آزادی مارچ میں جے یو آئی کارکن کا انتقال

فضل الرحمٰن کی قیادت میں نکالے گئے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے آزادی مارچ میں شریک ایک شخص اسلام آباد میں انتقال کر گیا۔

اپوزیشن جماعتوں کا آزادی مارچ 5 روز سے اسلام آباد کے ایچ نائن گراؤنڈ میں دھرنے کی صورت میں موجود ہے جس میں بڑی تعداد میں جے یو آئی ف کے کارکن شریک ہیں۔

آزادی مارچ و دھرنے میں شریک 55 سالہ شخص عبدالکریم کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد اسلام آباد کے پمز اسپتال میں منتقل کیا گیا۔

پمز اسپتال کے ترجمان کے مطابق آزادی مارچ میں موجود عبدالکریم نامی شخص دل کا شدید دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گیا۔

ترجمان پمز اسپتال کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس کو دھرنے میں شریک شخص کی وفات کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک نئی صبح کا آغاز ہوا تو جے یو آئی ف کے آزادی مارچ کے شرکاء ایچ نائن گراؤنڈ میں مختلف سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔

جے یو آئی ف کے سربراہ اور آزادی مارچ کے روحِ رواں مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن دھاندلی زدہ ہے، پارلیمنٹ کو عوام کا نمائندہ ادارہ نہیں کہا جا سکتا، اس ساری چیز کی علامت ایک آدمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے بنیادی علامت ایک سائیڈ ہو جائے، کم سے کم وزیرِ اعظم کا استعفیٰ اور زیادہ سے زیادہ اسمبلیوں کی تحلیل چاہتے ہیں، میں کارکن ہوں، بڑی اپوزیشن جماعتوں سے اپوزیشن کا اسٹیئرنگ نہیں چھینا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ تحریکِ عدم اعتماد ہی نہیں استعفیٰ تو آئینی آپشن ہے، استعفیٰ نہیں آتا تو حکومت سنجیدہ نہیں ہو گی، موجودہ الیکشن ایکٹ پر عمل کر لیا جائے تو نتائج بہتر ہوسکتے ہیں، اصلاحات کے بغیر الیکشن ہمیں بھی منظور نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اے پی سی نے طے کر دیا ہے کہ مارچ میں بیٹھے کارکن اب سب کے کارکن ہیں، مقتدر حلقوں سے موجودہ صورتِ حال میں کوئی ملاقات نہیں ہوئی، معاہدہ ہوا تو ضامن کی ضرورت نہیں، وزیرِ اعظم سے ذاتی اختلاف نہیں قومی مسئلہ ہے۔