سندھ گورنر ہاﺅس سے ونٹیج اینڈ کلاسک کار کلب آف پاکستان کی دسویں کار ریلی کا آغاز

سندھ گورنر ہاﺅس سے ونٹیج اینڈ کلاسک کار کلب آف پاکستان کی دسویں کار ریلی کا آغاز 
کراچی (نومبر12)
گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کار چلاکر ونٹیج اینڈ کلاسک کار کلب آف پاکستان کی دسویں کار ریلی کا سندھ گورنر ہاﺅس سے آغاز کیا۔ ریلی جس کے تحت 22 مختلف اقسام کی خوبصورت، نایاب و قدیم گاڑیوں نے کراچی سے سوات کے لیے سفر کا آغاز کیا۔ 15 نومبر کو تمام گاڑیوں کی بہاولپور پہنچنے پر ان کی نمائش ہوگی۔ بعدازں میڈیا سے گفتکو کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ ونٹیج کار ریلی نے دنیا میں پاکستان کا مثبت امیج سامنے لانے میں اہم کردار ادا کرےگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قدیمی ونایاب گاڑیوں کو قابل استعمال رکھنا بڑا مشکل کام ہے جبکہ نایاب گاڑیوں کو بھر پور انداز میں سنبھال کر رکھنا قابل ستائش عمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرتاپور راہداری کھلنے سے مذہبی سیاحت میں اضافہ ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پورے ملک میں سیاحت کو مزید فروغ دینا وزیراعظم کا ویژن ہے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ پرانی اور کلاسک گاڑیوں کے تحفظ کا رجحان سیاحوں کو بھی اپنی طرف مائل کرنے میں اہم ثابت ہوگا۔ ونٹیج اینڈ کلاسک کار کلب کے بانی و چیئرمین محسن اکرام نے کہا کہ کلب کے پلیٹ فارم سے گزشتہ کئی سالوں سے ملک بھر میں کار ریلیوں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی گاڑیوں کی ریلی کے انعقاد سے بین الصوبائی ہم آہنگی اور تاریخی ورثے کی اہمیت اجاگر کرنے میں مدد ملے گی اور جس کے تحت پاکستان کا روشن پہلو دیگر اقوام تک پہنچایا جاسکے گا۔ اکرام محسن کے مطابق منعقد کردہ کار ریلی اپنی طرز کی منفرد کار ریلی ہے جس میں مختلف اقسام کی نادر و نایاب گاڑیاں حصہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے گورنر سندھ عمران اسماعیل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کار ریلی کا آغاز گورنر ہاﺅس کی تاریخی بلڈنگ سے گورنر سندھ کی بدولت ہی ممکن ہو سکا ہے۔ میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات کے حوالے سے اچھی خبریں مل رہی ہیں اس ضمن میں اسٹیٹ بینک برآمدکنندگان کو بھی فائدہ پہنچانے کے لیے کام کررہا ہے۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا سمندر کے پانی کو میٹھا کرنے کے لئے ڈی سیلینیشن پلانٹ لگارہے ہیں جس سے کراچی میں کسی حد تک قلت آب میں کمی واقع ہوگی۔ گرین لائن کے متعلق کئے گئے سوال پر گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ گرین لائن بس منصوبے میں تکنیکی مسائل تھے جن کو حکومت سندھ کے ساتھ ملکر طے کرلیا گیا ہے جس کے مطابق گرین لائن تین سال وفاق اور سات سال سندھ حکومت چلائے گی۔