ہمدرد یونیورسٹی کا سفر ۔حکیم سعید کے خواب سے لے کر سعدیہ راشد کی سربراہی تک ۔ایک روشن باب

جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی خصوصی رپورٹ

عظیم لوگ ہمیشہ بڑے خواب دیکھتے ہیں ۔
قدرت ان کے خوابوں کی تعبیر دے کر انہیں عظمت بخشتی ہے ۔
خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ ۔جو ایسے ہی کسی بڑے خواب کی تعبیر کے سفر سے جڑ جاتے ہیں ۔ان پر بھی قدرت کی خاص عنایت اور مہربانی ہوتی ہے اور وہ بھی اس یادگار سفر کے مسافر بن کر ایک اعزاز حاصل کرتے ہیں اس لئے قدرت نے انہیں خاص منصب اور خاص کاموں کی انجام دہی کے لیے منتخب کیا ہوتا ہے ۔

ہمدرد یونیورسٹی کا سفر شہید حکیم محمد سعید کے خواب سے شروع ہوتا ہے اور آج یونیورسٹی چانسلر محترمہ سعدیہ راشد کی سربراہی تک ۔یقینی طور پر یہ سفر ایک روشن باب کی صورت میں نظر آتا ہے اور ہمارے سامنے ایک کامیاب ترین، مثالی، شاندار اور بہترین درسگاہ کے روپ میں موجود ہے ۔
شہید حکیم محمد سعید تو پورے پاکستان کے عظیم ہیرو ہیں تعلیم ،طب،تحقیق ادب تاریخ اور تصنیف سمیت مختلف شعبوں میں ان کی خدمات بے مثال اور ناقابل فراموش ہیں ۔
ان کی شخصیت آنے والی نسلوں کے لیے ایک آئیڈیل حیثیت رکھتی ہے انہوں نے بچوں اور نوجوانوں کے حوالے سے کردار سازی پر جتنی توجہ دی اور محنت کی ۔کم ہی لوگوں نے ایسا سوچا اور کیا ۔
شہید حکیم محمد سعید کے بارے میں بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے لیکن ان کی شخصیت میں بے پناہ خوبیاں تھیں ان کے اوصاف گنوانے اور ان کا تذکرہ کرنے کے لئے الفاظ اور جگہ کم پڑ جاتی ہے ۔اللہ تعالی کا ان پر خاص کرم تھا وہ ایک سادہ مگر انتہا کے ذہین ،کابل محنتی باصلاحیت بازوق انسان تھے ۔


شرافت متانت دیانت ان کی پہچان تھی ۔
اعلی اخلاقی اقدار ان کو خاندانی ورثے میں ملی تھیں ۔انہوں نے اپنے آباواجداد کا نام مزید روشن کیا ۔وہ ان باکمال اور گنے چنے لوگوں میں شامل تھے جو اپنے لئے نہیں جئے بلکہ ساری عمر ساری حیات دوسروں اور آنے والی نسلوں کو بہتر ماحول فراہم کرنے کی کوششوں کے لئے وقف کئے رکھی ۔
وہ صحیح معنوں میں معمار پاکستان تھے ۔پاکستانی بہن بھائیوں اور بچوں پر ان کے بہت سے احسانات ہیں عنا یات ہیں ان کا بدلہ نہیں اتارا جا سکتا ۔
وہ بے لوث خدمت پر یقین رکھنے والے مخلص اور ہمدرد انسان تھے ۔
ہمدرد یونیورسٹی ان کے عظیم خواب کی تعبیر ہے نبی یونیورسٹی 28 سال کی ہو چکی ہے تقریبا تین دہائیوں کا یہ سفر بھرپور کامیابیوں پر مشتمل ہے ۔یہاں پڑھانے اور پڑھنے والے دونوں ہی خود کو خوش قسمت مانتے ہیں اتنا بہترین آئیڈیل تعلیمی ماحول خوابوں میں ملتا ہے لیکن ہمدرد یونیورسٹی کے چانسلر محترمہ سعدیہ راشد اور وائس چانسلر ڈاکٹر سیّد شبیب الحسن کی سربراہی میں پوری انتظامی اور تدریسی ٹیم نے اسے ایک حقیقت کا روپ دے رکھا ہے ۔


انیس سو اٹھانوے میں حکیم محمد سعید کی شہادت کے بعد یونیورسٹی کے سفر کو کامیابی سے جاری رکھنا کسی طور پر بھی آسان کام نہیں تھا یہ بہت مشکل اور بڑا مرحلہ تھا زبردست چیلنج صحرا جسے محترمہ سعدیہ راشد کی سربراہی میں انکی ذہین محنتی اور کمٹڈ ٹیم نے قبول کیا اور شہید حکیم محمد سعید کی تربیت و ہدایات کی روشنی میں ہمدرد یونیورسٹی کے سفر کو آگے بڑھایا جس پر محترمہ سعدیہ راشد اور ان کا ساتھ نبھانے والے سب کے سب لوگ واقعی زبردست مبارکباد کے حقدار ہیں وہ سب جو اس سفر میں شریک رہنے کے بعد ریٹائر ہوگئے اور وہ سب جو آج بھی ٹیم کا حصہ ہیں ۔ہمدرد یونیورسٹی کے رجسٹرار پرویز میمن اور مختلف ڈیپارٹمنٹس کے ڈینز کی کوششیں اور خدمات قابل تعریف ہیں جن میں فیکلٹی آف انجینئرنگ سائنس نائن ٹیکنالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین ،فیکلٹی آف لاء کے سربراہ سابق جسٹس پروفیسر ڈاکٹر قمر الدین بوہرہ ،فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز محی الدین ،فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ایم کامران نقی خان ،فیکلٹی آف فارمیسی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اظہر حسین ،فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے سربراہ ڈاکٹر اسداللہ لاڑک،فیکلٹی آف ہیلتھ اینڈ میڈیکل سائنسز کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرؤف میمن شامل ہیں ۔

 

یونیورسٹی کی گزشتہ سالانہ رپورٹ 2018 کا جائزہ لیا جائے تو تمام فیکلٹیز اور مجموعی کارکردگی کامیابیاں اپنی مثال آپ نظر آتی ہیں یونیورسٹی کی جانب سے طلبہ کو گئے ترین تدریسی ماحول کی فراہمی کے ساتھ ساتھ صحت مند سرگرمیوں کے شاندار مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں مجموعی طور پر ان سرگرمیوں کو سالانہ رپورٹ میں اجاگر کرنے والوں میں ایڈیٹوریل بورڈ کی ایڈیٹرانچیف یمنا بتول ،سمیلیٹر کوثر عمران اور ڈیزائنر سہیل آمین کا کام بھی قابل تعریف نظر آتا ہے ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ یونیورسٹی کے 23ویں کانووکیشن میں مجموعی طور پر چودہ سو تیرہ طلباء کو اسناد عطا کی گئی جن میں بارہ سو چھ بیچلرز اور ماسٹرز تیرا پی ایچ ڈی ،107 ایم فل اور 87 ایم ای شامل تھے ۔
جیوے پاکستان ڈاٹ کام اپنی آئندہ اشاعتوں میں ہمدردیونیورسٹی کی مزید کامیابیوں اور سرگرمیوں کے حوالے سے اپنے قارئین کو آگاہ کرتا رہے گا ۔



ISLAMABAD, MAR 18: Speaker National Assembly, Asad Qaiser distributes degrees among students on the occasion of a ceremony held at International Islamic University.=DNA PHOTO