وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی نے کراچی میں پاکستانی سی فیئررز اور رجسٹرڈ میننگ ایجنٹس کے ساتھ ان کے مسائل اور تجاویز سننے کیلئے دوسرے سہ ماہی اجلاس میں شرکت کی

وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی نے کراچی میں پاکستانی سی فیئررز اور رجسٹرڈ میننگ ایجنٹس کے ساتھ ان کے مسائل اور تجاویز سننے کیلئے دوسرے سہ ماہی اجلاس میں شرکت کی اور سی فیئررز کی فلاح کیلئے اٹھائے جانے والے اہم اقدامات کا بھی اعلان کیا. اس سلسلہ کی پہلی ملاقات اگست کے مہینے میں ہوئی جس میں یہ طہ پایا تھا کہ اس طرح کے اجلاس با قائدگی سے ہر سہ ماہی میں منعقد کئے جائیں گے. سائن آن اور سائن آف کی شرط ختم کرنے اور کراچی کے علاوہ دیگر شہروں میں میڈیکل کی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا جسے سی فیئررز اور میننگ ایجنٹس نے سراہا.

“ہمیں زرِمبادلہ کے حصول تمام ذرائع استعمال کرنے کی ضرورت ہے اور سی فئئررز کی بھیجی جانے والی رقوم بھی اس کا ایک اہم جز ہیں. بین لاقوامی سروسز مارکیٹ میں فلپائن جیسی چھوٹی آبادی والے ملک سے سی فئیررز کی بڑی تعداد کا حصہ ہونا ایک قابلِ تقلید مثال ہے. ہماری افرادی قوت صلاحیتوں میں کسی قدر پیچھے نہیں. ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ صحیح سمت میں اقدامات اٹھائے جائیں. ریڈ ٹیپ ازم اور غیر ضروری رکاوٹوں سے آزاد سی فئیرر ہی نہ صرف ملک کی دنیا بھر میں مؤثر نمائیندگی کرسکے گا بلکہ ملکی ترقی میں بھی اپنا حصہ ڈال سکے گا.” علی زیدی نے کہا.

پہلے اجلاس میں کئے گئے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے علی زیدی نے سائن آف اور سائن آن کی شرط ختم کرنے کا اعلان کیا. اس اعلان کے بعد کسی غیر ملکی جہاز جوائن کرنے کیلئے اب سی فیئررز کو شپنگ ماسٹر سے این او سی لینے کی ضرورت نہیں رہے گی بشرطیکہ وہ ا) ویلیڈ پاسپورٹ اور ویزہ، ب) ویلیڈ ایس ایس بی، ج) ویلیڈ ایس آئی ڈی کارڈ، د) میننگ ایجنٹ سے اپوائینٹمنٹ لیٹر، اور جہاز کے مالک سے ایمپلایمنٹ لیٹر کا حامل ہو. انہوں نے شرکاء کو یقین دہانی کرائی کہ سی فیئررز کیلئے اوکے ٹو بورڈ پالیسی کے اطلاق کیلئے وزارتِ خارجہ کے مسلسل رابطے میں ہیں.

اس کے علاوہ ساٹھ سالہ سی فیئررز کو اب دس سالہ معیاد کی ایس ایس بی جاری کی جائے گی. کراچی کے علاوہ دیگر شہروں میں میڈیکل فسلٹی کی فراہمی کیلئے ڈاکٹز کے پینل کو مزید وسعت دی جا رہی ہے. اس سے پہلے صرف ایک ڈاکٹر کراچی میں اس فریضے کو سر انجام دے رہا تھا جس میں سی فیئررز کو مشکلات کا سامنا تھا. ایک اور مسئلہ جو کہ اس سال کے شروع میں منظرِ عام پر آیا وہ ایس آئی ڈی کارڈ کے اجراع کا رکنا تھا جسے ہنگامی بنیادوں پر نادرا اور کے پی ٹی کے تعاون سے حل کر لیا گیا. مزید یہ کہ، اس کیلئے ایک مستقل نظام کیلئے فنڈ جاری کردیا گیا ہے. مشین ریڈ ایبل ایس آئی ڈی کارڈ نادرا سے جاری کئے جائیں گے.

شپنگ آفس کے ڈیٹا کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے، جس سے آن لائن تصدیق ممکن ہوگی. جو کہ پوری منسٹری کو ڈیجیٹل کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے. “میری ٹائم آفس پیپر لیس انوائرنمنٹ کی طرف جا رہا ہے. ای آفس متعارف کرایا جا رہا ہے. اس بات کا یقین کیا جا رہا ہے کہ میری ٹائم منسٹری عالمی معیار کے مطابق اپنا کام سر انجام دے سکے”، علی زیدی.

گورنمنٹ شپنگ آفس کے پبلک ڈیلنگ کے اوقات کو سہ پہر ایک بجے سے بڑھا کر تین بجے تک کر دیا گیا ہے. اسی طرح کسی بھی ہنگامی صورتحال کیلئے چوبیس گھنٹے سہولت بھی فراہم کی جارہی ہے.

سی فیئررز کو اعلی تعلیم اور ان کے ڈپلومہ کو ڈگری میں بدلنے میں مدد کیلئے چالیس سے ذیادہ کیڈٹس کو مختلف یونیورسٹیز میں ایڈمیشن میں مدد دی گئی ہے. دیگر یہ کہ پاکستان میرین اکیڈمی میں کے پی ٹی، پی این ایس سی اور پی کیو اے کے اشتراک سے 37 سکالر شپس کا اجراء کیا گیا ہے. یہ سکالرشپ اگلے چار سال تک مسلسل فراہم کئے جائیں گے.

” اس اجلاس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ گورنمنٹ لوگوں کے مسائل سننے اور حل کرنے کیلئے نہایت سنجیدہ ہے” علی زیدی. آخر میں علی زیدی نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے اور سی فیئررز کے مسائل اور تجاویز سنیں. اگلا سہ ماہی اجلاس فروری میں منعقد ہوگا.