عدالت نے حتمی نہیں،عارضی فیصلہ سنایا ہے،اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصورکا ردعمل

اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصورنے کہا ہے کہ عدالت کی جانب سے عارضی طور پر حکم سنایا گیا ہے، کیس کی باقاعدہ سماعت جنوری میں کی جائے گی،عدالت فیصلہ کرے گی کہ کوئی قیدی اس طرح سے باہر جاسکتا ہے یا نہیں؟، ہوسکتا ہے عدالت آگے جاکر انڈیمنٹی مانگ لے۔ انہوں نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ عدالت کی جانب سے عارضی طور پر حکم سنایا گیا،عدالت نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فیصلہ سنایا ہے۔
عدالت نے کوئی کوئی فائنل حکم نہیں دیا، کیس کی سماعت جنوری میں مقرر کی گئی ہے۔ کیس پر جنوری میں باقاعدہ بحث ہوگی۔عدالت فیصلہ کرے گی کہ کوئی قیدی اس طرح سے باہر جاسکتا ہے یا نہیں؟ کابینہ نے بانڈز کے بارے جو فیصلہ کیا جنوری میں اس کا دفاع کریں گے۔
ہوسکتا ہے عدالت آگے جاکر انڈیمنٹی مانگ لے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف عدالتی فیصلے کی مصدقہ کاپی امیگریشن میں دکھا کرباہر جاسکتے ہیں۔

تحریری فیصلہ آنے کے بعد ہی حکومت کو کوئی مشورہ دے سکوں گا۔ اسی طرح تحریک انصاف کے سینئر قانون دان بابراعوان نے کہا کہ حکومت عدالتی فیصلے کیخلاف اپیل دائر نہیں کرے گی، یہ کسی کی ہار جیت نہیں، عدالتی فیصلہ ہے، ہمیں عدالتی فیصلہ قبول ہے، قانون می سزایافتہ قیدی کو باہر جانے کی اجازت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے انسانی بنیادوں پر نوازشریف کو جانے کی سہولت دی،قانون میں کسی سزایافتہ قیدی کو باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہبازشریف نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ میاں نوازشریف کو فوری علاج کی ضرورت ہے، حکومت نے نوازشریف کے علاج میں تاخیری حربے استعمال کیے۔ لیکن عدالتی فیصلے سے حکومتی تاخیری حربے آج دم توڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے نوازشریف کو انسانی بنیادوں پرعلاج کروانے کی اجازت دی۔ نوازشریف صحت یاب ہوکرجلد واپس آئیں گے۔ شہبازشریف نے کہا کہ میاں نوازشریف کیلئے دعا کرنے پر قوم کا مشکور ہوں۔ کارکنوں اور وکلاء کا بھی مشکور ہوں۔ کارکنان کی دعائیں رنگ لے آئیں۔ اللہ نے قوم کی دعائیں قبول فرمائی ہیں