سندھ میں امتحانات کے دوران نقل کی روک تھام نہ ہونے پر عدالت برہم

عدالت کا امتحانات کے دوران نقل کی روک تھام کے لیے میکنزم بنانے کا حکم

سندھ بھر تعلیمی کے بورڈ تجاویز کو مد نظر رکھتے ہوئے میکنزم بنائیں، عدالت کا حکم

غیر تربیت یافتہ عملے کو امتحانی مراکز میں تعینات نہ کیا جائے، عدالت

عدالت نے چئیرمین تعلیمی بورڈز، چئیرمین سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ، ایم ڈی سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن، سیکرٹری بورڈ اینڈ یونیورسٹی کو ذاتی حیثیت سے طلب کرلیا

عدالت نے متعلقہ اداروں اور فریقین سے 11 دسمبر کو رپورٹ طلب کرلی

عدالت کا 2020 کے سالانہ امتحانات نئی پالیسی کےتحت کرانے کا حکم

عدالت کا وفاقی ایجوکیشن پالیسی 2006 کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی بنانے کا حکم

کمیٹی میں تعلیمی بورڈز کے سربراہ، صوبے بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور دیگر کو شامل کرنے کا حکم
عدالت کا وفاقی ایجوکیشن پالیسی 2006 کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی بنانے کا حکم

کمیٹی میں تعلیمی بورڈز کے سربراہ، صوبے بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور دیگر کو شامل کرنے کا حکم

عدالت نے کمیٹی کی تشکیل سے متعلق چیف سیکرٹری سندھ سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی

آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت اچھی تعلیم حاصل کرنا شہری کا بنیادی حق ہے، جسٹس صلاح الدین پہنور

اعلی تعلیم کے بغیر زندگی بسر کرنا مشکل ہوچکا ہے، جسٹس صلاح الدین پہنور

عالمی معیار کی تعلیم حاصل کرنا سندھ کے عوام کا بھی حق ہے، جسٹس صلاح الدین پہنور

سندھ میں امتحانات کے دوران پرچوں کے لیے سوالنامہ بنانے کا طریقہ کار معیاری ہے، آئی بی اے کے رجسٹرار کی تجویز

پرچوں کی تھرڈ پارٹی سے آڈٹ اور مانیٹرنگ کرائی جائے، رجسٹرار آئی بی اے

پرچوں کی چیکنگ اور مارکنگ کو سی سی ٹی وی کے زریعے محفوظ کیا جائے، رجسٹرار آئی بی اے

نقل روکنے کے لیے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں آگاہی مہم چلائی جائے، ماہرین

امتحانی مراکز کی بھی سی سی ٹی وی کیمروں کے زریعے مانیٹرنگ کی جائے، ماہرین

امتحانی مراکز پر فوج اور رینجرز تعینات کی جائے، ماہرین