ق لیگ حکومتی اتحادی پوزیشن پر نہیں رہی، فضل الرحمٰن

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کے ذریعے حکومت سے کسی ڈیل یا مفاہمت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہےکہ پرویز الٰہی سے یا ان کے ذریعے کوئی ڈیل اور مفاہمت نہیں ہوئی، وہ اس بات کی پرزور تردید کرتے ہیں، عمران خان کو کپکپی لگ گئی ہے، ہم ان سے استعفیٰ لیکر رہیں گے، اگلے سال بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری صاحب کو دوٹوک کہا ناجائز حکومت کےخاتمے کےعلاوہ کوئی ہدف نہیں ، میرے نزدیک مذہب سیاست ہے، شکر کریں ڈی چوک گیا نہ ہی کسی ادارے کی طرف لپکا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے جیو نیوز کے پروگرام ”جرگہ“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کا استعفیٰ لیے بغیر تحریک نہیں روکیں گے، ایک دھرنے سے بہت سارے دھرنوں میں منتقل ہوئے لیکن مطالبہ وہی ہے، اگلا سال جنوری سے نئے نظام کے ساتھ نظر آئے گا ، وزیر اعظم سے استعفیٰ لیں گے اور اسمبلی بھی نہیں رہے گی، ق لیگ کی حکومتی اتحادی ہونے کی پرانی پوزیشن برقرار نہیں رہی۔اسلام آباد کے ایک دھرنے سے بہت سارے دھرنوں میں منتقل ہوئے لیکن مطالبہ وہی ہے، ہمارا سڑکوں کو بند کرنا جائز ہے ، پاکستان سمیت دنیا بھر میں جمہوری نظام میں یہ چیزیں چلتی رہتی ہیں، حکومت سے جائز مطالبہ منوانے کیلئے یہی راستے دنیا میں اختیار کیے جاتے ہیں، احتجاج کا یہ راستہ معمول کا اور جمہوری راستہ ہے، عمران خان بنی گالہ میں آرام سے نہیں بیٹھا حواس باختہ ہے، اسے کپکپی لگی ہوئی ہے شکست خوردگی کے عالم میں ہے، میں جانتا ہوں وہاں کتنا خوف و ہراس ہے، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ایک سال میں پرامن ملین مارچز اور آزادی مارچ کیا جو تاریخ میں لکھا جائے گا، سڑکوں پر ایمبولینس، بارات، خواتین، بچوں اور میت کو جانے دے رہے ہیں، اب فیصلہ کیا ہے دن کے درمیان سڑک بند رکھیں گے رات میں کھول دیں گے، قوم کے کرب میں شریک ہیں بڑے پتھر کو ہٹانے کیلئے مشقت برداشت کرنا پڑے گیفضل الرحمن کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت اور ایم کیو ایم کے لہجہ میں تبدیلی آگئی ہے، دھرنے سے حکومت کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی ہے، وزیراعظم اور وزراء کے مذاق اڑانے نے ہی کام خراب کیا ہے، پاکستان کی تاریخ میں اتنی غیرسنجیدہ حکومت کبھی نہیں دیکھی گئی، موجودہ حکومت ناجائز بھی ہے اور نااہل بھی ہے، یہ بات طے ہے عمران خان نے استعفیٰ دینا ہے باقی باتیں ملاقاتیں سب سے ہوتی رہیں گی۔