آزادی مارچ : پلان بی پر عمل درآمد کا آغاز، کوئٹہ چمن شاہراہ ٹریفک کیلئے بند

تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ کو آج 14 واں روز ہے اور شرکاء اسلام آباد کے ایچ 9 گراؤنڈ میں موجود ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پلان بی پر عمل کرنے کا وقت آگیا ہے ، شرکاء پشاور موڑ خالی نہیں کریں گے ،حکومت کو گھر بھیجنے نکلے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے عوام سے احتجاج کے لیے نکلنے کی اپیل کی ۔ آزادی مارچ کے پلان بی پرعمل درآمد کرتے ہوئے کوئٹہ چمن شاہراہ ٹریفک کیلئے بندکردیا گیا ہے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ چکی ہیں ۔جس کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔دوسری جانب لیویز اہلکاروں کی بھاری نفری چمن شاہراہ کھلوانے کے لیے موقع پر پہنچ گئی ۔
گزشتہ روز آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ کل سے پلان اے کے ساتھ ساتھ پلان بی پر بھی عمل درآمد شروع کیا جائے گا، ہم یہیں رہیں گے ہم نے گھروں کو نہیں جانا۔جے یو آئی (ف) کے پلان بی کے مطابق ملک بھر کی اہم شاہراوں کو بند رکھا جائے گا،اس سلسلے میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی اہم شاہراوں کو بھی لاک ڈاؤن کیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ جلد پتہ چلے گا کہ چور اور کوئی نہیں یہ ہی ٹولہ ہے جو ہم پر مسلط ہے ،منزل کو بڑی جرات اور بہادری سے حاصل کریں گے، قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا،پر امن رہنا ہے ۔قبل ازیں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی زیرصدارت پارٹی اجلاس ہوا ،اجلاس کے دوران آزادی مارچ اور دھرنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں اہم شاہرائیں بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے قافلے نے 27 اکتوبر سے سفر کا آغاز کیا تھا شہر اقتدار پہنچنے کے بعد مولانا اور اپوزیشن و حکومتی جماعتوں میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے ۔ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان سے فوری مستعفی ہونے اور نئے انتخابات سمیت دیگر مطالبات کر رکھے ہیں تاہم حکومت اور اپوزیشن میں وزیراعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔