ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد)کے چیئرمین محسن شیخانی نے کہا ہے کہ سندھ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی کے قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث سندھ میں غیر قانونی طور پر ہونے والی تعمیرات سے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرات

کراچی 05 نومبر2019: ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد)کے چیئرمین محسن شیخانی نے کہا ہے کہ سندھ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی کے قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث سندھ میں غیر قانونی طور پر ہونے والی تعمیرات سے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔چیئرمین آباد نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ،چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ،وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ، نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفتیننٹ جنرل محمد افضل،وزیراعلیٰ سندھ کے قانونی مشیر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب اور سندھ ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سید سلمان شاہ کو خطور ارسال کیے جس میں انھوں نے سندھ بلڈنگز کنٹرول آرڈیننس 1979 کے غیر فعال ہونے اور اس کے نتیجے میں سندھ میں بڑھتی ہوئی غیر قانونی تعمیرات اور قدرتی آفات کے نتیجے میں لاکھوں افراد کی جانوں کو خطرات سے آگاہ کیا۔چیئرمین آباد نے اپنے خطوط میں حکام کو واضح کیا کہ انجینئرز،آرکیٹیڈ کی نگرانی اور زلزلہ کے ضابطوں پر عمل درآمد کیے بغیر سندھ میں غیر قانونی طور پر بننے والی عمارتیں قدرتی آفات کے نتیجے میں ریت کے گھروندے ثابت ہوں گی جس کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔انھوں نے حکام کی توجہ ایک اہم نقطہ کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ناقص مٹیریل کے استعمال سے تعمیر ہونے والی مذکورہ عمارتیں کسی بھی وقت گر سکتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ جن لوگوں نے اپنی زندگی کی جمع پونچی سے اپنے بچوں کے لیے گھر خریدا تھا وہ دوبارہ سڑک پر آجائیں گے جس سے معاشرے میں بے چینی پھیل جائے گی۔محسن شیخانی نے کہا کہ ایس بی سی او ایک ہمہ گیر قانون ہے جس کے ذریعے تعمیرات کو ضابطے میں لایا جانا اور ایس بی سی اے میں احتساب کرنا ہے لیکن افسوس کہ اس پر عمل ہی نہیں کیا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایس بی سی او کے سیکشن 4 کے مطابق اتھارٹی کو چلانے کے لیے کسی ماہر کا تقرر کیا جاسکتا ہے۔محسن شیخانی نے اپنے خطوط میں حکام کو تجویز پیش کی کہ اتھارٹی کا چیف ایگزیٹو نجی شعبے سے لیا جائے جیسا کہ لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا وائس چیئرمین نجی شعبے سے مقرر کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ سیکشن 4B کے تحت ایس بی سی او کی گورننگ باڈی ہونی چاہیے جو اتھارٹی کے تمام امور کی نگرانی کرے اور پھر ایک ڈائریکٹر جنرل تعینات ہو جو اتھارٹی کے ٹیکنیکل اور انتظامی امور انجام دے لیکن افسوس کے افسران کی ملی بھگت سے چیک اینڈ بیلنس سے بچنے کے لیے کئی برسوں سے اس عہدے کا خالی رکھا گیا ہے۔انھوں نے حکام کو تجویز دی کہ ایس بی سی او گورننگ باڈی میں تمام اسٹیک ہولڈرز مثلا آباد، پی ای سی، آئی اے پی،پی سی ٹی اے پی، ڈی جی نیب کا نمائندہ،سندھ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو شامل کیا جائے۔یہ گورننگ باڈی ڈی جی اور اس کے ماتحت افسران کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھے۔چیئرمین آباد نے کہا کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو کراچی میں بہت بڑا سانحہ رونما ہوسکتا ہے جس میں لاکھوں افراد کی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔انھوں نے کہا کہ خطوط لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ حکام کو آگاہ کیا جائے کہ سندھ میں قانونی طور پر بننے والی عمارتوں کی تعدادکے مقابلے میں غیر قانونی عمارتوں کی تعداد 10 گنا زیادہ ہے جس سے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔انھوں نے کہا کہ ایس بی سی اے کی کارکردگی بڑھانے کا قانونی طریقہ یہ ہے کہ غیر جانب دار گورننگ باڈی قائم کرکے اس کا چیف ایگزیکٹو نجی شعبے سے مقرر کیا جائے۔