فضل الرحمن کے خلاف بغاوت کیس : فریقین کو نوٹس جاری

لاہور ہائی کورٹ نے جمیعت علما اسلام( ف) کے سربراہ فضل الرحمان کی گرفتاری اور بغاوت کی کارروائی کے لئے درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے ایڈوکیٹ ندیم سرور کی درخواست پر سماعت کی، درخواست میں مولانا فضل الرحمان اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس دئیے کہ کسی قسم کی ملک منافی سرگرمیوں کو روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے، عدالت نے متفرق درخواست پر حکومت پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
مولانا فضل الرحمٰن کی تقاریر کو چیلنج کرتے ہوئےدرخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ مولانا فضل الرحمان اپنی تقاریر سے لوگوں کو اکسا رہے ہیں، ملک انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے ، درخواست میں کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمان نے بیان دیا کہ آزادی مارچ کے شرکا وزیر اعظم ہاؤ س جا کر عمران خان کو گرفتار کر سکتے ہیں ۔ لوگوں کو ریاست کے خلاف اکسانا بغاوت کے زمرے میں آتا ہے ۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت مولانا فضل الرحمان کو گرفتار کر کے انکے خلاف بغاوت کی کارروائی کا حکم دے ۔
واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں 27 اکتوبر سے آزادی مارچ کا اعلان کیا اور اسلام آباد میں کئی روز سے دھرنا دئیے ہوئے ہے ۔ آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحمان نے اپنے مطالبات سامنے رکھتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت دو روز میں استعفیٰ دے ورنہ آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے، یہ مجمع اس قدر طاقت رکھتا ہے وزیراعظم کو گھرسےگرفتارکرلے۔جبکہ وزیراعظم نے مولانا کے غیرجمہوری مطالبات ماننے سے انکار کردیا تھا۔تاہم تاحال مذاکرات جاری ہیں ۔ گذشتہ روز وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کا وزیر اعظم کو گرفتار کرنے کا بیان بغاوت ہے، مارچ والوں کو بتا دیتا ہوں جو وہ کر رہے ہیں سب کچھ ریکارڈ میں آ رہا ہے۔