امریکی کمیشن نے ’’سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کا پول کھول دیا

پاکستان نے امریکی کانگریس کے ٹام لینٹس ہیومن رائٹس کمیشن کی مقبوضہ کشمیر پر کھلی سماعت کا خیرمقدم کیا ہے ۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ امریکی کانگریس کے ٹام لینٹس انسانی حقوق کمیشن کی مقبوضہ کشمیر پر کھلی سماعت 14 نومبر کو واشنگٹن ڈی سی میں ہوئی، کمیشن نے اپنے مشاہدات میں مقبوضہ کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو دوبارہ لاگو کیا ہے ۔کمیشن نے اپنے مشاہدات میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں اور انسانی المیہ کو بھی اجاگر کیا اور بھارت کو اپنی ظالمانہ پالیسیوں اور مذہبی و نسلی ظلم و ستم کا تسلسل جاری رکھنے سے روکنے اور بین الاقوامی برادری پرمقبوضہ خطے میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں کے حوالے سے آزادانہ تحقیقات کرانے کیلئے زور دیا گیا۔ اس سے بین الاقوامی برادری کے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر مسلسل تحفظات کی عکاسی ہوتی ہے ۔امریکی ایوان نمائندگان کی ایشیاپر ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک ماہ سے بھی کم مدت میں امریکی کانگریس کے ٹام لینٹس کمیشن کی سماعت کا انعقاد کیا گیا۔ کمیشن کے پینلسٹس کے مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام کی آواز بننے کے حوصلے قابل تحسین ہیں۔ پاکستان امریکی کانگریس کے ٹام لینٹس ہیومن رائٹس کمیشن کی مقبوضہ کشمیر پر سماعت کا خیر مقدم اور امریکی اراکین کانگریس کی مقبوضہ کشمیر میں عوام پر جاری ظلم و ستم پر اپنے ضمیر کی آواز بلند کرنے کی کوششوں کو تسلیم کرتاہے ۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا بھارت مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز کو مظالم سے خاموش کر رہا ہے تاہم ٹام لینٹس انسانی حقوق کمیشن کے اراکین و پینلسٹ نے بھارت کے سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی کہانی کا پول کھول دیا۔ انہوں نے دیانتداری سے بھارتی حکومت کی جابرانہ پالیسیوں کے پس منظر میں موجود آمرانہ اور قومی انتہا پسندانہ نظریات و خواہشات کو بے نقاب کیا۔ کمیشن نے بھارت کی جانب سے اقلیتوں پر ظلم و ستم پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ادھر مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہفتہ کو 104ویں روز بھی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی ۔ مقبوضہ وادی میں دفعہ 144کے تحت پابندیاں جاری ہیں جبکہ چپے چپے پر بھارتی فورسز کے اہلکار تعینات ہیں۔ انٹرنیٹ ، ایس ایم ایس اورپری پیڈ موبائل سروس جیسے آج کے دور کے اہم مواصلاتی ذرائع تاحال معطل ہیں جس کی وجہ سے لوگوں خاص طور پرصحافیوں ، طلبہ اور تاجر وں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔ مقبوضہ وادی میں تعلیمی ادارے اور دفاتر ویران ہیں اور لوگ کشمیر مخالف بھارتی اقدامات کیخلاف سول نافرمانی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں برفباری اور بارش نے بھارتی فوجی محاصرے کے باعث شدید مشکلات کا شکار کشمیریوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے ۔ مسلسل بھارتی محاصرے اور پابندیوں کے باعث کشمیری عوام موسم سرما کیلئے اشیائے ضروریہ ذخیرہ نہیں کر سکے ۔