نیشنل اسٹیڈیم کراچی پیر سے قائداعظم ٹرافی کی میزبانی کرے گا

ندھ اور ناردرن کے درمیان میچ کراچی سے لائیو اسٹریم کیا جائے گا
قائداعظم ٹرافی کے ساتویں راوٴنڈ کا آغاز 11 نومبر سے ہوگا۔سندھ اور ناردرن کے درمیان پیر سے شروع ہونے والا میچ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں رواں سیزن کا پہلا مقابلہ ہوگا۔
سندھ اور ناردرن کی ٹیمیں پوائنٹس ٹیبل پر بالترتیب پانچویں اور چھٹی پوزیشن پر موجود ہیں۔ایونٹ کے فائنل راوٴنڈ میں رسائی کے لیے دونوں ٹیموں کو فتوحات درکار ہیں۔
دونوں ٹیموں کے درمیان شیڈول میچ پاکستان کرکٹ بورڈ کے یوٹیوب چینل پر لائیو اسٹریم کیا جائے گا۔
ایونٹ کے چھٹے راوٴنڈ میں سندھ اور خیبرپختونخوا کی ٹیموں کے درمیان میچ بارش سے متاثر ہوگیا تھا۔ ایبٹ آباد اسٹیڈیم میں کھیلا گیا میچ بے نتیجہ رہا۔سندھ کی ٹیم تاحال ایونٹ میں کوئی میچ نہیں جیت سکی تاہم پیر سے شروع ہونے والے راوٴنڈ میں سرفراز احمد کی قیادت میں میزبان ٹیم ہوم کنڈیشنز سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی
سرفراز احمد، سندھ کرکٹ ٹیم:
سندھ کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کاکہنا ہے کہ تمام کھلاڑی ایونٹ میں بہتر کھیل کا مظاہرہ کررہے ہیں تاہم ٹیم تاحال فتح کی تلاش میں ہے۔انہوں نے کہا کہ 2 میچز ڈرا ہونے کے باعث کوشش ہے کہ ناردرن کے خلاف میچ جیت کر ایونٹ میں پہلی کامیابی حاصل کرسکیں۔
ایونٹ میں پہلی کامیابی کی تلاش میں کراچی پہنچنے والی ناردرن کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر آخری پوزیشن پر موجود ہے۔
ناردرن کی ٹیم تاحال ایونٹ میں 2 میچز ہار چکی ہے۔
گذشتہ راوٴنڈ میں ناردرن کو سنٹرل پنجاب کے خلاف میچ میں204 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اقبال اسٹیڈیم فیصل میں کھیلے گئے میچ میں اسپنرز نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ناردرن کے اسپنر نعمان علی نے میچ میں 11 وکٹیں حاصل کیں۔ بائیں ہاتھ کیا ا سپنر نے میچ کی پہلی اننگز میں 71 رنز کے عوض 8کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔

نعمان علی، ناردرن کرکٹ ٹیم:
ناردرن کرکٹ ٹیم کے اسپنر نعمان علی کا کہنا ہے کہ وہ رواں سیزن میں باوٴلنگ کابھرپور لطف اٹھارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوکابورا کے گیندسے لمبے اسپیل کرنا کا مزہ آتا ہے۔
ایونٹ کے پانچ میچوں میں 27 وکٹیں حاصل کرنے والے نعمان علی کا کہنا ہے کہ وہ ہر میچ میں نپی تلی باوٴلنگ کرنے کے لیے میدان میں اترتے ہیں، خواہش ہے کہ ایونٹ کے اختتام پر بہترین باوٴلنگ کا ایوارڈ اپنے نام کرسکیں۔

نعمان علی نے کہا کہ کوکابورا کے نئے گیند کو گرپ کرنا اور اس سے باوٴنس حاصل کرنا آسان ہوتا ہے تاہم جوں جوں یہ گیند پرانا ہوتا جاتا ہے بہتر نتائج کے حصول کے لیے اسپنر کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں کوکابورا کے گیند کے استعمال سے قومی کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ کی بھرپور تیاری کا موقع مل رہا ہے