ہانگ کانگ کے روز مرہ کے حالات

ہانگ کانگ کے روز مرہ کے حالات۔۔۔۔ بصیر نوید-
گزشتہ ایک ہفتے سے زیادہ ہوگیا، ہانگ کانگ کے شہری اپنے اپنے اضلاع یا علاقوں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں، اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے بھی بند ہیں، بازار زیادہ تر وقت بند ہو جاتے ہیں، ٹرانسپورٹ بہت مختصر ٹائم کیلئے سڑکوں پر آتی ہے، ٹیکسیاں وغیرہ بھی محفوظ علاقوں ۔یں چلتی ہیں، زیر زمین اور دیگر ٹرینیں بند رہتی ہیں، اسٹیشنز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، فوری درست کرلئے جاتے ہیں مگر اتنی ہی رفتار پھر توڑ پھوڑ کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ شاہراہوں پر ہمہ وقت آنسو گیس کی بو پھیلی ہوتی ہے، جا بہ جا لال اینٹیں بکھری پڑی رہتی ہیں جو مزاحمت بلکہ حملے کیلئے بھی استعمال ہوتی ہیں، بئیر کی بوتلوں کی کرچیاں ہر سو پھیلی ہوتی ہیں اور یہ تمام کچرا سمیٹنا چین سے بلائے ہوئے فوجیوں اور سپاہیوں کے ذریعے سمیٹا جاتا ہے،۔ نوجوان بئیر کی بوتلیں خرید کر غیر ۔لکیوں یا شوقین افراد کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ غٹاغٹ پی جائیں پھر خالی بوتلوں سے پیٹرول بم یا مالو ٹوو بنایا جاتا ہے، شیشے والی بوتلوں کی ری سائیکلنگ کے دو بڑے کاشانے ہیں جہاں روزانہ ایک لاکھ بیس ہزار بئیر کی بوتلیں بنتی ہیں اب چین نے انکو بئیر کی بوتلیں بنانے سے روک دیا ہے۔ مسلمانوں کیلئے متاثرہ علاقوں میں باہر نکلنا مشکل ہے کیوں کہ فضا بیئر کی خوشبو میں رچی بسی ہوتی ہے، صرف میڈیکل ماسکو پہن کر نماز کو جانا ممکن ہے کیونکہ وضو قائم رہتا ہے۔ بہت سارے بار اور ریسٹورنٹ بند ہوگئے ہیں جنکے سبب راتوں کو روزگار سے متعلق مرد و خواتین کا کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے۔مظاہرین پوری طرح مسلح ہوتے ہیں انہوں نے قد آور غلیلیں بھی بنائی ہیں جو پرانے زمانے کی منجبیق کی طرح استعمال ہوتی ہیں، سینکڑوں لڑکے لڑکیاں گرفتار کرلئے گئے لیکن تحریک پہلے کی طرح جوان ہے، پولیس کا تشدد عروج پر ہے، کھلے عام سڑکوں پر ایک نہیں متعدد پولیس والے لڑکوں لڑکیوں پر تشدد کرتے ہیں۔ پولس درآمد کردہ سیکیوریٹی اداروں نے ہانگ کانگ کو مقبوضہ علاقے سمجھ رکھا ہے، آزادی کے متوالوں کیلئے سرکاری تشدد انکی تحریک کیلئے جلتی پہ تیل کا کام کررہا ہے، مظاہرین کی خواہش ہے کہ تشدد اپنی انتہائی شکل اختیار کرلے۔ پراپرٹیوں کا کام دھیما پڑھ گیا ہے لیکن قیمتوں میں کمی نہیں آرہی ہے، کچھ ملکی اور غیر ملکی شکرے اس امید پر افواہیں بھی پھیلاتے کہ مارکیٹ بیٹھ گئی ہے، لیکن مین لینڈ کا سرمایہ کار پراپرٹیز کی قیمتوں کو مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے اور نیچے آنے نہیں دے رہا ورنہ ہانگ کانگ انکی کالونی نہیں رہے گاعلاؤہ ازیں یہاں بھی خاص طور پر تارکین وطن میں سازشی تھیوریاں عام ہیں کہ اس تحریک کے پیچھے امریکہ اور برطانیہ بلکہ اسرائیل کا ہاتھ ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ مغرب تباہ کرنا چاہتا ہے اور وہ اسی دوران ہانگ کانگ چھوڑ کر امریکہ، برطانیہ یا دبئی منتقل ہونے کی تجاویز بھی دیتے ہیں۔
jeeveypakistan.com- correspondant- report- from -Hong-Kong

اپنا تبصرہ بھیجیں