نواز شریف کا بیان حلفی ڈرافٹ عدالت میں جمع

سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے بیان حلفی کا تحریری ڈرا فٹ عدالت میں جمع کروادیا گیا ہے جس کے بعد کیس کی سماعت ڈھائی بجے تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

وفاقی حکومت نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر نون لیگ کو انڈیمنٹی بانڈ ہائیکورٹ میں جمع کروانے کی پیشکش کردی۔

لاہور ہائی کورٹ میں شہباز شریف کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کر رہا ہے جس میں جسٹس سردار احمد نعیم بھی شامل ہیں۔

عدالت نے شہباز شریف سے استفسارکیا کہ کیا نوازشریف واپس آئیں گے، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ انشاءاللہ واپس لائیں۔

عدالت نے درخواست گزار شہباز شریف سے مزید استفسار کیا کہ آپ کا انہیں ملک واپس لانے میں کیا کردار ہوگا، جس پر انہوں نے کہا کہ میں ان کے ساتھ بیرون ملک جارہا ہوں وہ علاج کے بعد واپس آئیں گے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہم نواز شریف اور شہباز شریف سے لکھ کر انڈرٹیکنگ لے لیتے ہیں وفاق اس انڈر ٹیکنگ کو دیکھ لے، یہ انڈر ٹیکنگ عدالت میں دی جائے گی اگر انڈرٹیکنگ پر پورا نہیں اترا جاتا تو توہین عدالت کا قانون موجود ہے۔

عدالتی ریمارکس پر نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کو مطمئن کرنے کی بات ہے تو جو عدالت حکم دے گی ہمیں قبول ہوگا۔

عدالت نے شہباز شریف کے وکلاء سےتحریری ضمانت طلب کرلی جس کے بعد شہباز شریف اور نواز شریف کی طرف سے بیان حلفی کا ڈرافٹ عدالت کو دے دیا گیا۔

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دو صفحات پر مبنی بیان حلفی کا ڈرا فٹ عدالت میں جمع کروا دیا، یہ ڈرافٹ عدالت کے ایسوسی ایٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے اور یہ ڈرافٹ ججز کے چیمبر میں بھجوا دیا گیا ہے۔

مسلم لیگ نون کی جانب سے عدالت میں تحریری ڈرافٹ جمع کرایا گیاجس میں لکھا گیا ہے کہ ’’نواز شریف صحت مند ہوتے ہی وطن واپس آئیں گے، نواز شریف واپس آکر اپنے عدالتی کیسز کا سامنا کریں گے، بیرون ملک ڈاکٹرجیسے ہی اجازت دیں گے نواز شریف فوری واپس آئیں گے،نواز شریف پاکستان کےڈاکٹروں کی سفارش پر بیرون ملک جارہےہیں۔‘‘

سابق وزیر اعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے پر حکومتی شرائط کے خلاف شہباز شریف کی درخواست کی سماعت دوسری مرتبہ کچھ دیرکے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔

سماعت شروع کرنے سے قبل بینچ کے سربراہ جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ عدالت پہلے 7 سوالات کا جواب جاننا چاہتی ہے۔

عدالت کے 7 سوالات

کیا ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے شرائط لگائی جا سکتی ہیں؟

کیا لگائی گئی شرائط علیحدہ کی جا سکتی ہیں؟

کیا میمورنڈم انسانی بنیادوں پر جاری کیا گیا؟

ضمانت کے بعد شرائط لاگو ہوں تو کیا عدالتی فیصلے کو تقویت ملے گی ؟

کیا درخواست گزار ادائیگی کے لیے کوئی اور طریقہ ڈھونڈنے کو تیار ہے ؟

حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا چاہتی ہے یا نہیں ؟

کیا فریقین نواز شریف کی واپسی سے متعلق یا کوئی رعایت کی بات کر سکتے ہیں؟ کیا فریقین اپنے انڈیمنٹی بانڈز میں کمی کر سکتے ہیں؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا مؤقف

عدالت میں کیس کی سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ نواز شریف کی صحت تشویشناک ہے، چاہتے ہیں کہ وہ بیرون ملک علاج کے لیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون کو اگر وفاقی حکومت کو بانڈ جمع کرانے کا مسئلہ ہے تو اسی رقم کے برابر بانڈ عدالت میں جمع کروا دیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مؤقف پر شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ عدالت کے حکم کی تعمیل کے لیے تیار ہیں جس کے بعد عدالت نے اس معاملے پر صلاح مشورے کے لیے سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کردیا۔

اہم ترین کیس کی سماعت کے موقع پر درخواست گزار شہباز شریف اور دیگر لیگی رہنما لاہور ہائیکورٹ میں موجود ہیں اور سیکیورٹی کےبھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

شہباز شریف کی جانب سے دائر درخواست میں وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
س سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ روز حکومت اور نیب کی طرف سے عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے کا موقف مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ کیس سننے اور فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

اس معاملے پر مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال کہتے ہیں کہ حکومت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے نواز شریف کو اذیت دے رہی ہے ، عمران خان کے رویے سے ان کی تربیت کا پتا چلتا ہے

jang-report