صوبائی وفاقی اور لوکل گورئمنٹ کچرا اٹھانے میں ناکام ہوچکی ہے

مصطفی کمال کی میڈیا سے گفتگو

صوبائی وفاقی اور لوکل گورئمنٹ کچرا اٹھانے میں ناکام ہوچکی ہے

پپلزپارٹی کو زیب نہیں دیتا کہ کنٹینر پر کھڑے ہوکر گلہ پھاڑ پھاڑ کر تقریریں کرنا

اگر اپوزیشن سنجیدہ ہے حکومت کو ہٹانے میں تو اسمبلیوں سے استعفی دے دیں

ملک میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے پچاس ہزار کا کام اب پانچ لاکھ روپے ہوتا ہے

عمران خان سے گزارش ہے کہ سختی کم کریں تاکہ کرپشن کا ریٹ کم ہوسکے

الیکشن کمیشن کے دو ارکان کا تقریر نہ ہوسکا کیونکہ اپوزیشن اور حکومت ساٹھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں

پینتالیس لاش پڑی ہیں ریلوے منسٹر سیاسی بیان دے کر حکومت بچانے میں لگے ہوئے ہیں

پاکستان کو آئینی ترمیم کی ضرورت ہے اگر آئینی اختیارات سے متعلق مارچ ہوتا تو ہم بھی شرکت کرتے

دنیا بھر میں انتخابات ہوتے ہیں میڈ ٹرم الیکشن ہوتے ہیں

دنیا بھر میں حالانکہ بھارت میں بھی الیکشن ہوتے ہیں دندھالی کا شور نہیں ہوتا

پی پی اور ن لیگ نے دو جماعتوں نے الکیٹرول ریفارمز نہیں کی ہیں

مولانا پھنسے والے سیاست دان نہیں ہیں وہ اپنے کارڈز کھیل رہے ہیں

مولانا نے ایک بڑا مجمعہ جمع کیا ہے وہ بند گلی میں نہیں پھنسے ہیں

مجھے احساس کیا ہے جس طرح وزیر اعظم نے ذات پر حملہ کیا

وزیر اعظم کو زیب نہیں دیتا اس طرح کی باتیں کرنا

مولانا صاحب کو آج جو طاقت ملی ہے الکیٹرول ریفرمز اور اختیارات کی نیچے کی سطح پر منتقلی کا کام کریں

اگر کوئی حکومت نہیں چل رہی تو الیکشن ہونا کوئی مایوب بات نہیں ہے