کیا ایک اور لاش سندھ کو ملے گی؟؟؟

** کیا ایک اور لاش سندھ کو ملے گی؟؟؟

سندھ تین مردہ وزراءاعظم کی بلٹی وصول کرچکا ہے, تین وزراءاعظم تابوت میں بند ہوکر سندھ کی دھرتی میں دفن ہوچکے ہیں ۔ ان میں سے ایک کو کراچی میں قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ اور دو کو گڑھی خدا بخش کے گور غریباں میں دفن کردیا گیا۔ کسی بھی سندھی وزیراعظم کو علاج کی سہولت دستیاب نہی ہوسکی، لیاقت علی خان کے قاتل، سرکاری وظیفہ خوار سید اکبر کو اسی جگہ فی الفور ختم کردیا گیا۔ تاکہ ہر قسم کی تفتیش سے بچا جاسکے ” نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا”

شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پنڈی میں ایک آمرانہ فیصلہ کے ذریعہ پھانسی دی گئی۔ اور لاش ایک تابوت میں بند کرکے سندھ کے حوالے کردی گئی۔شہید ذوالفقار علی بھٹو کی نماز جنازہ کی اجازت بھی نہی دی جارہی تھی وہ تو اللہ بھلا کرے ان دس افراد کا کہ جو جان پر کھیل کر نماز جنازہ پڑھنے کے لئے ڈٹ گئے۔ اور بندوقوں کے پہرے میں شہید کی نماز جنازہ اداکی گئی ۔پنڈی جیل کی کال کوٹھڑی میں شہید ذوالفقار علی بھٹو دانتوں کی شدید تکلیف میں مبتلا تھے لیکن اس وقت کے آمر جنرل ضیاء الحق نے انکو ڈاکٹر سے نہ ملنے دیا اور بھٹو صاحب کو اسی بیماری کے عالم میں1971ء کے شکست خوردہ پاکستان کو ایک باوقار ملک بنانے کےجرم میں سولی چڑھا دیا گیا۔ ڈاکٹر، میڈیکل بورڈ اور ایسی کوئی سہولت بے گناہ سندھی وزیراعظم شہید ذولفقار علی بھٹو کو نہی دی گئی بھٹو صاحب موت کے بعد زندہ ہوگئے اور پیپلز پارٹی آج تک اس پھانسی سے فیض یاب یورپی ہے۔

بےنظیر بھٹو کیا زندہ عورت تھی، ساری زندگی ظلم، جبر، ناانصافی کو برداشت کیا لیکن پاکستان کی بات کی،مقتدر حلقوں نے سیکیورٹی رسک قراردیا لیکن وہ بےنظیر پاکستان کی جنگ لڑتی رہی۔ شہید باپ، دو بھائیوں، اور مفلوج ماں کی لاش کاندھوں پہ لادے پاکستان کا نعرہ لگاتے پنڈی میں شہید کردی گئی، ایک اور سندھی وزیراعظم سیاستدان کی لاش پنڈی سے تابوت میں بند ہوکر گڑھی خدا بخش کی زمین میں دفن ہوگئی۔

بےنظیر بھٹو کے قتل پر سارا سندھ جل رھا تھا ایسے میں پاکستان کھپے” پاکستان کھپے نعرہ صرف آصف علی زرداری ہی لگا سکتا تھا۔آج وہ پنڈی کی عدالتوں میں اپنے اس نعرے کی سزا پارہا ہے۔ اس سے فیر ٹرائل کا حق بھی چھین لیا اور اس کے وہ سارے مقدمات کہ جن کا تعلق سندھ سے ہے انکو اسلام آباد میں چلانے کا حکم دیا۔ بیمار لیکن بہادر آصف علی زرداری آج بھی ڈٹا کھڑا ہے ۔
سندھ ایک مرتبہ پھر ایک اور لاش کا منتظر ہے کیا انصاف کے پیمانے مختلف ہیں،سندھ کے وزیراعظم اور صدر کےلئے الگ ترازو ہے اور کیا سندھ کے صدر اور وزراء اعظم کے لئے صرف پھانسی،قتل