بلدیہ عظمیٰ کراچی کونسل کی نئی عمارت کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور ایڈمنسٹریٹر کراچی ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے شہریوں کے ہمراہ تختی کی نقاب کشائی کی

تحریر : اطہر اقبال

پاکستا ن کا سب سے بڑا شہر کراچی بین الاقوامی شہرت کا حامل ہے جس کی وجہ اس شہر کی صنعتی اور تجارتی اہمیت ہی نہیں بلکہ کراچی میں موجود قدیم اور خوبصورت عمارتیں بھی ہیں، شہر کا مرکز کہلانے والی ایم اے جناح روڈ سے ٹاور تک کے اطراف زیادہ تر عمارتیں قدیم دور میں تعمیر کی گئی تھیں جو اس وقت کے کاریگروں کے فن کی بہترین عکاس ہیں یہ عمارتیں اس دور کے جمالیاتی ذوق کی آئینہ دار بھی ہیں، اسی ایم اے جناح روڈ پر ایک قدیم عمارت بلدیہ عظمیٰ کراچی کے صدر دفتر کی بھی ہے جسے کے ایم سی بلڈنگ کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ شاندار عمارت کراچی کی پہچان ہے جو 1775000روپے کی لاگت سے 31 دسمبر 1930 ء کو پایہ تکمیل کو پہنچی تھی جس کا باقاعدہ افتتاح 7 جنوری 1932 کو کراچی کے شہریوں کی موجودگی میں کیا گیا تھا۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کی اسی عمارت میں پہلی منزل پر کونسل ہال بھی موجود ہے جہاں میئر کراچی کی سربراہی میں ممبران کونسل کے اجلاس منعقد ہوتے رہے ہیں اور ان اجلاسوں ہی میں کراچی کی بہتری اور مسائل حل کرنے کے حوالے سے مختلف نوعیت کے فیصلے کیے جاتے ہیں مثلاً کراچی کی کس سڑک کو تعمیر کرنا ہے، کسی سڑک کو کس شخصیت کے نام سے منسوب کرنا ہے، کس جگہ پارک بنانا ہے یا کس جگہ مارکیٹ، اسی نوعیت کے دیگر فیصلے بھی کونسل ہال میں منعقد ہونے والے اجلاسوں ہی میں کیے جاتے ہیں مگر چوں کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی عمارت میں موجود کونسل ہال ماضی کی ضرورت کے پیش نظر تعمیر کیا گیا تھا اور جہاں تاحال 309 نشستیں ہی موجود ہیں تاہم آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً منتخب نمائندوں کی نشستوں میں بھی اضافہ ہوتا رہا جس کے باعث بلدیہ عظمیٰ کراچی کی اس عمارت میں موجود کونسل ہال موجودہ دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نشستوں کے اعتبار سے چھوٹا محسوس ہونے لگا لہٰذا اس امر کی فوری طور پر ضرورت محسوس کی گئی کہ شہر کے کسی ایسے مقام پر کہ جہاں مناسب جگہ موجود ہو اور شہر کے مختلف علاقوں سے آنے والے ممبران اس جگہ تک باآسانی پہنچ سکیں نیا کونسل ہال تعمیر کیا جائے۔

اِک عمارت نئی تعمیر ہوئی جاتی ہے
شہر کی اِک نئی تفسیر ہوئی جاتی ہے

نئے کونسل ہال کی تعمیر کے حوالے سے اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ سابقہ الٰہ دین پارک اور موجودہ باغ کراچی راشد منہاس روڈ پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل کی نئی عمارت تعمیر کی جائے لہٰذا 72 ایکڑ پر مشتمل باغ کراچی میں 12 ایکڑ رقبے پر کونسل ہال کی تعمیر کا فیصلہ کیے جانے کے بعد 8 جون 2023 ء کو گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور ایڈمنسٹریٹر کراچی ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے شہریوں کے ہمراہ نئے کونسل ہال کی تعمیر کے حوالے سے سنگ بنیاد رکھ دیا اس موقع پر ایک مختصر مگر پرُوقار تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، ایڈمنسٹریٹر کراچی ڈاکٹر سید سیف الرحمن، میونسپل کمشنر کے ایم سی سید شجاعت حسین، کے ایم سی کے مختلف محکموں کے افسران سمیت کراچی کے شہریوں نے بھی شرکت کی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ باغ کراچی میں کے ایم سی کونسل کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے اب یہ آنے والے میئر پر منحصر ہے کہ وہ اسے کتنی جلد مکمل کراتے ہیں، انہوں نے کہا کہ کراچی ساڑھے تین کروڑ آباد ی کا شہر ہے اگر آئندہ کبھی درست مردم شماری ہوئی تو سٹی کونسل کے ارکان کی تعداد بھی بڑھے گی اس لیے نئی عمارت میں 600 تا 800 نشستوں کی گنجائش ہونی چاہیے۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے بھی تقریب سے اظہار خیال کیا انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی کا چارج سنبھالنے کے فوری بعد انہوں نے گورنر سندھ سے کہا تھا کہ سٹی کونسل کی نئی عمارت بننی چاہیے کیوں کہ موجودہ سٹی کونسل کی مختلف ادوار میں توسیع کی جاتی رہی ہے مگر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی عمارت میں موجود 309 نشستوں کی گنجائش والا یہ ہال آنے والے 367 اراکین کی کونسل کے لیے ناکافی ہوگا لہٰذا نئے کونسل کا سنگ بنیاد رکھا جانا ضروری ہے، انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ نئے کونسل ہال کی تعمیر کے حوالے سے آج کی تقریب میں سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔

ابھی دیوار سُن رہی ہے مجھے
ابھی دَر ہوگا دیکھنا تخلیق

بلدیہ عظمیٰ کراچی کی تاریخی عمارت میں واقع سٹی کونسل ہال جہاں کراچی شہر کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جاتے ہیں یہ کونسل ہال 1932ء میں تعمیر کیا گیا تھا جس کی نشستوں میں وقتاً فوقتاً اضافہ ہوتا رہا، بلدیہ کو 1933ء میں میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا گیا تو نشستوں کی تعداد 57 تھی اور ہال میں کافی گنجائش موجود تھی، 1953ء میں بلدیاتی نشستوں میں اضافہ کرکے 100 کردیا گیا، 1960 ء میں پھر تبدیلی ہوئی تو نشستوں کی تعداد کو کم کرکے 58 کیا گیا، 1966 ء میں ایک بار پھر نشستوں میں اضافہ کرکے 103 کردیا گیا، 1979ء میں تبدیل شدہ بلدیاتی نظام کے تحت کراچی میں بلدیاتی نشستوں کی تعداد 166 ہوگئی جس کے لیے ہال میں مناسب گنجائش موجود تھی، 1983 ء میں نشستوں میں اضافہ ہوا تو 232 نشستوں کے لیے اس ہال میں ردو بدل کیا گیا، 1987 ء میں کراچی میں دوسطحی نظام نافذ ہوا تو میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ہال میں 77 نشستیں تھیں، 2001 ء میں نیا بلدیاتی ضلعی نظام نافذ ہوا تو کونسل کے ممبران کی تعداد 255 ہوگئی جن کے لیے ہال میں گنجائش نا کافی تھی جس کے باعث دسمبر 2004 ء میں سٹی کونسل ہال کی تزئین وآرائش کی گئی اور نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا، اگست 2016 ء میں بھی سٹی کونسل ہال کی تعمیر اور تزئین وآرائش کاکام کیا گیا اور نشستوں کی تعداد بڑھا کر309 کردی گئی، اس وقت اس کونسل ہال میں 309 نشستوں کی گنجائش ہے جو آنے والی کونسل جس کی تعداد 367 ہے ناکافی ہے، اس بات کے پیشِ نظر باغ کراچی میں نیا کونسل ہال تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ منتخب کونسل کو اجلاس کے انعقاد میں سہولت میسر آئے، یہ کونسل ہال اپنی نشستوں کی گنجائش اور سہولیات کے باعث آئندہ سو سال تک کے لیے کافی ہوگا۔
========================