پیپلز پارٹی 52 سال کی ھو گئی ۔تین سال سے تنظیم نا مکمل

جیالے ۔۔۔۔بشیر ہمدرد ۔۔۔۔
پیپلز پارٹی 52 سال کی ھو گئی ۔تین سال سے تنظیم نا مکمل ۔۔۔
الحمداللہ پاکستان پیپلز پارٹی 30 نومبر کو اپنا 52 واں یوم تاسیس منا رہی ہے ۔پیپلز پارٹی اپنے بانی چیئرمین اور پاکستان کے پہلے عوام کے منتخب وزیر اعظم فخر ایشیاء ملک کو متفقہ آئیں 1973 دے کر جمہوری اداروں میں عوام کو اپنے منتخب نمائندوں کے زریعے کاروبار حکومت چلانے کا مضبوط پلیٹ فارم مہیہ کرنے والے ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی گھاٹ میں دیکھا ۔پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے آمریت سے ملک کے عوام کو نجات دلانے محنت کشوں کو معاشی تحفظ فراہم کرنے والے ہاریوں کو وڈیروں کے ظلم سے نجات دلانے بھارتی قید سے 93 ہزار فوجیوں اور سویلین کو غیر مشروط رہائی دلانے والے ملک کے دفاع کو ناقبابل تسخیر بنانے کے لیے ایثم بم دینے والے عظیم رہنما زولفقار علی بھٹو کے دو جوان شہزادوں کی شہادت کے زخم کھاے ۔مادر جمہوریت محترمہ بیگم نصرت بھٹو کو لاہور سٹیڈیم مین سر پر لاٹھیاں کھاتے دیکھا پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے 52 سال میں بار بار جمہوریت کے تحفظ کے لیے بھانسی پائی کوڑے کھاے جیلوں میں اذیتیں جھیلیں ۔ناکردہ جرم میں ملک بدری کے زخم سہے ہیں مگر آئین اور قانون سے بغاوت نہیں کی ۔۔۔
پیپلز پارٹی کے موجودہ صوبائی جنرل سیکرٹری سید وقار مہدی راشد حسین ربانی ڈویزنل ڈپٹی جنرل سیکرٹری ذولفقار قائمخانی کو کراچی شہر میں جیالوں کی لاشیں کندھوں پر اٹھاتے دیکھا ہے ۔یہ رہنما زخمی کارکنوں کو سرکاری ہسپتالوں میں پنچاتے دیکھا گیا ۔پارٹی قیادت جیلوں میں تھی مگر پارٹی کے وفادار آمریت کا خوف جھٹک کر کارکنوں کے گھروں میں بھی جاتے رہے ۔ذولفقار قائمخانی زخمی جیالوں کو اپنے والد کے ہمراہ ادویات فراهم کرتے رہے ۔ حوالاتوں میں بند جیالون کو کھانا فراهم کرتے رہے سید نجیب شہید بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے تھے ۔ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے جیالے صدر خلیل ہوت دور آمریت میں بھی پرجوش رہے ۔ جوانی کا خون خلیل ہوت کو ضیاء آمریت سے ٹکرانے پر مجبور کرتا رہا مشرف دور آمریت میں بھی خلیل ہوت جیالے رہنما کی تحثیت سے لیاری کے جیالوں کو متحد اور محفوظ بناتے رہے کورنگی کے موجودہ صدر جاوید شیخ نے اپنے والد کو پارٹی کا پرچم لہرانے کے جرم میں شہید ہوتے دیکھا جاوید شیخ نے بھٹو ازم سے اپنی وابستگی مزید مضبوط کر لی ۔ڈسٹرکٹ سینٹرل میں سردار صمد بلوچ کے والد کو اس لیے شہید کر دیا گیا کہ وہ ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر کے قریب اپنی رہائش گاہ پر پیپلز پارٹی کا پرچم لہراتے ہیں ۔سردار صمد بلوچ کے چچاؤں کو بھی شہید کیا گیا تھا مگر سردار صمد بلوچ اپنے خاندان کے پانچ افراد کو بھتو پر قربان کرنے کے باوجود آج بھی 90 کے علاقے میں پارٹی پرچم کو بلند کئے ہووے ہیں میں سردار صمد سابق صدر ڈسٹرکٹ سنٹرل سہیل عابدی کو سلام پیش کرتا ہوں ۔ جن کی رگون مین پیپلز پارٹی خون کی طرح دوڈ رہا ہے ۔۔۔
پیپلز پارٹی کے جیالوں نے 27 دسمبر 2007 ساتھ میں ناقابل برداشت صدمہ دختر مشرق دو بار ملک کی منتخب وزیر اعظم محترمہ بینظر بھٹو کی شہادت کا اپنی روح تک میں محسوس کیا ۔ظالموں نے پاکستان کو محفوظ ملک کو صفر سے اٹھا کر ترقی کے 100% تک پنچا دیا اس محب عوام محب وطن بھٹو خاندان کو شہید کرکے اپنے انتقام کو تسکین دینے کی ناکام کوشش کی ۔آج بھٹو شہید کا نواسہ شہید بے نظیر بھٹو کے لخت جگر بلاول بھٹو زرداری میدان میں جمہوریت کو بازیاب کرانے کے لیے میدان میں ہیں ۔سلیکٹڈ سیسٹم کی بجاے عوام کے متخب نظام کی بحالی کے لیے سرگرم ہیں
پیپلز پارٹی کے 52 سال کا سفر آگے کی جانب رواں دواں ہے ۔۔52 ویں یوم تاسیس پر امید کی جاسکتی ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی ڈویزن کے تمام ڈسٹرکٹس میں تنظیم کو مکمل کر دیا جاتے ۔سٹی ایریاز میں یو سیز اور وارڈز کی سطح پر ذمہ داروں کا اعلان کر دیا جائے ۔مزید تاخیر جیالوں میں بے چینی کا باعٹ بنے گی۔ ۔۔