کمزور تفتیش کی وجہ سے عدالت سے منشیات فروش رہا ہوجاتے ہیں

 کراچی(9 نومبر)سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون ، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ سندھ حکومت منشیات کی لعنت کے خاتمے کے لئے وفاقی اداروں سمیت کسی کے ساتھ بھی کام کرنے کے لئے تیار ہے منشیات کے خاتمے کے لئے سندھ حکومت نے کئی اقدامات ٹھائے ہیں اس لعنت کو جڑ سے ا ±کھاڑنے کے لئے پورے معاشرے کو آگے آنا ہوگا وہ ہفتے کو ڈرائیونگ لائسنس برانچ میں منشیات کا استعمال اور قانون کی حکمرانی سے متعلق منعقدہ سیمینار سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ حال ہی میں حکومت سندھ نے گٹکے پر پابندی کا قانون بنایا جس کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں گٹکے سمیت منشیات کی لعنت کو ختم کرنے کے لئے ہم پرعزم ہیں اس طرح کے مزید قوانین پر سندھ حکومت کام کررہی ہےپولیس اور دیگر قانون نافز کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ سوسائٹی کو بھی اس لعنت کے خاتمے کے لئے کام کرنا ہوگا بحیثیت قوم ہم وعدہ کریں کہ منشیات کے معاملے پر کوئی کمپرومائیز نہیں کرینگے بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ پولیس کتنے بھی کیسز بنا لے لیکن کمزور تفتیش کی وجہ سے عدالت سے منشیات فروش رہا ہوجاتے ہیں سندھ حکومت کی طرف سے ہر قسم کی قانون سازی کرنے کے لئے تیار ہیں انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ڈرگ ٹیسٹ کا قانون بھی پاس کرنے کے لئے تیار ہیں مگر اس قانون پر عملدرآمد کے لئے سوسائٹی کو آگے آنا ہوگا کہیں ایسا نہ ہو پھر اس قانون پر بھی کمپرومائیز کیا جائے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کبھی بھی کسی منشیات کے ملرم کی سرپرستی نہیں کرتی جن کوپکڑا جاتا ہے کمزورکیس کی وجہ سے وہ آزادہوجاتا ہے انہوں نے کہا کہ پولیس کو ایک مرتب پھراس ملزم کو پکڑنے میں توانائیاں استعمال کرنی پڑتی ہیں اسکول اورکالیجز میں منشیات سپلائیرز کو سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے پکڑ سکتی ہے ہم سوسائٹی فورسز اوراداروں کے ساتھ ہیبں تاکہ منشیات کے استمال کو ختم کیا جاسکے۔ بریگیڈئیر ناصر جنجوعہ ڈی جی نارکوٹکس نے اپنے خطاب میں کہا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس اپنے فرائض میں مصروف عمل ہےمنشیات کے عذاب سے نجات تب ہی ممکن ہے جب معاشرہ تعاون کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب مسائل کو سمجھتے ہیں کراچی دنیا کا دوسرا سب سے بڑی آبادی رکھنے والا شہر ہےہماری 4۔6 ملین آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے کراچی اہم شہرہے اور یہاں معیاری اسکول ہیں ان اسکولوں میں بچوں اور والدین کو آگاہ کرنااور ان مسائل پر اعتماد میں لینا پڑے گا ہمیں معاشرے کی ان برائیوں سے ملکر لڑنا اور نجات پانا ہوگی۔ ڈی آئی جی ضلع جنوبی شرجیل کھرل نے کہا کہ بدقسمتی سے منشیات کی لعنت ہماری سوسائٹی میں داخل ہوچکی ہے منشیات کی لعنت نے ہمارے نوجوانوں کو زیادہ متاثر کیا ہےڈپریشن، امتحانات کا دباو ¿ منشیات کے استعمال کی وجوہات ہیں انہوں نے کہا کہ چار ماہ میں ہم نے منشیات کے استعمال کے 953 کیسز رجسٹر کئے ہیں بدنام زمانہ ملزم شہباز کو ہم نے گرفتار کیاشہباز ہر قسم کی منشیات سپلائی کرتا تھاوالدین نہ صرف اپنے اسکول جانے والے بچوں پر بلکہ گھر کے ملازمین پر گہری نگاہ رکھیں۔گھروں میں کام کرنے والے گارڈز، خانسامہ، ڈرائیورز کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔بچوں کی انٹرنیٹ کے استعمال پر بھی نظر رکھی جائے۔تعلیمی اداروں میں تواتر کے ساتھ ڈرگ ٹیسٹ کئے جانے چاہییں۔ ینڈآو ¿ٹ نمبر۔۔۔1020

       

 

 

       

 
 

            

اپنا تبصرہ بھیجیں