اسے یہ سکھاتا ہے کہ اپنے سب خوابوں کی تعبیر کی بھیک مرد سے مانگو۔۔۔۔ خود اپنی صلاحیتوں پر کوئی بھروسہ نہ کرو۔۔۔ وہ مرد کرتے تخلیق کرتے ہیں ایسی عورتوں کے کرداروں کو جو ایک شادی شدہ عورت کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور اس کو بلاوجہ میں احساس دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جس کے ساتھ وہ زندگی گزار رہی ہیں وہ ان کے لیئے اچھا نہیں ہے بلکہ وہ خود اس کے ساتھ بہت اچھے ہیں ۔۔ تو ایسے مردوں کے لیئے بھی خلیل الرحمن کو کوئی ایک آدھ جملہ اور کوئی جاندار قسم کا ڈائیلاگ تو ضرور رکھنا چاہیئے تھا ڈرامے میں ۔۔تو ہی پتہ چلتا کہ وہ قدامت پسند سوچ کے مالک نہیں بلکہ معاشرے کے لیئے تعمیری سوچ رکھتے ہیں ۔۔۔۔
خیر میں نے تو اپنے طور پر اس ڈرامے کے تمام کردار کو میرٹ پر جج کرنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔ میں نے اسی لیے درج بالا اپنی تحریر میں ڈرامہ نگار کے نظریات کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کردار کو رد کرنے کی وجوہات ہیں۔ اور وہ ہیں ہمارے اس طبقاتی نظام میں مختلف طبقات کی ایک مخصوص ذہنی ساخت – آپ سب جانتے ہیں کہ غلامی کا سب سے بدترین مظہر خود غلام کی سوچ میں ہوتا ہے۔۔۔ اس طبقاتی سماج میں عیش و عشرت کی زندگی کو مثالی سمجھا جاتا ہے۔ لوئر مڈل اور مڈل کلاس میں ایسی عورتوں کی کمی نہیں ہے ، لیکن وہ پاکستانی عورتوں کی اکثریت کی نمائیندہ نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔

 

رائٹر نے اپنئ اس ڈرامے میں عورتوں کی اکثریت کی تذلیل کی ہے۔
بجا ہے کہ اس طرح کے واقعات ہمارے معاشرے میں رونما ہوتے ہیں۔ بالکل بجا ہے ، لیکن ان کا تناسب بہت ہی کم ہے۔۔۔۔
رائٹر Intellectual secret افشا نہیں کر پا رہا۔ دو ٹکے کی عورت تو صدیوں سے چلی آ رہی ہے، مگر مزے کی بات ہے کہ دو ٹکے کا مرد دریافت نہیں ہو پایا آج تک ۔ میرا خیال ہے ڈرامہ نگار کی سوچ ڈرامے کی بنت میں ہوتی ہے جیسے افسانہ نگار، شاعر، ادیب کی سوچ اس کی تخلیق میں ہوتی ہے. تخلیق سے باہر تو سوچ ہو ہی نہیں سکتی ۔۔۔
ڈرامہ نگار عورت کی برابری Muscle power میں دیکھتا ہے شاید، عورت کی Mental power دیکھنے سے قاصر ہے کہ اس وقت بھی عورتیں اس سے بہتر ڈرامہ نگار، افسانہ نگار، شاعرات موجود ہیں۔ لیکن بات عورت اور مرد کی نہیں ہے ، بات غلط رویئے۔کی ہے اور غلط رویہ کسی کا بھی ہو سکتا ہے۔ دراصل سرمایہ دارانہ نظام یہی ناپ تول تو سیکھاتا ہے انسان کو – انسان سرمائے کی مشین میں ڈھلنے والا سکریپ تو ہے نہیں- اس کے جذبات اور احساسات کی قدر کرنی چاہیئے –

اورہم خواتین نے بھی بہت سے مراحل طے کرنے ہیں ابھی یہ بات خواتین کو سمجھنا ہوگی۔ کہ ان کی عزت اور توقیر اس بات میں ہے کہ وہ اپنی قابلیت کو تعمیری کاموں میں برو ئے کار لائیں بے جان سہارے تلاش کرنے کی بجائے اپنے میاں، بھائی، بیٹا، باپ کسی پر بھی اپنی خواہشات کے بئ جا انبار نہ ڈالیں۔۔ ان کے ساتھ کوئی برابری بھی نہیں ہے ان کی — مرد اور عورت ایک دوسرے کے لیئے لازم و ملزوم ہیں اس بات کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کا کاندھا بن کر ایک دوسرے کی زمے داریوں کو بانٹنے کا گر سیکھنا چاہیئے ۔۔۔
اب آخری بات اس قوم سے ایک مخلصانہ اپیل ڈراموں کو بس ڈرامہ سمجھ کر ہی دیکھا کریں ۔۔ ان میں خود کو نہ دیکھنے لگ جایا کریں ۔۔ کبھی رائٹرز فریم لینے کے لیئے بھی کہہ دیتے ہیں
This story based on real life 
جبکہ اس ڈرامے کا حقیقی زندگی سے دور دور تک۔بھی کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔
بقول غالب
“ہوئے تم دوست جس کے اس کا دشمن آسماں کیوں ہو۔”