پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی قاسم سراج سومرو نے کہا ہے کہ تھر اور پارکر ایک الگ ایشو ہے ننگرپارکر کے کارونجھر پہاڑوں کی الگ تاریخ ہے ننگرپارکر میں ہماری مذہبی عبادت گا ہیں ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی قاسم سراج سومرو نے کہا ہے کہ تھر اور پارکر ایک الگ ایشو ہے ننگرپارکر کے کارونجھر پہاڑوں کی الگ تاریخ ہے ننگرپارکر میں ہماری مذہبی عبادت گا ہیں ہیں ،کارونجھر میں جین مذہب کے تاریخی مندر ہیں وہ بدھ کو سندھ اسمبکی اجلاس میں اپنے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کررہے تھے انہوں نے کہا کہ کارونجھر میں گرے
نائیٹ سے مالا مال علاقہ ہے وفاقی حکومت نے کچھ کمپنیوں کووہاںسے گری نائیٹ اٹھانے کا ٹھیکہ دیا 2002 میں کارونجھر سے گری نائیٹ اٹھانے کی لیز دی گئی ،مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں اپنے فرنٹ کے ذریعے وہاں سے گری نائیٹ نکال رہا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ میراخطاب ریکارڈ پر رکھا جائے میرا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس موقع پرصوبائی وزیر شبیر بجارانی نے کہا کہ اس ایشو پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو بلایا گیا۔انہوں نے کہا کہ وائلڈ لائف کو نقصان سے بچانے ،ثقافتی ورثے اور جنگلات کے تحفظ پر کمیٹی قائم کی ہے ،کمیٹی اس حوالے سے اپنی حتمی سفارشات تیار کی جائے گی اور ایوان کو آگاہ کیا جائے گا۔ایوان کی کارروائی کے دوران خرم شیر زمان کی کراچی میں 3 ہزار گیسٹرو اور ڈائیریا کیسز پر تحریک التوا خلاف جابطہ قرار دیکر رد کردی گئی
وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاﺅلہ نے اس کی مخالفت کی تھی۔خرم شیر زمان نے کہا کہ چار ہزار ڈائیریا کیسز ہیں ہزاروں کیس مختلف اسپتالوں میں گئے مگر ان کو احساس نہیں پھر بھی تحریک کی مخالفت کی جارہی ہے ،اس صوبے کا اللہ حافظ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں اسپتال مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں بنیادی سبب گٹر اور گندہ پانی ہے
مگر پیپلز پارٹی کو اس بات کا احساس نہیں ہے۔ڈپٹی اسپیکر ریحانہ لغاری نے انہیں ٹوکا کہ آپ پارٹی کا نام کیوں لے رہے ہیں۔جس پر خرم شیر زمان نے کہا کہ یہ پارٹی نہیں تو کیا ہے یہاں پیپلز پارٹی تو بیٹھی ہے ۔بعدازاں خرم شیر زمان کی تحریک التواءخلاف ضابطہ قرار دیکر مسترد کردی گئی۔کارروائی کے دوران سندھ انسٹی ٹیوٹ آف فیزیکل میڈیسن اور ری ہیبلیٹیشن بل 2019 ایوان میں متعارف کرادیا گیا جبکہ اجلاس کے دوران سندھ انسٹی ٹیوٹ آف امراض چشم اور ویڑوئل سائنسز ترمیمی بل2019 اورری پروڈکٹیو ہیلتھ کیئر رائٹس بل 2019 اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے اپنے ایک نکتہ اعتراض پر اس امر کی نشاندہی کی کہ رولز آف پروسیجرز اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سمیت دیگر رپورٹ ایوان میں آچکی ہیں۔وہ کون سی بات ہے جس پر پردہ ڈالا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل نے 3 سو صفحات کی رپورٹ بھیجی ہیں ایوان میں کیوں لائی نہیں جارہی ہیں ،فورتھ کوارٹر رپورٹ کو ڈیڑھ مہینہ گذر گیا لیکن ایوان میں نہیں لایا گیا۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پانی پر تحریک استحقاق پر لائی گئی جو بنتی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سندھ کے پانی پرحکومت کی سپورٹ کرکے اور موشن کی حمایت کرچکے ہیں لیکن بتایا جائے کس ممبر کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔ وزیر پارلیمانی امورمکیش کمارنے کہا کہ ابھی کوئی تحریک استحقاق نہیں آئی ہے لیکن آئے تو سب کو اس پر متفق ہونا چاہیے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا اپوزیشن لیڈر ارسا میں سندھ کے نمائندے کی حمایت نہیں کرتی؟ جس کے بعدسندھ اسمبلی کا اجلا س جمعرات کی دوپہر تک ملتوی کردیا گیا۔