پاکستان آسٹریلیا کو کیسے شکست دے، مکی آرتھر نے بتادیا

پاکستان کرکٹ ٹیم آسٹریلیا کو کیسے شکست سے دوچار کر سکتی ہے اس حوالے سے سابق کوچ مکی آرتھر نے اپنے ایک بیان میں بتادیا۔

قومی ٹیم اس وقت آسٹریلیا میں موجود ہے جہاں اسے 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں کینگروز سے نبرد آزما ہونا ہے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا میچ 21 نومبر سے برسبین میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا معارکہ 29 نومبر سے ایڈیلیڈ میں کھلا جائے گا۔

سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹائے جانے کے بعد اظہر علی قومی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ مکی آرتھر کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد اب مصباح الحق قومی ٹیم کی کوچنگ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

تاہم سابق کوچ مکی آرتھر نے غیر ملکی ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو آسٹریلیا کو سخت چیلنج دینے کے لیے رنز بنانا ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان کی بیٹنگ لائن مضبوط ہے اور میرا خیال ہے کہ پاکستان مناسب رنز بورڈ پر لگا لے گا، تاہم یہاں پر آسٹریلیا کو دو مرتبہ آؤٹ کرنے کی صلاحیت کا امتحان ہوگا، تاہم محمد عباس اور شاہین آفریدی جیسے بولر کی موجودگی میں کوئی ابہام باقی نہیں رہتا۔

مکی آرتھر نے لیگ اسپنر یاسر شاہ کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یاسر ایک بہترین بولر ہے، مجھے امید ہے کہ وہ یہ چیلنج قبول کرنے کے لیے خود آگے آئیں گے۔

قومی ٹیم کی فیلڈنگ کو بھی مکی آرتھر نے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیلڈنگ کوچ گرانٹ بریڈبرن نے ٹیم کے ساتھ بہت محنت کی ہے، یہ کھلاڑیوں پر منحصر ہے کہ وہ موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔

سابق کوچ نے موجودہ ٹیم کی غیر تجربہ کار بولنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لیے حیران کن ہے کہ ٹیم میں اتنے زیادہ غیر تجربہ کھلاڑیوں کو شامل کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے آسٹریلیا کو اس کے ہوم گراؤنڈ میں شکست دینے کے اہم ترین نقطے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کینگروز کے سامنے یہ حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے کہ آپ کو اسکور کس طرح آگے بڑھانا ہے۔

مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ اپنی وکٹ بچانے کے بجائے رنز بنانے کے مائنڈ سیٹ کو تیار کروانا ہوگا، کیونکہ آسٹریلین بولرز اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ابتدائی اوورز میں وکٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں اور گیند کو پرانا کرنے کے ساتھ ساتھ دباؤ برقرار رکھتے ہیں جس بعد نیتھن لیون بھی اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔

انہوں نے اظہر علی، اسد شفیق اور بابر اعظم کو پاکستان کی جانب سے خطرناک کھلاڑی قرار دے دیا اور کہا کہ ان کھلاڑیوں کے لیے گزشتہ ٹور بھی اچھا رہا تھا، تاہم ان کے کھیل میں مزید نکھار آچکا ہے۔

بابر اعظم سے متعلق بات کرتے ہوئے مکی آرتھر نے کہا کہ وہ ایک ناقابل یقین بیٹسمین ہے، اس نے خود کو محدود اوورز کی کرکٹ میں منوالیا ہے، وہ دن دور نہیں جب یہ ٹیسٹ فارمیٹ میں بھی رنز بنانا شروع کردے گا۔

آسٹریلیا میں جیت کے لیے انہوں نے بیٹنگ کے اندر دفاعی اور جارحانہ حکمت عملی کے فیصلوں پر پختگی کو اہم ترین قرار دیا