7 ارب روپے سے پچاس روپے تک، مشیران کی مہربانی

امیر محمد خان –
  7  ارب روپے سے  پچاس روپے تک، مشیران کی مہربانی – وزیر اعظم عمران خان کی پاکستان کی خوش حالی ، اور  ایک بہتر پاکستان کی خواہش  پر کوئی شک نہیں کیا جاسکتا مگر  یقین جب آئے کہ  جو  کہا جارہا ہو وہ ہو بھی۔ وزیراعظم عمران خان بے شمار مرتبہ یہ  جملے دھراچکے ہیں کہ جو وزراء  اپنی کارکردگی بہتر نہیں کرینگے  انہیں تبدیل کردیا جائے گا،  مگر  ایسا کچھ ہو نہیں سکا، اسکی وجہ  انکے اتحادی  ہیں ، وزیر  اعظم اسد عمر کا ہٹا سکتے تھے، فواد چوہدری کی وزارت تبدیل کرسکتے تھے چونکہ وہ انکی اپنی جماعت کے تھے، مستعار لئے گئے  وزراء ، مشیران کو   تبدیل کرنا  اتنا آسان نہیں    ۔وزیر ا عظم کی ان کوششوں  پر  حالیہ  مولانہ فضل الرحمان کے دھرنے اور میاں نواز شریف  کی بیماری پر کئے جانے والے  فیصلے  اور تاخیر سے لگتا ہے حکومت کو  مزید کمزوری کی طرف دھکیل دیا ہے۔ کمزور نہیں تو  پریشان ضرور کردیا ہے، س میں قصور وزیر  اعظم کا نہیں بلکہ  انکے  مشیروں کا  ہے، حالیہ مشیر  جو  کئی جماعتیں  سے پھلانگے لگاتے ہوئے تحریک انصاف  میں آئے ہیں  وہ    ”ہوا کا رخ“دیکھتے ہوئے جماعتوں کا رخ کرتے ہیں  اور  یہ عام کہاوت ہے  اور صحیح بھی ہے  کہ  مشیر  ہی  حکومتوں کی ناکامیوں کا  سبب بنتے ہیں اگر  حکومتی  جماعت   تجربہ نہ رکھتی ہو، تو یہ ہی وقت  مشیران  کی چاندی کا  وقت ہوتا ہے ، اور خاص  کر کہ   جبکہ وہ  جماعت سے تعلق نہ رکھتا ہو  اور اکثر مشیران  مستعار لئے ہوئے ہوتے ہیں جو  اپنی نشستوں پر انتخابات کے ذریعے   عوام کی پذیرائی حاصل نہیں کرسکتے ،  یہ غیر منتخب لوگ  وزراء  اعظم کی  ”کچن کیبنٹ ”کا  حصہ بن جاتے ہیں وزیر اعظم کی خشنودی کیلئے  وہ  ایسے ایسے بیانات  داغتے ہیں مگر  یہ خوشنودی  وزیر اعظم کیلئے مشکلات پیدا کردیتی ہیں  جسکی پرواہ   مشیران کو نہیں ہوتی  انکا کچھ بھی داؤ پر نہیں لگا ہوتا   چونکہ حکومت کی تبدیلی کی صورت میں و ہ  کسی بھی نظریے، کسی بھی سوچ کی حامل جماعت میں پھر  اپنی جگہ بنانے میں  کامیابی حاصل کرلیتے ہیں اور عقل کی اندھی  ہر آنیوالی حکومت  انکے دام  میں پھر پھنس جاتی ہے  اور مشیران کی دوکان پھر کھل جاتی ہے۔ سابق  وزیر اعظم کی بیماری کی صورت میں انکی بیرون ملک  متنقلی کے معاملے میں لگتا ہے کچھ ایس ہی ہوا  وزیر اعظم نے انسانی بنیادوں، اور بیماری پر سیاست نہ کرنے کا  فیصلہ کرتے ہوئے  سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی پاکستان جانے کی حمایت کی ۔ مشیران  کی یہ بھی عادت ہوتی  ہے وہ بیانات میں اپنے قد کاٹھ کا خیال نہیں کرتے  اور اپنے سے بہت بڑے انسان  کے خلاف  آوازیں نکالتے ہیں،بے ہودہ بیانات بھی دیتے ہیں اور  جسکے خلاف وہ بیان بازی کرتے ہیں  وہ انکے منہ نہیں لگتا ، یہ صورتحال انکے لئے نہائت  تکلیف دہ ہوتی  ہے۔ خیر ذکر ہورہا تھا کہ  میاں نواز شریف کی بیرون ملک روانگی  پر  وزیر اعظم کی حمائت پر  مشیران چیخ پڑے اور مشورہ دے ڈالا  کہ اسکے باوجود  کہ ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نے اچھی خاصی ضمانت لیکر  رہا کیا تھا  چار ہفتہ کیلئے مگر ایک غیر قانونی  شق  مشیران جن میں  پی پی پی کو تباہی کے دھانے پر لانے والے  وکیل اور دانشور  بابر اعوان، اور  لندن والے  الطاف حسین  کو نیلسن مینڈیلا کے بعد  دوسرا  لیڈر قرار دینے والے،  آرٹکیل  ۶ ، اور بغاوت کے مقدمے میں  پرویز مشرف  کے وکیل  موجودہ حکومت کے  وزیر قانون  فروغ نسیم نے اربوں روپے کے بانڈز حکومت کے پاس جمع کرانے کے  بعد  ملک سے باہر  جانے کی اجازت دینے کا  عندیہ دیا ،  اور اس بیمار سابق وزیر اعظم کی جان  سے  نہائت بے  رحمی سے کھیل گئے، تقریبا  ایک ہفتہ کی تگ دو   نیب ، حکومت،  کے درمیان بیمار وزیر اعظم کی باہر جانے کی درخواست  کو  فٹ بال بنایا گیا ، بلاآخر  مسلم لیگ  ن  کو عدالت  جانا  پڑا،  اور عدالت سے زیادہ کام  میاں شہباز  کے ”رابطوں “ نے کیا  اور عدالت نے  بانڈز کی شرط  نہ صرف ختم کردی  جو کہ  خود  تحریک انصاف کے حمائتی  قانون داں بھی کہہ چکا تھے کہ بانڈز لینا کسی قانون میں موجود نہیں۔ بڑے بوڑھوں نے کہا کہ  کبھی بڑا بول نہ بولو  اگر  خوامخواہ تو اسکا سامنا خود بھی کرنا پڑتا ہے،  حکومت کے  نوجوانوں کے مشیر  عثمان ڈار نے مولانہ فضل الرحمان کے دھرنے پر انکے پیش کردہ  مطالبے پر کہا  تھا کہ پٹھان کمبل کی قیمت پانچ ہزار بتاکر پانچ سو  روپیہ میں کمبل بیچ دیتا ہے، سابق وزیر اعظم کی جانب سے  یا  میاں خاندان سے  سات ارب کی سیکورٹی  مانگی اور  بلاآخر  پچاس  روپیہ کے  بانڈز پر انہیں باہر جانے کی اجازت دے دی گئی،  سابق وزیر اعظم  علاج کے سلسلے میں   بلا ضرورت تاخیر پر اعتراض  تحریک انصاف کے اتحادیوں نے بھی بھر پور کیا۔ مگر حکومت کے مشیران نے وزیر  اعظم کو انکی نہ سننے کے مشورے دیتے رہے چونکہ اس میں انکا کوئی نقصان نہیں تھا  انہوں نے یہ بھی نہ سوچا  موجودہ حکومت کی بساط  ہی  اتحادیوں کے ساتھ بچھی ہوئی ہے ۔ شیخ رشید پہلے ہی اپنی نجی محافل میں کہہ چکے  ہیں کہ وہ    ”ٹبر  “ سے دلچسپی نہیں رکھتے انکا اتحاد صرف اور صرف عمران خان سے ہے ،  کل یہ ہی بات  ق لیگ کے ذولفقار چیمہ نے کہہ دی کہ  ق لیگ کا اتحاد  تحریک انصاف سے نہیں  بلکہ عمران خان سے ہے  اسکا مطلب وہ بھی  بقول  شیخ رشید    ”ٹبر “ سے ناخوش ہیں، اس معاملے پر  ایم کیو ایم نے حکومت سے بھر پور مطالبے کئے کہ  نواز شریف کے جانے پر شرائط  نہ لگائی جائیں ، اور اب عدالتی  حکم پر باہر جانے سے  ان  اتحادیوں کی ناراضگی بنتی ہے  کہ انکی  بات کو اہمیت نہ دی گئی۔  اب انہیں راضی کرنے کیلئے  انہیں وزارتیں دینا پڑینگی۔انکے راضی ہونے کا  صرف یہ  ہی طر یقہ ہے،  ق لیگ کی ناراضگی  تحریک انصاف کو کبھی  بھی مہنگی پڑسکتی ہے چونکہ  مسلم لیگ  ن  اور  ق میں کوئی زیادہ  اختلاف نہیں ، اور چوہدریوں کی  خواہش  کبھی مرکز نہیں رہا  مگر پنجاب  ضرور رہا ہے   اور جسکے پاس پنجاب ہے  وہ  ہی  مرکز ہے  ۔ چوہدری پرویز الہی   حکومتی کارکردگی  پر  برملا  اظہار  کرچکے ہیں اور پنجاب پر حکمرانی  اپنا حق تصور کرتے ہیں۔ اگر  مسلم لیگ ن  نے ق سے ہاتھ ملا لیا تو  کیا ہوگا ؟؟ شائد  خواجہ آصف   یہ کہیں سے سن کر آگئے  تھے جو وہ   پیٹ میں نہ رکھ سکے اور اسمبلی میں  پھٹ پڑے  بہر حال  لگتاہے بہت کچھ ہورہا ہے۔  وزیر اعظم عمرانخان کا یہ مسئلہ ہے کہ انہیں غصہ بہت جلد آتاہے  تحمل سے معاملات کو حل کرنے میں انہیں مشکل ہے مگر اب معاملات  تحمل سے ہی   دیکھنا پڑینگے  ورنہ  اپنے پیٹ میں بات کو  زیادہ دیر رکھنے والے  خواجہ آصف   جو  کچھ  اسمبلی میٰں کہہ گئے ہیں  اس میٰں  سو فیصد  نہ صحیح  اگر دس فیصد بھی صحیح ہے تو  یہ حکومت کیلئے خطرناک ہے۔  وزیر  اعظم  اور وزراء نے کہ  حوصلہ افزاء بات کی ہے  کہ سول اور ملٹری قیادت ایک پیج  پر  اللہ کرے ایسا ہی ہو ، چونکہ ہماری  سیاسی  تاریخ کا بڑی  ذرخیز ہے  ذولفقار علی بھٹو  شہید کے تختہ  الٹنے سے دو دن  قبل بھی  پیج ایک ہی تھا ۔ اور مرحوم غلام  حیدر  وائیں کی وزارت اعلی  پر  ایک صبح ممبران نے منظور وٹو کو  وزیر اعلی بنادیا تھا   مگر  موجودہ  پاکستان کے مسائل میں بہادر افواج  کو  سرحدیں مضبوط کرنے میں بھر پور دلچسپی ہے۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں