سندھ میں اقلیتی برادری کی 243 عبادت گاھیں ہیں

۔صوبائی وزیراقلیتی امور ہری رام کشوری لال نے کہا ہے کہ سندھ میں اقلیتی برادری کی 243 عبادت گاھیں ہیں، جس میں مندر، گرودوارے اور گرجا گھر شامل ہےں. جن کی سیکیورٹی کی ذمہ داری محکمہ پولیس کی ذمہ داری ہے، پولیس مقامی پنچایت کی سفارش پر حفاظتی انتظامات کرتی ہے. انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی مزید بہتر کرنے کے لیے کلوز سرکٹ کیمرے لگا نے کا فیصلہ کیا ہے، اس منصوبے پر محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت جلد کام کا آغاز کیا جائے گا. صوبائی وزیر اقلیتی نے سندھ اسمبلی میں محکمہ اقلیتی امور سے متعلق وقفہ سوالات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں کی مرمت ان کی ضرورت اور فنڈز کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جاتی ہے، جس کا فیصلہ سینٹرز، ایم این ایز پر مشتمل نان مسلم ویلفئیر کمیٹی میں میرٹ پر کیا جاتا ہے. صوبائی وزیر نے کہا کہ 2017 اور 2018 میں 1250 جبکہ سال 2018 اور 2019 میں اقلیتی برادری کے 1442 ہونہار و ضرورت مند طلبہ کو تعلیم کے لئے وضائف دئے گئے. انہوں نے کہا کہ وظیفے کی رقم ناکافی ہے اور صرف سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباءوطالبات کو یہ وظائف دئے جاتے ہیں. ان کی کوشش ہے کہ وظائف کی رقم میں اضافہ کیا جائے تاکہ ہونہار طلباءاس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں. ایم کیو ایم کی ایم پی اے منگلا شرما کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت وقف املاک صوبائی معاملہ ہے. لیکن وفاقی حکومت وقف املاک بورڈ صوبوں کو منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں. انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف جس کی وفاقی حکومت ہے وہ مدد کرے تاکہ وقف املاک بورڈ صوبوں کو منتقل ہو سکے. صوبائی وزیر اقلیتی امور نے مطالبہ کیا کہ وقف املاک بورڈ چیئرمین اقلیتی برادری سے تعینات کیا جائے. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری کے طلبہ کو اسکولوں میں مذہبی تعلیم کے لئے کمیٹی کام کررہی ہے جو کہ محکمہ تعلیم اور محکمہ قانون سے مشاورت کے بعد نصاب میں اقلیتوں کے طلباءکی مذہبی تعلیم کے لئے اپنی سفارشات مرتب کرے گی. جسے سندھ کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں