ہم نے دہشت گردی کے خلاف صفِ اول کا کردار ادا کیا: وزیرِاعظم عمران خان

پچھلے 20 سالوں میں چین کے انفراسٹرکچر کی طرف دیکھیں اس کا موازنہ امریکہ سے کریں جو افغانستان اور عراق سے جنگ جیتا۔ امریکہ نے جنگوں میں بے شمار پیسہ لگایا اور دوسری جانب چائنہ نے پیسہ انفراسٹرکچر پہ لگایا۔

چائنہ کی فارن پالیسی بہترین ہے۔ پاکستان کے پاس بہت اچھے مواقع ہیں۔ انویسٹرز کے پاکستان آنے کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہییں۔ پہلے ہم نے سیاحوں کے لیے پاکستان آنا بہت مشکل بنا دیا تھا۔ کرکٹ ٹیمیں پاکستان نہیں آتی تھیں۔

اب ہم نے پاکستان آنا آسان بنا دیا ہے۔ سیاحوں کو شمالی علاقہ جات تک زیادہ رسائی دی ہے۔ میں بہت خوشی سے کہہ رہا ہوں کہ پاکستان، افغانستان میں امن کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہم امید کر رہے ہیں کہ حالیہ پیش قدمیوں سے جنگ کا حل مذاکرات سے ہو جائے گا۔

پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دیں۔ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ جب ہماری حکومت آئی ہمیں معاشی چیلنجز کا سامنا تھا تو سعودی حکومت ہماری مدد کرنے کے لیے موجود تھی۔

پاکستان نے ہمسایہ ممالک میں امن رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ چائنہ کے ساتھ ہمارے تعلقات اس وقت سب سے بہتر ہیں۔ چائنہ نے ہمیں پیداوار بڑھانے کی امید دلائی ہے۔ چین کی مدد سے یونیورسٹی قائم کر رہے ہیں۔ ہم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کیا۔

ہم نے سبق سیکھا ہے کہ کسی اور کی جنگ میں حصہ نہیں لینا۔ ہم نے بھارت کے ساتھ تعلقات اچھے رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ بدقسمتی سے بھارت اس وقت انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ہندوتوا نظریہ مسلمان اور دیگر اقلیتوں کے لیے خطرہ ہے۔

انڈیا اس وقت نسل پرست اور نفرت پسند لوگوں کے پاس ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت مسلمان حکمرانوں کی وجہ سے ترقی نہ کر سکا۔ نسل پرست اور نفرت کی سیاست ہو تو اس کا نتیجہ خونریزی ہوتا ہے۔ نازیوں نے بھی سیاست کی بنیاد قوم پرستی پر رکھی تھی۔

وزیرِاعظم کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر میں 100 روز سے کرفیو نافذ ہے لیکن مودی حکومت طاقت کے زور پر کشمیریوں کو نہیں دبا سکتی اور مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار ترقی بھی ممکن نہیں