رانا شمیم کی کہانی ۔جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی

شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء SZABUL کے وائس چانسلر ڈاکٹر رانا محمد شمیم پاکستان کے قانونی اور سیاسی حلقوں کے لیے کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں آپ طویل عرصہ کامیاب وکالت کرنے کے بعد مختلف اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے اور سندھ ہائی کورٹ کے جج بنے اور پھر گلگت بلتستان میں چیف ایپلٹ کورٹ کے چیف جسٹس رہے وہاں تین سال تک اپنے عہدے کی آئینی مدت مکمل کی اور آجکل شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء کے وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی منظوری سے چار سال کے لیے وائس چانسلر مقرر کیا گیا اور یونیورسٹی اینڈ بورڈز حکومت سندھ کے سیکرٹری کی جانب سے 2 ستمبر 2019 کو انہیں وائس چانسلر مقرر کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ۔

23 دسمبر 1950 کو دیہہ بھٹہ عارف والا میں پیدا ہوئے آپ کے والدین بیکا نائر راجستھان ریاست سے ہجرت کرکے 47 میں پاکستان آئے تھے ۔رانا شمیم نے خانیوال کے گورنمنٹ ہائی اسکول سے میٹرک کیا اسلامیہ کالج خانیوال سے ایف اے کیا گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے پولیٹیکل سائنس پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیا ۔بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا اور کراچی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی بن گئے ۔
انھوں نے 1972 سے 1975 تک TAQ کارگو کمپنی میں بطور لاءافسر ملازمت کی ۔پھر میسرز میکنین اینڈ مکینزی برٹش کمپنی کے ساتھ رہے ۔ڈسٹرک کورٹ نے وکالت کرنے کے بعد انیس سو چھیاسی میں سند ھ ہائیکورٹ میں انرولمنٹ ہوا ۔

کراچی میں 1983 میں وکالت شروع کرنے کے بعد بہت جلد انہوں نے اپنے شعبے میں کامیابیوں کی نئی منازل طے کرلیں ۔
2005 میں انہیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا نائب صدر منتخب کیا گیا ۔
2010 سے لے کر 2015 تک پاکستان بار کونسل کے ممبر رہے ۔
2007 میں انیثین ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا ۔
وہ پراسیکیوٹرجنرل پر قائم مقام ایڈووکیٹ جنرل سندھ بھی رہے ۔
پین لیگل ایڈوائزر کے طور پر ندر لینڈ اٹلی امریکا اسپین فرانس کینیڈا اور مختلف یورپی ملکوں کے لیے قانونی خدمات انجام دیتے رہے ۔
جنوری انیس سو اٹھاسی سے لے کر دسمبر 1992 تک پانچ سال یونائیٹڈ نیشن ہائی کمیشن ریفیوجیز کے لئے لیگل ایڈوائزر ہے ۔
دسمبر انیس سو چھیانوے سے مارچ 1998 تک ایک سال چار مہینے تک پبلک پراسیکیوٹر رہے ۔
دسمبر انیس سو تراسی سے بھائی 2007 تک تقریبا 24 سال تک انہوں نے ڈسٹرکٹ کورٹس ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں لا پریکٹس کی ۔

1993 سے نومبر 2007 تک انہوں نے برٹش ڈپٹی ہائی کمیشن کراچی اور امریکی کونسلیٹ کراچی کے لیے بطور لیگل ایڈوائزر خدمات انجام دیں ۔
ماہ 2007 سے نومبر دو ہزار سات تک وہ حکومت سندھ کے لیے پراسیکیوٹر جنرل کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے ۔نومبر 2007 سے لے کر نومبر 2008 تک ایک سال سندھ ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے فرائض انجام دیے بھائی 2011 سے لے کر دسمبر 2014 تک تقریبا تین سال آٹھ مہینے تک فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لیگل ایڈوائزر بھی رہے ۔جنوری 2015 سے اگست 2015 تک تقریبا آٹھ مہینے آپ نے پریس کونسل آف پاکستان کے چیئرمین کی حیثیت سے فرائض انجام دیے ۔
اگست 2015 سے لے کر اگست 2018 تک تین سال ایک مہینہ سپریم کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جج رہے ۔

آپ نے جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی ڈگری رول آف جوڈیشری ان انفورسمنٹ آف فنڈامنٹل رائٹس 2001 سے 2004 کے دوران کی ۔
اس سے پہلے کراچی یونیورسٹی سے ماسٹر اف لا کریمنالوجی اینڈ لا آف ایویڈ ینس 1984 سے انیس سو چھیاسی تک کیا ۔
ستمبر 2015 میں جب وہ گلگت بلتستان حلف لینے پہنچے تو ان کی حلف برداری پر تنازع پیدا ہوا گلگت بلتستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے انہیں غیر مقامی شخص قرار دے کر ان کی تقرری کا بائیکاٹ کیا علمداری کی تقریب میں وزیراعلی حفیظ الرحمن شریک ہوئے شرکت کرنے والے بعد سابق ایڈووکیٹ جنرل سمیت کچھ وکلاء کے خلاف وہاں کی ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایکشن لیا چاروں ہلا کی ممبر شپ معطل کرنے کا اعلان کیا گیا جن میں منظور ایڈوکیٹ اسد ملک ایڈوکیٹ حقنواز ایڈوکیٹ اور عمر فاروق ایڈوکیٹ شامل تھے ۔
کچھ عرصہ بعد رانا شمیم کی وجہ سے دل کے بلتستان کے وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمان خود کو مشکلات میں محسوس کرنے لگے کیونکہ ان کی جعلی ڈگری کا کیس عدالت میں چل گیا اس کا فیصلہ آنے والا تھا کہ عین وقت پر بیچ کے دوسرے جج کی غیر حاضری کی وجہ سے فیصلہ موخر ہوا اور پھر رانا شمیم کے عہدے کی مدت مکمل ہوگی اس طرح کہا جاتا ہے کہ وہاں کے وزیراعلی بچ گئے ۔
سپریم کو ایپلٹ کورٹ گلگت بلتستان کے دور میں انہوں نے گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے نئے قانون کو معطل بھی کردیا تھا اور شارٹ آرڈر میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیئرمین گلگت بلتستان کونسل وفاقی وزیر برائے کشمیر گلگت بلتستان اور جوائنٹ سیکرٹری آف کونسل کو قانون کی خلاف ورزی کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا تھا بعد ازاں سپریم کورٹ میں یہ معاملہ گیا تھا اور اس کا فیصلہ ہوا تھا ۔گلگت بلتستان میں جوابی کارروائی کے طور پر رانا شمیم کی پنشن روکنے کے حوالے سے معاملہ اٹھا تھا اور اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کی جانب سے اعتراضات اٹھائے گئے تھے کہ ان کی عمر ریٹائرمنٹ کی عمر کو کراس کر چکی ہے ۔اس حوالے سے وفاقی حکومت سے بھی تفصیلات طلب کی گئی تھی ۔
ستمبر 2019 میں حکومت سندھ نے رانا شمیم کو شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء کا وائس چانسلر مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے بعد وہ اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں ۔