مزدوروں کے لئے تعمیر کئے گئے فلیٹس اور مکانات کی فراہمی کے لئے صاف و شفاف طریقہ اپنایا جائے۔سعید غنی

مزدوروں کے لئے تعمیر کئے گئے فلیٹس اور مکانات کی فراہمی کے لئے صاف و شفاف طریقہ اپنایا جائے۔سعید غنی
صوبے بھر میں تیار 4242 فلیٹس اور مکانات کی الاٹمنٹ کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔
وزیر اطلا عا ت و محنت سعید غنی کی زیر صدارت اجلا س
کراچی 8نو مبر ۔ وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ورکر ویلفئیر بورڈ محکمہ محنت کے تحت صوبے بھر میں مزدوروں کے لئے تعمیر کئے گئے فلیٹس اور مکانات کی فراہمی کے لئے صاف و شفاف طریقہ اپنایا جائے اور صوبے بھر میں تیار 4242 فلیٹس اور مکانات کی الاٹمنٹ کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔ مزدوروں اور محنت کشوں کو شادی مدد، ڈیتھ گرانٹ اور اسکالرشپ کے حوالے سے بھی ایسی پالیسی فوری طور پر ترتیب دی جائے کہ ضرورت مندوں کو فوری طور پر اس کے فوائد حاصل ہوسکیں۔ ورکر ویلفیئر بورڈ کے تحت چلنے والے پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کی حالت زار کو بہتر بنایا جائے اور اساتذہ کو پرموشن دینے کے حوالے سے ایسی پالیسی مرتب کی جائے تاکہ ان کے مسائل بی حل کئے جاسکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز اپنے دفتر میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری محنت عبدالرشید سولنگی، سیکریٹری ورکر ویلفئیر بورڈ محمد بچل راہو پوٹو، شہلا کاشف، احتشام میو، مظفر شاہ، میڈم نزہت حبیب، رفیق چنا اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر سعید غنی کو ورکر ویلفئیر بورڈ کے تحت صوبے بھر میں لیبر کالونیوں اور فلیٹس اور مکانات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ لیبر کالونی حیدرآباد اور شہید بینظیر آباد کے کچھ فلیٹس اور مکانات پر 2010 میں سیلاب کے بعدوہاں سیلاب سے متاثرہ افراد کو فوری ریلیف کے لئے رہائش فراہم کی گئی تھی تاہم اب تک ان متاثرین نے ان فلیٹس اور مکانات سے قبضہ ختم نہیں کیا ہے جبکہ صوبے بھر میں دیگر اضلاع میں قائم لیبر کالونیوں میں تمام قابضین سے مکانات کو خالی کرالیا گیا ہے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ کوٹری میں 512،سکھر میں 1024، نوری آباد میں 192، شہید بینظیرآباد میں 512 جبکہ لاڑکانہ میں 96 فلیٹس جبکہ رانی پور میں 100 اور جیکب آباد میں 74 مکانات مکمل طور پر تیار ہیں اور ان سب کی مجموعی تعداد 4242 ہے اور یہ تمام الاٹمنٹ کے لئے مکمل تیار ہیں جبکہ کوٹری میں 1500 فلیٹس کی تعمیر کے لئے ورک آرڈر جاری کردیا گیا ہے اور مزید 3 لیبر کالونیوں کے حوالے سے کام جاری ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ 4242 فلیٹس اور مکانات کی الاٹمنٹ کو صاف اور شفاف بنانے اور ان کی فراہمی کے لئے اب تک جو درخواستیں مزدوروں اور محنت کشوں کی جانب سے جمع کرائی گئی ہیں اور بقیہ کے لئے بھی فوری اقدامات کئے جائیں اور ان تمام کی اسکرونٹی کرکے فلیٹس اور مکانات کی الاٹمنٹ جاری کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی روٹی، کپڑا اور مکان کے منشور پر کارفرما ہے اور ہم جب بھی حکومت آئے ہیں ہم نے مزدوروں کی رہائش کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی لیبر کالونیوں کی تعمیر کے حوالے سے بھی تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے اور جو لیبر کالونی ہیں ان میں درپیش مسائل کو بھی حل کیا جائے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی کو ورکر ویلفیئر بورڈ کے تحت شادی مدد، ڈیٹھ گرانٹ اور اسکالرشپ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ماضی میں ان کی ادائیگیوں میں کچھ مسائل تھے، جس کو حل کیا جارہا ہے اور اب تک کراچی، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں اسکالرشپ کے 431 کیسز میں ادائیگی کردی گئی ہے جبکہ شادی مدد کے 375 اور ڈیتھ گرانٹ کے 29 کیسز میں بھی ادائیگی کردی گئی ہے جبکہ شادی مدد کے 897 اور ڈیتھ گرانٹ کے صوبے بھر کے87 کیسز کی اسکرونٹی کا عمل مکمل کرکے اس کی تمام کارروائیاں مکمل کرلی گئی ہیں اور اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے اعتراضات کے لئے بھی اشتہار دی دیا گیا ہے اور مقررہ وقت تک اگراس حوالے سے کوئی اعتراض نہیں آتا تو ان کی ادائیگی بھی کردی جائے گی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر محنت سعید غنی نے کہا کہ شادی مدد، ڈیتھ گرانٹ اور اسکالرشپ کے لئے آنے والی درخواستوں کو ہنگامی بنیادوں پر نمٹایا جائے تاکہ اس کا فوری فائدہ مزدوروں اور محنت کشوں کو حاصل ہوسکے۔ ویلفیئر بورڈ کے اکیڈمک سیکشن کی ڈپٹی سیکریٹری میڈم نزہت حبیب اور ڈپٹی سیکرٹری ایڈمن رفیق چنا نے صوبائی وزیر کو بورڈ کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں میں 9800 سے زائد طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ مزدورں کے 38 ہزار سے زائد بچوں کو فراہم اسکول یونیفارم، کورس، جوتے اور بیگز کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا جبکہ اسکولوں کی مرمت اور ان کے فرنیچر سمیت دیگر کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ بورڈ کے تحت اسکولوں میں 15 ہزار سے زائد بچوں کی گنجائش کے باوجود یہاں پر داخلے 9800 ہیں اس کی وجوہات اور ان کے سدباب کے لئے اقدامات کئے جائیں جبکہ مزدورں اور مھنت کشوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم اور اگر وہ کسی نجی کالج یا جامعات میں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کی اسکالرشپ کے حوالے بھی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے سیکریٹری محنت کو ہدایات دی کہ بورڈ کے زیر انتظام لیبر کالونیوں اوراسکولوں کا معائنہ کرکے وہاں کی مکمل رپورٹ انہیں دی جائے اور جہاں جہاں ان کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے اس حوالے سے تجاویز مرتب کی جائیں۔