ایک تربیت یافتہ انگریزسرجن اور سمندری کپتان

بچپن   میں  ایک کہانی  پڑھی تھی۔ایک تربیت یافتہ انگریزسرجن اوربیک وقت سمندری کپتان کی۔ جومختلف ثقافتوں اوررسم ورواج کو جاننے کیلئے دنیا بھرکا سفر کرتا ہے۔اس مہم جو کی زندگی کا یہ مہماتی سفرسولہ سال  اورسترہ مہینے پرمشتمل  ہےجوگولیورزٹریلوزکےنام سے مشہورہوا۔ مہم جوئی کے پہلے سفرمیں ہی گولیورکا جہاز تیزآندھی و طوفان کے باعث تباہ ہوجاتا ہے۔ واحد زندہ بچ جانےوالا سیاح تیرکرقریبی ساحل تک جاتا ہےجہاں کے باشندے قد میں چھے انچ سے بھی زیادہ نہیں تھے۔یہ بونےاپنےدرمیان ایک دیوہیکل آدمی کو پاکراس پرحملہ کردیتے ہیں ۔جن سے خود کوبچاتے بچاتے گولیورتھک کرریت پر ہی سوجاتا ہے۔بیدارہونےپراسےاندازہ ہوتا ہےان بونوں نے اسے ہلکے ہلکے بےشمار باریک دھاگوں سے جکڑدیا ہے۔وہ حيران تھا کہ ان بونوں کےدرمیان تناور ہوتے ہوئے بھی وہ بے بس اورخود کو آزادکرانے سے قاصرتھا۔یہاں اس             کہانی کا تذکرہ یوں ہوا کیونکہ انسان  کو زمین پر اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ۔مگرخواہشات کے باریک باریک  بےشمار دھاگے اسےجکڑتے چلے گئے۔وہ بے بس اوربےبس  ہوتا چلاگیا۔وہ جسے زمین پرنائب کائنات بناکر بھیجا گیا تھا ۔اسی انسان نے دنیاوی ترقی کے نام پر زمین کی تباہی کا آغاز کیا۔یہ زمین جسے          قدرت نے ہرطرح کی دولت سے نوازاتھا ۔ریت ،بجری اورکنکریٹ کا جنگل بنتی گئی۔ صنعتی ترقی کےنام پر کی جانے والی تعمیرات اوران کے فضلے نے قدرت کے عطاکردہ سمندر کو کچرے کا ڈھیربنادیا۔بحیرہ عرب کے ساحل پر آباد مملکت خداداد پاکستان کے سب سے بڑ ے شہرکراچی المعروف عروس البلاد کو سمندری طوفانوں اورسونامی سے بچانے والے قدرتی محافظ اورسمندرکا فطری حسن مینگرووز کی کٹائی تیزی سے جاری ہے۔مینگرووز کو  اردو میں تمر کہاجاتاہے ۔جو ممالک گرم سمندر کی دولت سےمالا مال ہیں وہ تمر کے جنگلات کے تحفظ اورا س  کی بقا کیلئے کوشاں ہیں ۔دوہزارچارمیں دنیا نےتمر کے جنگلات کی اہمیت کا اقرارکیا جب انڈونیشیا اوربحرہند کے کئی ساحلی ممالک  میں سونامی دولاکھ سے زیادہ انسانوں کو بہا لےگیا۔ جبکہ کروڑوں دربدرہوئے۔طوفان سے ہونےوالی تباہی کا جب اندازہ لگایا گیاتودیکھا یہ گیا جن علاقوں میں تمر کے جنگلات موجود تھے وہاں تباہی کی شرح غیرمعمولی طورپرکم رہی۔مینگرووز کےجنگلات کی افادیت کےپیش نظرانہیں آکسیجن کین بھی کہا جاتا ہے۔ موسم گرما میں یہ ساحلی علاقوں میں گرمی کی حدت کو کم کرتے ہیں۔سمندری کٹاؤ ، طوفان اورسیلاب کی شدت کو کم کرنےمیں قدرتی حصار کا کام دیتے ہیں ۔اس کے ساتھ  سمندرکےپانی کے بہاؤ  کو کم کرنے میں مددگارثابت ہوتے ہیں ۔یہ جنگلات ہی سمندرکو زمین کی طرف پیش قدمی سےروکتے ہیں۔مینگرووز کی جڑوں میں موجود کیچڑمچھلی  اورجھینگوں کی نرسری ہے۔جہاں  ان کی افزائش ہوتی ہے۔یہی مچھلی اورجھینگے نہ صرف ہماری ملکی خوراک کی کمی کو پورا کرتے ہیں بلکہ انہیں ایکسپورٹ کرکے اربوں روپےکازرمبادلہ بھی  حاصل کیا جاتا ہے۔کراچی کے شمال مشرقی حصے میں ایک پاورپلانٹ کی تعمیرکیلئے بڑےپیمانے پرکاٹے گئے مینگرووز  کےجنگلات نے مقامی کمیونٹی میں غصہ کی لہردوڑادی۔ جنگلات کی کٹائی کےنتیجےمیں مچھلیوں اورجھینگوں کی افزائش نسل متاثرہوئی جس سےوہاں موجود ماہی گیروں کے روزگارپرضرب پڑی ۔نتیجےمیں ابراہیم حیدری ،ریڑی گوٹھ،چشمہ گوٹھ اورلٹ بستی کےمکینوں کی بڑی تعداد احتجاج کیلئے نکل پڑی۔اس احتجاج کی خاص بات یہ تھی کہ یہ کسی سڑک پرنہیں بلکہ سمندرمیں ہورہا تھا۔کسی بھی جمہوری ملک میں پرامن احتجاج  ہرشہری کا حق ہے،قانون  کی پاسداری اوراپنےحق کا استعمال کرتے ہوئے ابراہیم حیدری ،ریڑی گوٹھ ،چشمہ گوٹھ اورلٹ بستی کے سینکڑوں  مکین لانچوں کے ذریعے سمندرمیں اترگئے ۔اس احتجاج میں ایک  مردوں کے علاوہ بڑی تعداد میں ہرعمرکی خواتین اوربچوں نےبھی بھرپورشرکت کی۔اس موقع پر احتجاج کی سربراہی کرنےوالےماہی گیربچاؤ تحریک کے عرفان عمر، سید یوسف  شاہ ، فاطمہ مجید ، مجید موٹانی ، غلام حسین  چارن سمیت  دوسرےارکان نے بھی اظہارخیال کیا۔انہوں نے کہا پاورپلانٹ کی سائٹ نہ صرف ماحولیاتی حوالے سے حساس ہے بلکہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں مینگرووز کےجنگلات کی نشونما ہوتی ہے جو کہ ماحولیا تی لحاظ سے بہت اہم ہے۔انہوں نے کہاکہ لٹھ بستی اور ریڑھی گوٹھ کے قریب مچھلی کا شکار کرنے کے لئے جانے والے ماہی گیروں کی گذرگاہوں کے راستے بند کرکے مذکورہ پلانٹ کوکوئلہ پہنچانے کی سہولت پیدا کرنے کے لئے پل بنایا جارہا ہے۔ جس کے باعث علاقے کے ماہی گیروں کے سرپربیروزگاری کی تلوارلٹکنےلگی ہے۔، پاور پلانٹ کا گرم پانی اورکوئلے کی راکھ سمندر میں جانے سے سمندری گدلا پن بڑھے گا  نتیجے میں آبی حیات کو بھی شدیدخطرہ ہوگا۔احتجاج میں شامل خواتین کا کہنا تھا مفاد پرستوں نےان کے روزی کے پیالےمیں جگہ جگہ سوراخ کردیے ہیں۔ابراہیم حیدری کراچی کورنگی کا ایک پسماندہ علاقہ ہے۔اس ساحلی پٹی پرکئی گاؤں آباد ہیں ۔ جہاں  مقامی کمیونٹی کی اکثریت ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ ہے۔ان لوگوں کا ماننا ہے کہ  ان کے اجداد صدیوں پہلے سمندر کنارے آباد ہوئے تھے۔یہاں کےمکین مچھلی پکڑنےکےعلاوہ کوئی دوسرا کام نہیں جانتے  یہی پیشہ ان کےگھرکا چولہا گرم رکھے ہوئےہے۔احتجاج کے حوالےسے ان میں سے بیشترنے کہا ہمارے احتجاج پر ایک بے تکی دلیل دی جا رہی ہے کہ اس عمل کے ذریعے بجلی کے بحران پر قابو پا نے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس حوالےسے سابق ڈی جی میرین معظم خان کا کہنا ہے ڈویلمپنٹ اورماحول کے درمیان توازن ضروری ہے۔بعض اوقات ملکی مفادات کیلئےنہ چاہتے ہوئے بھی ایسے اقدامات کرنے پڑتے ہیں جن سے اینرجی کرائسس پرقابوپانے میں مدد ملے۔اس کیلئےاگرماحول دوست تمرکےجنگلات کا کاٹنا پڑے تواس کے متبادل کےطورپرایک کی جگہ پانچ درخت لگائیں جائیں تاکہ نقصان کا ازالہ کیا جاسکے۔سابق ڈی میرین نے کہا پاورپلانٹ جہا ں بھی لگے گا ماحول کو نقصان پہنچےگا۔لیکن اس نقصان سے زیادہ وہ فائدہ ہے جوآنےوالی نسلوں کےکام آئےگا۔پاکستان میں تقریبا ایک ہزارکلومیٹرطویل ساحلی پٹی موجود ہے۔کراچی کا سمندری کنارہ 129کلومیٹرپرمحیط ہے۔جواسے ماحولیاتی اعتبارسے مختلف بناتا ہے۔یہاں چھوٹےچھوٹے جزیرے، اور تمر کےجنگلات  کی بہتا ب ہے۔ مینگرووز کی جڑیں زمین میں نہیں بلکہ زیادہ ترمٹی یا ریت میں نموپاتی ہیں۔مختلف رپورٹ  اور ریسرچ  کے مطابق تمر کے جنگلات کی تعداد میں ماحولیاتی آلودگی اورمسلسل کٹائی کےباعث  کمی واقع ہوئی ہے۔ ماضی کے مقابلے میں یہ اتنےرقبےپرنہیں ہیں جیسے  آج سے چالیس سال پہلےہواکرتے تھے۔1985  میں مینگرووز کےخوبصورت اورجنگلی حیات سے بھرپور جنگلا ت 2لاکھ 28ہزار812ہیکٹرتک پھیلے ہوئے تھےجو اب 73 ہزارایک سو ہیکٹررقبے پررہ گئےہیں۔۔پہلےیہاں تمر کی آٹھ اقسام ہوتی تھی ۔میٹھا پانی میسرنہ ہونے کی وجہ سے صرف ان میں سے پانچ ناپید ہوچکیں ہیں۔جبکہ تین ابھی بھی سمندری محافظ کا کرداراداکررہی ہیں۔ڈبلیو ڈبلیو ایف میں بطور میرین بیالوجسٹ خدمات انجام دینے والے معظم خان  نےمینگرووزکی تعداد کےحوالے سے  ماضی کے ان تمام دعووں کی نفی  کی۔ان کا کہنا ہےاس وقت پاکستان میں مینگروز کا ٹوٹل کور یعنی مینگروز کی تعداد 73ہزارنہیں بلکہ یہ جنگلات  129ہزارہیکٹررقبے پر پھیلےہوئے ہیں ۔یاد رہے 2009میں حکومت سندہ نے کیٹی بندرمیں وفاقی حکومت کے تعاون سے ایک روز میں تمرکےپانچ لاکھ سے زائد پودےلگاکرورلڈ ریکارڈ قائم کیا تھا۔2010میں ہندوستان نے چھ لاکھ سے زائد پودےلگاکر یہ اعزازاپنےنام کیا۔2013میں حکومت سندھ ،غیرسرکاری ادارےاورماحولیات کی بقا کےلئےکام کرنے والی عالمی تنظیم آئی یوسی این نےمل کرمینگرووزکےآٹھ لاکھ سے زائد پودے لگاکرپڑوسی ملک پربرتری حاصل کی۔پانچ سا ل بعدیعنی  گزشتہ سال اپریل میں  حکومت سندھ نے اپنا ہی ریکارڈ مینگرووز کے گیارھ لاکھ سے اوپرپودے لگائےہیں۔سابق ڈی جی میرین کا کہنا تھا کہ آگاہی اورشجرکاری مہم کی وجہ سے ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ان کا کہنا ہے  دنیا میں بہت کم علاقے ہیں جہاں  یہ درخت  ساٹھ سے ستر فیصد ہی بڑھتے ہیں جبکہ پاکستان کا شماران ممالک میں ہے جہاں ان کی بقا نویں فیصد تک ہے۔کوئی بھی   پاورپلانٹ بنانےقبل اس علاقے کے سماجی اورماحولیا تی سسٹم پرغورکرنا بہت ضروری ہے۔ایسے کسی بھی پروجیکٹ کی تعمیر سے قبل مقامی کمیونٹی کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔کیونکہ نقصانات اورآفادیت کی آگاہی دیے بغیر ذہنوں میں پہلےسےپلنے والے منفی خیالات   اورپلانٹ لگنے کے بعد آب و ہوا میں تبدیلی  اورروزگارکےمسائل  مقامی کمیونٹی  کو ادارو ں سے منحرف بھی کرسکتے ہیں ۔یہی سے احساس محرومی جنم لیتا ہے جو حالات کو مزید بد سے بدتربنادیتا ہے۔دوسری جانب آج سے پانچ سال قبل فرانسیسی خبررساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین سے اس خدشےکا اظہارکیا تھا کہ کراچی کے ساحل پرمینگرووز کے قدرتی حصارکی تباہی  اورکٹائی کا سلسلہ اگریوں ہی جاری رہا توتقریبا دوکروڑ آبادی والے شہرکو سمندری طوفانون  اورسونامی جیسی آفات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔اگراس رپورٹ کےتناظرمیں دیکھا جائےتوحال ہی میں  بحیرہ عرب میں بننے والے اب تک کے طاقتورطوفان کیارکی منہ زوری کراچی والے دیکھ چکے ہیں۔طوفان کے اثرات سے ہی ہاکس بے کے سمندرنےجوش مارا ۔کئی کئی فٹ اونچی لہروں کےباعث پانی سڑک پرآگیا۔ابراہیم حیدری کی ساحلی پٹی پرآباد مختلف گوٹھوں میں سمندری پانی           گھروں میں داخل ہوگیا ۔نتیجےمیں چشمہ گوٹھ ،ریڑھی گوٹھ اورلٹھ بستی کےڈیڑھ سوسےزائد گھرزیرآب آگئے۔جبکہ ڈی ایچ اے گولف کلب اورکیماڑی کی آبادی بھی سمندری پانی سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ساحلی پٹی پربسنےوالی مقامی آبادی اس طوفان کیارکو مینگرووز کی کٹائی کا شاخسانہ قراردیتی ہے۔مگرتصویرکا ایک رخ یہ بھی ہے جب سمندرکےپانی میں کراچی شہرکا کرورڑوں ٹن گھریلواورصنعتی فضلہ ٹھکانےلگایا جائےگا۔پانچ سے دس ہزارٹن کچرا بھی پھینکا جائےگا۔جس میں موجود پلاسٹک بیگز کوآپ تمرکےجنگلات کی جڑوں میں جھولتا ہوا دیکھ سکتے ہیں ۔کہیں کوئی کچھوا پلاسٹک کی بوتل میں پھنسا آخری سانسیں لے رہا ہوتا ہے۔ان حالات میں بحری حیات اورتمرکےجنگلات کی افزائش پھران کی جڑوں میں مچھلی اورجھینگے کی نشونما دیوانےکا خواب ہی ہوسکتی ہے۔اس حقیقت سےانکارنہیں ہے کہ سندھ کی ساحلی پٹی پر مینگرووز کی کٹائی تیزی سے جارہی ہے۔مجھے یاد نہیں پڑتا کبھی مینگرووز کی کٹائی پر کسی کو سزا ہوئی ہو۔چندہزارجرمانےسمیت اگرسخت سزائیں بھی دی جائیں توہوسکتا ہے قدرت کے عطاکردہ اس سمندری محافظ کو بچایا جاسکے۔ابھی بھی وقت ہے کہیں دیرنہ ہوجائیں ۔ written-by-Rubab-Inam





اپنا تبصرہ بھیجیں