بساط کے مہرے بدل چکے ہیں

اوپر سےگیارہ ہزار وولٹ کی ٹرانسمیشن لائن گزر رہی ہے مگرمسلسل ٹیک آف کرتی ہوئی حکومت کو بظاہرکوئی خطرہ نہیں۔ راوی ہر طرف چین لکھتا ہے مگرہوائوں کی کچھ باتیں چونکا دینے والی ہیں۔

ایک عمررسیدہ بزرجمہر جن کے ساتھ کیے معاہدے سے نواز شریف منحرف ہوئے اورجیل کی سلاخوں سے چمکتے ہوئے چاند کودیکھنے لگے۔

سنا ہے وہ بزرگ اپنی بساط کے مہرے بدل چکے ہیں۔ معاہدہ ہوچکا ہے۔ اگرچہ اس معاہدے سے اِس واقعہ کا کوئی تعلق نہیں کہ اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کے خلاف تحریک ِ عدم اعتماد جمع کرا دی ہے۔

چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد میں ناکامی کے باوجود اپوزیشن کی اتنی ہمت۔ ذہن میں کئی کئی خیال آتے ہیں۔اپوزیشن نے وزیر اعظم اورا سپیکر کو چھوڑکر ڈپٹی اسپیکرکو تحتہِ مشق بنا یا۔

کیوں نہ بناتی، اسمبلی میں وہی عمران خان کی مضبوط ترین فصیل ہیں۔پھراُسی کے سبب نون لیگ کا نظریاتی حلیف محمود خان اچکزئی اسمبلی میں نہیں پہنچ سکا۔

لیگیوں کو یہ نہیں معلوم کہ اچکزئی کی تیسری پوزیشن تھی۔دوسرا لشکری رئیسانی تھا۔ اسلم رئیسانی کابھائی۔ جس نے یہ بلیغ جملہ کہا تھا :ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو یا نقلی۔

پیپلزپارٹی کو بھی قاسم سوری سے خاصی تکلیف ہے۔ اس نے کئی مرتبہ بلاول بھٹو کو ایوان میں تقریر کےلئے ٹائم نہیں دیا۔ بے شک قاسم خان سوری کو اپوزیشن کبھی بلیک میل نہیں کر سکی۔ اس نے آئین اور قانون کے مطابق اسمبلی کو کچھ اس طرح اپنی گرفت میں رکھا کہ سامنے بیٹھے ہوئے بڑے بڑے اناپرست بتوں کے کلیجے ہاتھ میں آ گئے۔

ایک ہی دن میں پندرہ بل پاس کرا دئیے۔ اردو زبان کا حق ادا کرتے ہوئے ہمیشہ اسمبلی کی تمام کارروائی اردو میں چلائی۔ایسا آدمی انگریز وں کی تربیت یافتہ نسلوں کو کیسے گوارا ہوسکتا ہے۔

بلوچستان کے عام نوجوان کاا سپیکر کی کرسی پر بیٹھنا وہاں کے سرداروں نوابوں کو کیسے برداشت ہوسکتا ہے۔وہ عمران خان کےدلیر سپاہی ہیں۔انہیں جس محاذ پر بھی کھڑا کیا گیا ،وہ فتح مند ہوئے۔اپوزیشن نےپچھلے دنوں انہیں الیکشن ٹربیونل سے ڈی سیٹ کرادیا تھا۔

وہ تو سپریم کورٹ نے ٹربیونل کی عزت کوبچالیا۔وگرنہ کیس میں قاسم سوری پر اپوزیشن کا الزام کسی لطیفے سے کم نہیں جو سوشل میڈیا کی وساطت سے پھیلایا گیاکہ قاسم خان سوری کو65 ہزار جعلی ووٹ ڈالے گئے۔ جبکہ قاسم خان سوری نے کل ووٹ 25973 ہزار لئے ہیں۔

نادرا رپورٹ میں بھی ایسی کوئی بات نہیں۔قاسم خان سوری عمران خان کے بہت قریبی اور بااعتماد ساتھی ہیں۔اقتدار سے پہلےعمران خان جب بھی کوئٹہ جاتے انہی کے گھر قیام کرتے۔اب بھی چھوٹے بھائیوں کی طرح اُن سے محبت کرتے ہیں۔بظاہر تو اس عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے کوئی آثار نہیں مگر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔کوئی گلی بھی چلتے چلتے مڑ سکتی ہے۔کوئی کوچہ بھی راستہ بدل سکتا ہے۔

تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو اس کا مطلب کیا ہوگا۔یہی کہ وزیر اعظم جانے کےلئے تیار ہوجائے۔ اپوزیشن کا ٹارگٹ قومی اسمبلی نہیں وزیراعظم ہائوس ہے۔

کوئی این آر او نہیں ہوا مگر نواز شریف ، مریم شریف ،اُن کے شوہرِ نامدار اور شہباز شریف جیل میں نہیں ہیں۔حمزہ شہباز کی ضمانت ہونے والی ہے۔شہباز شریف تو پھر سے قلعہ ِ حکومت پرکمندیں پھینکتے پھرتے ہیں۔

نیب کے قوانین بدلنے والے ہیں۔احتساب کا چراغ کجلانےوالا ہے۔ کرپشن کے ڈار وطن لوٹنے والے ہیں۔ بھولے بادشاہ ڈیل کی خبریں سناتے پھرتے ہیں کہ چودہ بلین ڈالر میں شریف خاندان کو آزادی ملی یعنی چودہ ارب ڈالر۔بیس کھرب روپے۔

بادشاہ سلامت ! ڈیلی میل کے مطابق نواز شریف کی برطانیہ میں کل جائیداد بتیس ملین ڈالر کی ہے اور ایک ہزار ملین کا ایک بلین ہوتا ہے۔ حکومت سے شریف خاندان کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔جو ڈیل ہوئی ’’وہ ایک عمر رسیدہ بڑے‘‘سے ہوئی۔اسے کون روکے گا۔جنرل پرویز مشرف نے بھی بیک وقت کئی لوگوں کو وزیر اعظم بنانے کی خوشخبری بھیج دی تھی۔

درویش نےکہا : حکومت تو آنی جانی شے ہے۔ عمران خان نواز شریف نہیں۔آصف علی زرداری بھی نہیں۔ انہیں فرشتہ ِاجل کے سوا اپنی ضد سے کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ ویسے بھی ساٹھ سال کے بعد زندگی بونس پرہوتی ہے۔ بونس کاکیا ہے،چھوڑ ابھی جاسکتا ہے مگرعمران خان ہارتے ہارتے بھی ورلڈکپ جیت سکتے ہیں۔

تاریخ میں ہمیشہ کےلئے زندہ ہوسکتے ہیں مگر فوری مسئلہ تو قاسم خان سوری کا ہے۔ درمیان میں صرف سات دن ہیں۔ یعنی صرف ایک ہفتے کے بعد سارے اشارے سارے کنائے اسمبلی ہال کی کرسیوں پر کھل کھل جائیں گے۔

یاتو آستینوں سے لپکتے ہوئے سانپوں کا راج ہوگایامنافقین گنگاجل میں نہا کر قاسم خان سوری کو تیسری بار مبارک بادکے پھول پیش کررہے ہونگے۔ شیر شاہ سوری کے بعد پختونوں کے قدیم قبیلے سوری کوشناخت دینے والے قاسم خان سوری ابھی نوجوان ہیں اور اتنی تیزی اور چابک دستی سے سیاست کے افق پر طلوع ہوئے ہیں۔ان کے سامنے پی ٹی آئی کے بڑے بڑے لیڈر گہنا کے رہ گئے ہیں۔

اپوزیشن کو عمران خان کے بعد کسی سے تکلیف ہے تو وہ قاسم خان سوری ہیں۔ یہ کوئی کم اعزاز کی بات نہیں۔ اب دیکھتے ہیں اِن کے معاملے میں ’’وہ عمر رسیدہ بزرگ ‘‘ کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ میرے خیال میں ان کی مرضی کے بغیر بھی تنکا اِدھر اُدھرنہیں کیا جا سکتا۔

مولانا فضل الرحمن کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ انہی کی اجازت سے انہوں نےشہرِ اقتدار پر لشکر کشی کی۔ یعنی فصیل ِ شہر کے ہر برج ہر منارے پرانہی کے مہرے کماں بدست ہیں۔ بعض صحافی بھی جو کل تک عمران خان کے حامی تھےلو وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عمران خان استعفیٰ دیدیں اور چلے جائیں

written-by-mansoor-afaq-published-by-daily-jang