ریاست مدینہ میں کسی شہری کو لاپتہ نہیں کیا جاتا تھا باقی آپکی مرضی ۔۔۔۔۔

کوئی پچیس برس ادھر کی بات ہے ، کراچی بدامنی کی لپیٹ میں تھا نسلی لسانی بنیادوں پہ قتل و غارت گری کے واقعات عروج پہ تھے حکومت بے نظیر بھٹو کی تھی اس سارے عرصے میں ڈبل سواری پہ پابندی تھی اور تیرہ ڈی {غیر قانونی پسٹل کا مقدمہ } خوف کی علامت تھا ۔۔۔۔
فرسٹ ائیر کا ایک بچہ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے عزیز آباد جارہا تھا کہ رستے میں موجود پولیس چوکی کے اہلکاروں نے اسے روک لیا تلاشی ہوئی بچے کے پاس سے کچھ نا ملا تو پولیس والوں کا اگلا سوال تھا کہ ٹی ٹی پسٹل کہاں پھینک کر آئے ہو ؟؟؟ گیارہویں جماعت کے اس طالب علم کی سٹی گم ہوگئی ان دنوں ویسے بھی پولیس کی بدمعاشی اپنی انتہاء پہ تھی موبائل یا ویڈیوز کا تو تصور بھی نہیں تھا کہ پولیس والوں کو کچھ خوف ہوتا ، بہرحال اس بچے نے ڈرتے ڈرتے بتایا کہ ٹی ٹی پسٹل اس نے کبھی خواب و خیال میں بھی نہیں دیکھی لیکن وہ پولیس والے ہی کیا کہ جو مان جاتے انکے ہاتھ تو مرغا لگ گیا تھا ۔۔۔۔ جس چوکی کے پاس یہ سب چل رہا تھا وہ خاصی مصروف سڑک پہ تھی طالب علم کے ارد گرد تیز رفتاری سے گاڑیاں گزر رہی تھیں لیکن کسے اسکی پروا تھی ؟ بے بسی کی ایک عجیب لہر اسکے رگ و پے میں اتر چکی تھی پولیس ان دنوں جتنی بدنام تھی حقیقت میں اس سے بھی زیادہ بری تھی اخبارات کا مسلسل مطالعہ کرنے والا طالب علم جانتا تھا کہ وہ بہت برا پھنس چکا ہے اور بچت کی کوئی صورت نہیں ۔۔۔۔
اسی اثناء میں ایک زیرو میٹر ہائی روف المعروف کیری ڈبہ وہاں سے گزرا کچھ آگے جاکر رکا اور ریورس ہوکر چوکی کے پاس آیا ، گاڑی سے سفید کاٹن پہنے ایک لمبا تڑنگا شخص اترا اور پولیس والوں کو سلام کرکے پوچھا کہ اس بچے کو کیوں روک رکھا ہے ؟؟؟؟؟
بچے نے اپنا مدد گار پاکر ہمت پکڑی اور مختصر الفاظ میں سارا ماجرا سنا دیا ، کہانی سننے کی دیر تھی گاڑی سے اترنے والی اجنبی نے پولیس والوں کو وہ کھری کھری سنائیں کہ انکے پاس آئیں بائیں شائیں کے سوا کچھ نہیں بچا یوں لگا جیسے پولیس والے اس اجنبی کی رعب دار شخصیت سے خاصے دب چکے ہیں ۔۔۔
قصہ مختصر ، پولیس والوں نے اس بچے کو موٹر سائیکل سمیت چھوڑنے ہی میں عافیت سمجھی ۔۔۔۔۔
اجنبی نے طالب علم سے اپنا تعارف کرایا فون نمبر دیا اور کہا کہ جب ایسا کوئی مسئلہ ہو بلا جھجھک رابطہ کرلینا ، مدد گار پاو گے ۔۔۔ اسکے بعد دونوں نے اپنی راہ لی ۔۔۔۔
کچھ وقت مزید بیتا تو دونوں کے درمیان اچھا تعلق بنا مختلف جلسے جلوسوں میں ملاقاتیں بھی ہوئیں ۔۔۔۔۔
خیر ، پولیس کے ہاتھوں ذلیل ہونے والے بچے کو فیض اللہ خان کہتے ہیں اور اسے مشکل وقت میں چھڑانے والے شخص کا نام عثمان معظم صدیقی ہے ۔۔۔
عثمان بھائی کے دو بیٹے لاپتہ ہیں خود بھی جیل میں رھے اور اب دوبارہ گمشدہ ہوچلے ہیں ۔۔۔
اپنی وال سے اس حوالے سے وہ کافی تنقید کیا کرتے تھے انہیں عدالت میں ہتھکڑیوں میں جکڑا دیکھا جہاں انتہائی مضحکہ خیز مقدمے کا انہیں سامنا ہے ، گزشتہ دنوں انکی پوسٹ سے پتہ چلا کہ ڈاکٹر اکمل وحید بھی لاپتہ ہوچکے اور یہ انکی بازیابی کے لئیے عدالتی چارہ جوئی میں مصروف تھے کہ خود بھی اسی صف میں شامل ہوگئے ۔۔۔۔۔
ہمیشہ ظلم اور جبر کے خلاف ڈٹے رھنے والے عثمان بھائی پہ پھر مشکل وقت آن پڑا ہے ، خدا انکی حفاظت فرمائے جلد گھر والوں سے ملائے ۔۔۔۔ حکمران بس یہ یاد رکھیں کہ ریاست مدینہ میں کسی شہری کو لاپتہ نہیں کیا جاتا تھا باقی آپکی مرضی ۔۔۔۔۔

written-by-faizullah-khan-
picked-from-his-fb