اہم ملکی شاہراہوں پر دھرنے ،عمران استعفیٰ دے دیتے تو احتجاج نہ پھیلتا:فضل الرحمٰن

جمعیت علماء اسلام (ف) کے اہم ملکی شاہراہوں پر دھرنے جاری ہیں جس سے سڑکوں پر ٹریفک بلاک رہی جبکہ جے یو آئی(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اگر عمران خان استعفیٰ دے دیتے تو ان کیخلاف احتجاج کا سلسلہ پورے ملک میں نہ پھیلتا۔تفصیل کے مطابق گزشتہ روزسینیٹرطلحہ محمود کی رہائشگاہ پر مسلم لیگ ق کے صدرچودھری شجاعت حسین اورسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے حکومت مخالف احتجاج اور دھرنوں کے خاتمہ کیلئے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی جس میں جے یوآئی کے پلان بی سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا،اس موقع پر صوبائی وزیرحافظ عماریاسر اورمفتی ابراربھی موجودتھے ۔بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فضل الرحمٰن نے مزید کہاکہ 2020 تو بہت دور ہے اس سے پہلے الیکشن دیکھ رہا ہوں۔ چودھری برادران دھرنے کے دوران بھی آتے رہے ،اب بھی نیک نیتی سے آئے ہیں مگر حکومت اپنی ضد پر قائم ہے ۔ہم کہتے ہیں کہ عوام کے فیصلے عوامی نمائندے کریں نہ کہ دوسرے ۔ پاکستان میں جمہوریت چاہتے ہیں،عوام کچھ فیصلہ کریں اور نتائج کچھ اور آئیں یہ درست نہیں۔آزادی مارچ اب پورے ملک میں پھیل چکا ہے ۔ نوازشریف کے معاملے پر حکومت غیر انسانی سلوک اور بدترین پستی کامظاہرہ کررہی ہے ۔اس موقع پر چودھری شجاعت نے کہاکہ عمران خان کو عہدے کے مطابق بڑا دل رکھ کر فیصلہ کرنا چاہئے ،نوازشریف کو بغیر کسی شرط کے بیرون ملک علاج کیلئے بھیجنا چاہئے ۔ عمران خان نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکال دیں اور یہ معاملہ اپنے سر پر نہ لیں۔یہ پہلا موقع تھا کہ مولوی اور پولیس ایک ساتھ ہوں اور لڑائی نہ ہو، کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔مولانا نے جمہوریت کی بات کی ، ہم ان کیساتھ ہیں، ملک میں ایسی قیادت ہوجو عوام کے تمام مسائل کو حل کرے ۔ پرویزالٰہی نے کہاکہ مولانا کی قیادت میں بہت بڑے مارچ اور دھرنے سے ثابت ہوگیا کہ وہ واحد اپوزیشن لیڈر ہیں، انکے پیچھے ساری جماعتیں کھڑی ہیں ،اسمبلی کے اندر اور باہر کوئی اور اپوزیشن لیڈر نہیں ۔علاوہ ازیں نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے پرویزالٰہی نے کہا کہ نوازشریف کے نام کوئی جائیدادنہیں ،وہ سب کچھ اپنے بچوں میں تقسیم کرچکے ہیں۔ نوازشریف کے معاملہ پر ہمارا موقف واضح ہے ، انسانی ہمدردی کیساتھ پیسوں کی بات عجیب لگتی ہے ،حکومت کی جانب سے شرط عائد کرنابدقسمتی ہے ۔ہم کوشش کررہے ہیں کہ معاملہ افہام وتفہیم سے حل ہو۔ ایسے حالات پیدانہ کئے جائیں کہ آئندہ کوئی وزیراعظم بننے کوتیارنہ ہو۔ عمران خان دل بڑاکرکے سیاسی مقدمات ختم کریں۔نیب کو اپناکام کرنے دیں،حکومت اپناکام کرے ۔ علاوہ ازیں فضل الرحمٰن کی زیرصدارت اسلام آباداور راولپنڈی کے رہنماوَں کااجلاس ہواجس میں مولاناعبدالغفورحیدری،مولاناعبدالمجیدہزاروی اورمفتی اویس احمد نے پلان بی سے متعلق مشاورت کی ۔دریں اثنا اسلام آباد کے موٹروے چوک اورجی ٹی روڈچھبیس نمبر چونگی پر جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل جے یو آئی ف سینیٹر عبد الغفور حیدری نے کہا کہ ہمارے احتجاج کی وجہ دھاندلی ہے ،2018الیکشن میں پس پردہ قوتوں نے فاسق و فاجر کو قوم پر مسلط کیا۔حکومت کی رٹ ملک بھر میں آج ختم ہوگئی ،عمران نیازی کے اردگرد جو چمچے ہیں یہ دعا فاتحہ کر کے کسی اور پارٹی میں چلے جائینگے ،عمران نیازی اتنا تو کریں کہ کل جب انکی سیاسی موت ہو تو دو شخص فاتحہ پڑھنے والے بھی ہوں۔جے یو آئی کے کارکنان نے گزشتہ روز سہ پہر دوبجے سے شام سات بجے تک موٹر وے چوک کو بند رکھا ۔ چھبیس نمبر چونگی پر دھرنا دیکر پشاور اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کو بند کردیا گیا۔ پولیس اور انتظامیہ نے مختلف شہروں سے آنے اورجڑواں شہروں سے باہر جانیوالی ٹریفک کو متبادل روٹس پر موڑ دیا ۔دھرناا حتجاج ختم ہونے کے بعد کارکن پرامن طورپر منتشرہوگئے ۔اسلام آباد میں آزادی مارچ کا دھرنا ختم ہونے کے بعد وفاقی پولیس نے کشمیر ہائی وے اور ریڈ زون کو جانیوالے تمام راستے کھول دیئے ، 26 نمبر چونگی کو بھی عام ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا تاہم ایکسپریس چوک کو ٹریفک کیلئے نہیں کھولا گیا ۔ آئی جی اسلام آباد نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جے یو آئی ف کے مختلف مقامات پر دھرنوں میں قانون کی خلاف ورزی کی گئی تو کارروائی کی جائیگی۔ادھر شاہراہ ریشم کوچھترپلین کے مقام پر بندکیا گیا،دھرنے کی قیادت مولانا عطاء الرحمٰن اور مفتی کفایت اللہ کر رہے تھے ۔ سینیٹر عطاء الرحمٰن نے کہا کہ وزیر اعظم کے استعفیٰ تک ملک گیر احتجاج جاری رہیگا۔ ڈیرہ غازیخان شہرمیں پولیس اور انتظامیہ کی بہترین حکمت عملی کے سبب جے یو آئی کا پلان بی نظر نہ آیا، کسی بھی سڑک کو بلاک نہ کیا گیا۔ تاہم تونسہ شریف میں پنجاب اورکے پی کے سنگم پرواقع پل کھڈبزداکو احتجاجاًبندکردیا گیا جسکی وجہ سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا رہا ،مگر ایمبولینس، میت اور بارات کوجانے کی اجازت تھی۔ دھرنے کی وجہ سے کئی کلومیٹر تک پشاورسے کراچی جانیوالی ٹریفک بلاک رہی۔پلان بی کے تحت جنوبی پنجاب میں مختلف مقامات پر شہروں اور شاہراہوں کو بلاک کیا گیا۔ پنجاب سندھ کے بارڈ رکوٹ سبزل اور ڈیرہ غازیخان کے قریب انڈس ہائی وے کو عارضی طور پر بلاک کیا گیا ، بارش کے باعث کارکن گھروں سے نہ نکلے ۔ملتان سے ڈیرہ غازیخان جانیوالا قافلہ بھی بارش کے باعث نہ جا سکا ۔ آج کوٹ سبزل اور ڈیرہ غازیخان روڈ کو مکمل طور پر بند کیا جائیگا۔ادھر پلان بی کے تحت دوسرے روز بھی جے یو آئی کے کارکنان کا سندھ بلوچستان کی سرحد پر دھرنا جاری رہا جس سے گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔ گھوٹکی میں جے یو آئی کے کارکنان نے قومی شاہراہ ٹول پلازہ کے مقام پر دھرنا دیکر سندھ اور پنجاب آنے اور جانے والی ٹریفک معطل کردی جبکہ وفاقی حکومت کیخلاف نعرے بازی کی۔ پلان بی کے تحت جی ٹی روڈ ملاکنڈ کو پل چوکی پر بلاک کر کے دھرنا دیا گیا۔خضدارکے مقام پر کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ بلاک کی گئی۔جے یو آئی سکھر کے کارکنان نے روہڑی بائی پاس قومی شاہراہ پر احتجاجی دھرنا دیا، سندھ اور پنجاب کے درمیان ٹریفک مکمل طور پر معطل ہوگئی، میلوں تک گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔بنوں میں انڈس ہائی وے کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا۔کراچی میں حب ماری پورروڈ پر دھرنا دیا گیا۔